• ستمبر 21, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 21, 2026 1:07 شام
  • پاکستان

عمر بڑھنے کے ساتھ دن چھوٹے ہونے کا احساس کیوں ہوتا ہے؟ تحقیق

شادی کی تقریب میں دولہا کی مشین گن سے فائرنگ

جب 24 سال سے قید بچوں نے پہلی بار سورج کی روشنی دیکھی

آگ اور بجلی کے بغیر کھانا پکانے کا بیگ، حیرت انگیز ایجاد

دوحہ: قطر کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے لیے گزشتہ تقریباً 2 ہفتوں سے سفارتی رابطے اور مختلف تجاویز پر بات چیت جاری ہے۔

ترجمان قطری وزارت خارجہ ماجد الانصاری نے بلومبرگ کو انٹرویو میں کہا کہ قطر کی ثالثی ٹیم تہران اور واشنگٹن کے ساتھ رابطے میں ہے اور مذاکرات کی بحالی کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔

انھوں نے کہا قطر کو امریکی انتظامیہ کے حکام کی جانب سے یہ یقین دہانیاں بھی ملی ہیں کہ واشنگٹن کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے۔

ماجد الانصاری نے کہا خطے میں استحکام کے لیے علاقائی حل اور ایسا بین الاقوامی اتفاق ضروری ہے جو آبنائے ہرمز سمیت اہم آبی گزرگاہوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ ان کا کہنا تھا کسی ایک ریاست کی جانب سے آبی گزرگاہ پر اپنی بالادستی قائم کر کے اسے بہ طور ہتھیار استعمال کرنا سب کے لیے خطرناک مثال بن سکتا ہے۔

جنگ جنوری 2029 تک جاری رہ سکتی ہے، امریکی سفیر

دریں اثنا، قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم الثانی کا کہنا ہے خطے میں استحکام کے لیے سفارت کاری کے ذریعے کام کر رہے ہیں، علاقائی ملکوں کو اختلافات اور کشیدگی ختم کرنا ہوگی۔

دوحہ میں انویسٹمنٹ پلیٹ فارم میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کوئی ریاست دوسری ریاست کے لیے خطرہ نہیں بن سکتی، ہمارے خطے نے بڑے زلزلے جیسے حالات دیکھے، جنگ کے اثرات سرحدوں سے بھی کہیں دورتک پہنچے، امید ہے یہ جنگ سب کے لیے ایک ویک اَپ کال ثابت ہوگی۔

انھوں نے کہا اب عملی اقدامات کرنے کا وقت آ گیا ہے، موجودہ بحران نے خطے کی سیکیورٹی اور استحکام پر سوال اٹھا دیے ہیں، توانائی، بحری راستوں اور سرمایہ کاری کے مستقبل پر بھی تشویش رہی۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے