• اکتوبر 1, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 1, 2026 3:58 شام
  • پاکستان

ٹیڈ کازنسکی : انتہائی ذہین طالب علم ’یونابومبر‘ کیسے بن گیا؟ ہوشربا داستان

امریکا میں ’شارک‘ سڑکوں پر تیرنے لگیں

درخت کی ٹہنی گرنے سے زخمی شہری کو 8 کروڑ معاوضہ دینے کا حکم

بھارت میں کیا اب گدھے نرس کی ذمہ داریاں نبھائیں‌ گے؟ نرسنگ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری

(یکم اکتوبر 2026): کیا آپ ایسے گاؤں کے بارے جانتے ہیں جہاں ایک رکشا ڈرائیور بھی کروڑ پتی ہے ہر گھر محل جیسا ہے اور ہر ایک کے پاس لگژری کار ہے۔

گاؤں کا نام ذہن میں آتے ہی کچے پکے راستے اور چھوٹے چھوٹے کچے پکے گھر کا منظر آتا ہے جب کہ رکشا ڈرائیور کا پیشہ ایک غریب انسان کا تصور ابھارتا ہے۔

تاہم ہم آپ کو ایک ایسے گاؤں کی سیر کرانے لگے ہیں، جہاں ہر شخص اتنا امیر کہ رکشا چلانے والا بھی کروڑ پتی ہے۔ ہر گھر دیکھ کر محل کا گمان ہوتا ہے جب کہ ہر دروازے پر لگژری کار کھڑی دکھائی دیتی ہے۔

یہ انوکھا گاؤں پڑوسی ملک بھارت کی ریاست اتر پردیش میں واقع ہے، جس کی پہچان غریب کے طور پر نہیں بلکہ امیر گاؤں کے طور پر کی جاتی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق روہی نامی یہ گاؤں دارالحکومت دہلی سے تقریباً 80 کلومیٹر دور واقع ہے۔ یہاں کے ہر گھر کو دیکھ کر کسی محل کا گمان ہوتا ہے۔ ان گھروں پر لگے دروازے ہی لاکھوں روپے مالیت کے ہیں۔

یہاں غربت نام کو نہیں اور امارت کا یہ عالم ہے کہ ہر گھر کے باہر لگژری کار کھڑی ہوتی ہے اور یہاں کا رکشا ڈرائیور بھی کروڑ پتی ہے۔

اس گاؤں کی خوشحالی کے پیچھے کیا راز ہے، وہ جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق اس گاؤں کو انتظامیہ نے نئے سرے سے بسایا ہے۔ پرانا گاؤں اجڑنے کے بعد انتظامیہ نے پرانے گھروں اور احاطوں کو ملا کر تقریباً 50، 50 میٹر کے نئے پلاٹوں کی کٹنگ کر کے یہاں کے رہائشیوں کو دیے اور ساتھ فی کس 12 کروڑ روپے کا معاوضہ بھی دیا۔

ملنے والی اس رقم سے لوگوں نے جہاں اپنے شاندار گھر بنائے اور لگژریاں گاڑیاں خریدیں۔ مہنگے موبائل اور دیگر پرتعیش اشیا پر تمام رقم خرچ کر دی۔ تاہم کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے زمین خریدی یا دیگر میں سرمایہ کاری کی۔

وہاں اب جو پیشہ ور رکشا چلا رہا ہے تو وہ بھی بنگلے اور مہنگی کار کا مالک ہے۔ کچھ ایسے بھی ہیں، جن کے پاس مہنگے موبائل ہیں لیکن سارا پیسہ خرچ کرنے کے بعد اب ان کے پاس ان کی خراب اسکرین بدلوانے کے لیے پیسے بھی نہیں بچے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے