• ستمبر 29, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 29, 2026 2:23 شام
  • پاکستان

روبیو کے مطابق اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرلیتا ہے تو تہران آبنائے ہرمز پر اپنا اثر و رسوخ بڑھا سکتا ہے

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے جوہری پروگرام پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے ایٹمی ہتھیار حاصل کرلیے تو وہ انہیں دنیا کو بلیک میل کرنے اور لوگوں کو ہلاک کرنے کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔

فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت کھلی ہے اور ایرانی تیل کو نکال کر دیکھا جائے تو اس راستے سے گزرنے والے تیل کی مقدار جنگ شروع ہونے سے پہلے کی سطح کے تقریباً قریب پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز پر کسی ممکنہ ایرانی کنٹرول کو عالمی توانائی کی رسد کے لیے خطرہ قرار دیا۔

روبیو کے مطابق اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرلیتا ہے تو تہران آبنائے ہرمز پر اپنا اثر و رسوخ بڑھا سکتا ہے، گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کرسکتا ہے اور یہ طے کرنے کی کوشش کرسکتا ہے کہ کن ممالک کو توانائی کی رسائی حاصل ہو۔ امریکی وزیر خارجہ نے ایسے ممکنہ منظرنامے کو ناقابل قبول خطرہ قرار دیا۔

امریکی وزیر خارجہ نے ایران کی موجودہ حکمرانی پر بھی تنقید کی اور ایرانی قیادت کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ تہران میں فیصلہ سازی مذہبی رہنماؤں کے ہاتھ میں ہے۔ تاہم یہ بیانات امریکی حکومت کا مؤقف ہیں اور ان میں ایران کی قیادت اور پالیسیوں کے بارے میں روبیو کے الزامات شامل ہیں۔

روبیو نے مزید الزام عائد کیا کہ ایران کو پابندیوں میں نرمی یا معاشی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی رقم عوام کی زندگی بہتر بنانے کے بجائے ہتھیاروں کی تیاری اور خطے میں اپنے اتحادی گروہوں کی حمایت پر خرچ کرتا ہے۔ انہوں نے حزب اللہ، حماس اور عراق میں شیعہ ملیشیاؤں کی مالی معاونت سمیت دہشت گردی اور مبینہ قاتلانہ منصوبوں کی حمایت کے الزامات بھی عائد کیے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل اور جوہری پروگرام دونوں اہم سفارتی مسائل بنے ہوئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان ثالثوں کے ذریعے مذاکرات کی کوششیں بھی جاری ہیں، جبکہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کو کسی بھی ممکنہ معاہدے کا مرکزی معاملہ قرار دے رہا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے