• ستمبر 18, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 18, 2026 3:35 صبح
  • پاکستان

امریکی قرارداد کے حق میں 11 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ پاکستان اور صومالیہ نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا

روس اور چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین کے پینل کی مدت میں ایک سال کی توسیع سے متعلق امریکی قرارداد کو ویٹو کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی 15 رکنی سلامتی کونسل میں امریکی مسودے کے حق میں 11 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ پاکستان اور صومالیہ نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

البتہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان روس اور چین نے اپنے صوابدیدی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ایران کے خلاف امریکا کی اس قرارداد کو ویٹو کردیا جس کے باعث قرارداد منظور نہ ہوسکی۔

ووٹنگ کے دوران روس اور چین نے قرارداد کی مخالفت کی بنیادی وجہ ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کے قانونی جواز اور اسنیپ بیک میکانزم سے متعلق اختلاف کو قرار دیا تھا۔

روس اور چین کا مؤقف ہے کہ 2015 کے جوہری معاہدے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 میں طے شدہ مدت ختم ہوچکی ہے اس لیے مغربی ممالک کی جانب سے اسنیپ بیک طریقہ کار کے ذریعے پرانی پابندیاں بحال کرنے کی قانونی حیثیت متنازع ہے۔

روس اور چین کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی میعاد 18 اکتوبر 2025 کو ختم ہوچکی ہے۔

روسی سفیر واسیلی نیبنزیا نے سلامتی کونسل میں کہا کہ ایران کے جوہری معاملے پر اختلافات کا حل سیاسی اور سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی نکالا جاسکتا ہے۔

انھوں نے مغربی ممالک پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے خلیج کے بحران کے حل کی کوششیں مزید پیچیدہ ہوں۔

چین بھی اس مؤقف کا اظہار کرچکا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 ختم ہوچکی ہے اور سلامتی کونسل کو ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے کو مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے ذریعے آگے بڑھانا چاہیے۔

خیال رہے کہ سلامتی کونسل میں اس امریکی قرارداد کا مقصد ایران پر بین الاقوامی پابندیوں کی نگرانی کرنے والے پینل آف ایکسپرٹس کا مینڈیٹ ستمبر 2027 تک یعنی مزید ایک سال کی توسیع کرنا تھا۔

خیال رہے کہ یہ پینل آف ایکسپرٹ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو پابندیوں کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی اور رپورٹنگ میں معاونت فراہم کرتا ہے۔

مغربی ممالک پابندیاں بحال ہونے پر قائم

دوسری جانب امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے عالمی جوہری معاہدے کی بعض شرائط پر عمل نہ کرنے کے باعث 2025 میں اسنیپ بیک میکانزم فعال کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی سابقہ پابندیاں دوبارہ نافذ ہوگئیں۔

برطانیہ نے سلامتی کونسل میں مؤقف اختیار کیا کہ فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے قرارداد 2231 کے تحت اسنیپ بیک کا عمل شروع کیا تھا اور ستمبر 2025 میں یہ عمل مکمل ہونے کے بعد ایران سے متعلق سابقہ پابندیاں دوبارہ نافذ ہوگئیں۔

مغربی ممالک اسی بنیاد پر پابندیوں کی نگرانی کرنے والے اداروں اور ماہرین کے پینل کو بھی فعال رکھنے کی حمایت کرتے ہیں۔

ایران پر پابندیوں کا تنازع کیا ہے؟

عالمی جوہری معاہدہ 2015 ایران کے ساتھ امریکا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین سمیت عالمی طاقتوں کے درمیان طے پایا تھا۔ معاہدے کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا تھا جس کے بدلے ایران پر عائد بعض بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی۔

اس معاہدے کی توثیق سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے ذریعے ہوئی تھی۔ معاہدے میں ایسا طریقہ کار بھی شامل تھا جسے عام طور پر اسنیپ بیک کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے کا عمل شروع کیا جاسکتا تھا۔

بعد ازاں 2025 میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے یہ طریقہ کار فعال کیا تاہم روس، چین اور ایران نے اس اقدام کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا۔ یہی اختلاف اب سلامتی کونسل میں ایران سے متعلق پابندیوں کی نگرانی کے پورے نظام کو متاثر کر رہا ہے۔

پابندیوں کی نگرانی کا پینل پہلے ہی غیر فعال

دلچسپ بات یہ ہے کہ سلامتی کونسل میں قرارداد کی شکست کے باوجود ایران پر پابندیوں کی نگرانی کرنے والا ماہرین کا پینل گزشتہ ایک سال سے عملی طور پر کام نہیں کر رہا تھا۔

رائٹرز کے مطابق سلامتی کونسل کے ارکان گزشتہ ایک سال کے دوران پینل کے ارکان کی تقرری پر اتفاق نہیں کر سکے جس کے باعث پابندیوں کی خلاف ورزیوں سے متعلق آزادانہ نگرانی پہلے ہی متاثر تھی۔

نئی امریکی قرارداد کا مقصد اسی نگرانی کے مینڈیٹ کو باضابطہ طور پر مزید ایک سال جاری رکھنا تھا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے