• ستمبر 29, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 29, 2026 9:06 شام
  • پاکستان

ٹریفک ای چالان اب بجلی کے بل میں لگ کر آئیں گے؟ تجویز پیش کر دی گئی

ایک ملک کے وزیراعظم پر موبائل فون چوری کا الزام، پارلیمنٹ نے استثنیٰ ختم کر دیا!

اہلیہ کے علاج کیلیے مسلسل جدوجہد، 81 سالہ شوہر کی ویڈیو نے سب کو رُلا دیا

پکوڑے کے اسٹال میں ’چٹنی‘ نہ ملنے پر لاتیں اور مُکے چل گئے، ویڈیو وائرل

اردو معروف شاعر امید فاضلی کے چند اشعار ایسے ہیں جنھیں ضربُ المثل کا درجہ حاصل ہوا۔ جدید غزل اور منفرد لب و لہجے کے شاعر امید فاضلی کا یہ شعر بہت مشہور ہے:

کل اس کی آنکھ نے کیا زندہ گفتگو کی تھی خیال تک نہ ہوا وہ بچھڑنے والا ہے

تقسیم ہند کے بعد امید فاضلی 1952ء میں بھارت چھوڑ کر پاکستان آئے تھے اور یہاں کراچی سکونت اختیار کی۔ ان کا متحدہ ہندوستان کے ضلع بلند شہر کے علاقہ ڈبائی سے تھا۔ وہ 17 نومبر 1923ء کو پیدا ہوئے۔ ان کا خاندانی نام ارشاد احمد فاضلی تھا لیکن اردو ادب میں امید فاضلی کے نام سے پہچانے گئے اور بطور شاعر مقبول ہوئے۔ امید فاضلی نے ابتدائی تعلیم ڈبائی اور میرٹھ کے مدارس سے مکمل کی اور اور بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ 1944ء میں وہ کنٹرولر آف ملٹری اکاؤنٹس کے محکمے سے وابستہ ہوگئے اور پاکستان آنے کے بعد یہاں اسی محکمے میں ملازمت اختیار کی۔ امید فاضلی 2005ء میں 28 اور 29 ستمبر کی درمیانی شب انتقال کرگئے تھے۔ ان کی تدفین سخی حسن کے قبرستان میں کی گئی۔

امید فاضلی اردو کے اہم غزل گو شاعر اور مرثیہ نگار تھے۔ انھوں‌ نے 15 برس کی عمر میں شعر کہنا شروع کیا اور پہلے شکیل بدایونی اور پھر استاد شاعر نوح ناروی سے شرفِ تلمّذ حاصل رہا۔ ابتداً وہ امید ڈبائیوی کے نام سے شاعری کرتے تھے۔ بعد میں امید فاضلی کا قلمی نام اختیار کیا۔ امید فاضلی کی شہرت کا سفر تو غزل گو شاعر کے طور پر شروع ہوا تھا، لیکن جب ریڈیو اور پاکستان ٹیلی وژن پر ان کے مرثیے اور سلام و نوحہ نشر ہونے لگے تو ان کا نام ملک بھر میں پہچانا گیا۔

امید فاضلی کی غزلیات کا پہلا مجموعہ دریا آخر دریا کے نام سے شایع ہوا تھا۔ اس کتاب کو 1979ء میں بہترین شعری مجموعے کے لیے آدم جی انعام دیا گیا۔ امید فاضلی کے مرثیوں کا مجموعہ سر نینوا اور تب و تابِ جاودانہ کے نام سے جب کہ حمد اور نعتیہ شاعری کی کتاب میرے آقا، منقبت کا مجموعہ مناقب کے نام سے منظرِ‌عام پر آیا۔ امید فاضلی نے قومی نغمات اور ملّی شاعری کو بھی پاکستان زندہ باد کے عنوان سے شایع کروایا۔ ان کے نعتیہ کلام پر مشتمل مجموعہ کو بھی رائٹرز گلڈ نے انعام دیا تھا۔

مشفق خواجہ جیسے نکتہ بیں قلم کار نے امید فاضلی کی شاعری پر اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا تھا، ”وہ ہمارے عہد کے ان چند شعرا میں سے ہیں جنہوں نے غزل کی کلاسیکی روایات کو جدید مفاہیم سے آشنا کرایا ہے اور غزل ہی کے علائم و رموز کی زبان میں اپنے عہد کے کرب کو بیان کیا ہے۔ امید فاضلی نے زندگی کو جس گہری نظر سے دیکھا ہے اور جس متنوع انداز سے برتا ہے اس کے مخلصانہ اور فن کارانہ اظہار نے ان کی غزل کو منفرد اور تازہ تر لہجہ دیا ہے ۔ یہی لہجہ ان کی غزل کی پہچان ہے۔ ان کی غزل محفل میں سماں باندھ دیتی ہے اور کاغذ پر رنگ بکھیر دیتی ہے۔ یہ مقام ہمارے دور کے بہت کم شعرا کو نصیب ہوا ہے کہ وہ مشاعرے میں اور مشاعرے کے باہر یکساں طور پرمقبولیت حاصل کر سکیں۔ امید کی غزل اپنی ہئیت کے اعتبار سے کلاسیکی موضوع کے اعتبار سے جدید اور روح کے اعتبار سے زندہ رہنے والی غزل کی خوب صورت مثال ہے۔ جس غزل کے دامن میں ماضی، حال اور مستقبل تینوں زمانوں کی جھلک ہو، وہی ہمارے عہد کی نمائندہ غزل کہلانے کی مستحق ہے۔”

امید فاضلی کا ایک خوب صورت شعر دیکھیے۔

یہ سرد رات، یہ آوارگی، یہ نیند کا بوجھ ہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر گئے ہوتے

امید فاضلی کے فن اور ان کی شاعری پر اردو کے مقبول شاعر جون ایلیا نے اپنی رائے دیتے ہوئے لکھا، ”امید فاضلی کی غزل کا رشتۂ وجود اعلیٰ ترین تخلیقی حالتوں سے ہے۔ وہ زمان و ذات کی خیال آگیں اور ملال آگیں معنویتوں کے حساس ترین شاعر ہیں۔ دانش کا ایک دکھ ہے جو مجھے ان کی غزلوں میں اپنی ایک عجیب سی ماجرا خیزی کے ساتھ سلسلۂ جنباں محسوس ہوتا ہے۔ وہ میرے ایک ایسے پیش رو ہیں جو اپنے پس روؤں کو متاثر ہی نہیں مرعوب بھی کرتے ہیں۔ ان کے پورے تخلیقی سرمائے کا جائزہ پیش کیا جائے تو ان کے بعض قدر داں بھی حیران رہ جائیں۔ اُن کی شخصیت میں جو خلاقانہ جامعیت پائی جاتی ہے، اس کی حرص ہماری نسل کے لیے ایک نسخۂ کیمیا ثابت ہوگی۔”

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے