• ستمبر 24, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 24, 2026 4:52 شام
  • پاکستان

حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں کشیدگی نے عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کو بھی متاثر کیا ہے

ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر یحییٰ رحیم صفوی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل نے ایران پر دوبارہ حملہ کیا تو تہران جنگ کا دائرہ بحرِ ہند تک وسیع کرسکتا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث خلیج اور بحیرۂ احمر میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں صفوی نے کہا کہ تنازع پہلے ہی خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے آگے بڑھ کر بحیرۂ احمر تک پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق اگر جنگ مزید بڑھی تو محاذ اس سے بھی آگے بحرِ ہند اور ممکنہ طور پر اس سے بھی دور علاقوں تک پھیل سکتا ہے۔

صفوی کا یہ بیان ایک واضح انتباہ کے طور پر سامنے آیا ہے، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ایران بحرِ ہند میں کس نوعیت کی فوجی کارروائی کرسکتا ہے یا اس کا ممکنہ دائرہ کیا ہوگا۔ ان کا مؤقف صرف یہ تھا کہ کسی نئے حملے کی صورت میں جنگ کا جغرافیائی دائرہ مزید وسیع ہوسکتا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں کشیدگی نے عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کو بھی متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز پہلے ہی امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کا اہم مرکز بنی ہوئی ہے، جبکہ بحیرۂ احمر اور اس سے منسلک بحری راستوں میں بھی تجارتی جہازوں کو سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔

ایران کی جانب سے اس سے قبل بھی خبردار کیا جا چکا ہے کہ امریکا کی طرف سے مزید حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کا دائرہ بڑھایا جاسکتا ہے۔ حالیہ بیان میں بحرِ ہند کا ذکر اس لیے اہم ہے کہ یہ خطہ مشرق وسطیٰ کو جنوبی ایشیا، مشرقی افریقا اور عالمی بحری تجارتی راستوں سے جوڑتا ہے۔

دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کیلئے سفارتی رابطے بھی جاری ہیں، تاہم اہم معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔ اس صورتحال میں ایرانی حکام کی جانب سے جنگ کے ممکنہ مزید پھیلاؤ کے بیانات خطے میں کشیدگی کے خطرات کو نمایاں کرتے ہیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے