• اکتوبر 1, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 1, 2026 2:08 شام
  • پاکستان

ٹیڈ کازنسکی : انتہائی ذہین طالب علم ’یونابومبر‘ کیسے بن گیا؟ ہوشربا داستان

امریکا میں ’شارک‘ سڑکوں پر تیرنے لگیں

درخت کی ٹہنی گرنے سے زخمی شہری کو 8 کروڑ معاوضہ دینے کا حکم

بھارت میں کیا اب گدھے نرس کی ذمہ داریاں نبھائیں‌ گے؟ نرسنگ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری

ہوانا (یکم اکتوبر 2026): جزیرہ نما ملک کیوبا میں بجلی اور پانی بحران کے عذاب سے دوچار شہری اب مختلف مہلک امراض کا شکار ہونے لگے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکا کی جانب سے رواں برس جنوری میں کیوبا پر سخت معاشی پابندیوں کے ساتھ ایندھن (تیل) کی فراہمی پر ناکابندی کے باعث کیوبا کے شہری بجلی اور پانی کے بدترین بحران کا شکار ہونے کے بعد وائرس پھیلنے سے مختلف مہلک امراض کا شکار ہونے لگے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکا کی جانب سے ایندھن کی ناکہ بندی کے نفاذ کے بعد سے ملک میں بجلی کا بحران شدید ہو گیا ہے اور اکثر ملک گیر طویل بریک ڈاؤن کے ساتھ دارالحکومت ہوانا سمیت دیگر علاقوں میں بجلی مستقل غائب ہو چکی ہے۔

بجلی نہ ہونے سے ملک میں پانی کی فراہمی رک گئی ہے اور قلت آب کے باعث جہاں لوگوں کی مشکلات بڑھی ہیں وہیں صفائی ستھرائی کے فقدان نے مختلف وائرس کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

20 لاکھ آبادی والے شہر ہوانا میں کئی کئی ماہ کے بعد قلیل تعداد میں پانی کی فراہمی کے باعث لوگوں کی پہلی ترجیح کھانے اور پینے کے لیے پانی کا حصول بن چکا ہے اور لوگوں کو صفائی ستھرائی کا معاملہ پس پشت ڈالنے پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ صفائی کے لیے پانی دستیاب نہیں ہوتا۔

صحت کی دیکھ بھال کے شعبے سے وابستہ ہیچا واریا کا بھی کہنا ہے کہ اس صورتحال میں سب سے پہلے صفائی ستھرائی متاثر ہوئی ہے؛ وہ خود بھی ہفتوں تک گلیوں میں پانی بیچنے والوں سے پانی خریدنے یا قریبی ٹوٹی ہوئی پائپ لائنوں سے پانی جمع کرنے پر مجبور رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی عمارت میں ہیضہ (اسہال) کی وبا پھیل چکی ہے کیونکہ کرایہ دار اپنے چھوٹے چھوٹے اپارٹمنٹس کو صاف رکھنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

ہیچا واریا نے کہا، "اس عمارت میں کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہے جو بیمار نہ ہوا ہو،” بلکہ وہ خود بھی حال ہی میں بخار اور ہیضے کے دورے سے صحت یاب ہو رہی ہیں۔

امریکا اور کیوبا دونوں ممالک کے حکام نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔

کیوبا کے محکمہ صحت کے حکام نے حالیہ دنوں میں وائرسز (بشمول وائرل ہیپاٹائٹس کی ایک قسم) کے پھیلاؤ کے بارے میں خبردار کیا ہے، کیونکہ بجلی اور پانی کی فراہمی میں مسلسل خلل پڑ رہا ہے۔

اسی طرح، اس ماہ کے اوائل میں امریکا کی جانب سے جاری کردہ ایک ہیلتھ الرٹ میں مسافروں اور رہائشیوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ "کیوبا بھر میں ہیضے جیسی بیماریوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کا تعلق پانی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی مسلسل تنزلی سے ہے۔”

اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ کاری کے دفتر (OCHA) کے مطابق، کیوبا کی تقریباً نصف آبادی اس وقت پانی کی قلت کا شکار ہیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے