• اکتوبر 7, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 7, 2026 12:48 شام
  • پاکستان

اخبار کے مطابق امریکی حکام کو حالیہ دنوں میں ممکنہ حملوں کے حوالے سے متعدد انٹیلیجنس وارننگز موصول ہوئی تھیں

واشنگٹن: امریکا نے ممکنہ ایرانی ڈرون حملے کے خدشے کے پیش نظر برطانیہ میں موجود اپنے تقریباً ایک درجن بی ون بمبار طیاروں کو وہاں سے منتقل کیا، امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے انٹیلیجنس رپورٹس کی بنیاد پر طیاروں کی منتقلی کی خبر دی ہے۔

اخبار کے مطابق امریکی حکام کو حالیہ دنوں میں ممکنہ حملوں کے حوالے سے متعدد انٹیلیجنس وارننگز موصول ہوئی تھیں، جس کے بعد برطانوی رائل ایئر فورس بیس فیئرفورڈ سے امریکی B-1 بمبار طیارے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کو سب سے زیادہ تشویش اس بات سے تھی کہ ایران کی جانب سے کم قیمت اور چھوٹے ڈرونز کے بڑے گروپ پر مشتمل ایسا حملہ کیا جا سکتا ہے، جیسا جون 2025 میں یوکرین نے روس کے خلاف کیا تھا۔

یوکرین کے آپریشن اسپائیڈر ویب کے دوران 100 سے زائد چھوٹے مسلح ڈرونز کو کارگو ٹرکوں میں چھپا کر روس پہنچایا گیا تھا اور انہیں فوجی ہوائی اڈوں کے قریب تعینات کیا گیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں روس کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیاروں کے بیڑے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی بمبار طیاروں کی سکیورٹی کے حوالے سے خدشات میں ستمبر کے آخر میں مزید اضافہ ہوا، جب پولیس نے آر اے ایف فیئرفورڈ کے باہر سفید وین میں سوار 5 افراد کو گرفتار کیا۔

تاہم گرفتار افراد کے قبضے سے ڈرون یا دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا بلکہ پولیس کو صرف پیٹرول ملا۔ اس کے باوجود اس واقعے نے برطانوی ائیربیس پر موجود امریکی جنگی طیاروں کی سکیورٹی سے متعلق تشویش میں اضافہ کیا۔

طیاروں کی منتقلی سے باخبر ذرائع کے مطابق بی ون بمبار طیارے ایران کے خلاف کسی ممکنہ کارروائی کی ضرورت پڑنے پر امریکی اڈوں سے اب بھی پرواز کر سکتے ہیں۔ یعنی طیاروں کو برطانیہ سے ہٹانے کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں ممکنہ فوجی کارروائی سے مکمل طور پر الگ کردیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جدید جنگی ٹیکنالوجی اور چھوٹے ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بڑے اور انتہائی قیمتی فوجی اثاثوں کی حفاظت کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کردیئے ہیں، خصوصاً ایسے ائیربیس جو گنجان آباد علاقوں کے قریب واقع ہیں۔

چھوٹے ڈرونز کی کم لاگت کے باوجود ان کی بڑی تعداد میں کارروائی نے روس اور دیگر محاذوں پر مہنگے فوجی اثاثوں کو نمایاں نقصان پہنچایا ہے۔ یوکرین کے روس کے خلاف ڈرون آپریشن کے علاوہ گزشتہ برس ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ میں بھی اسی نوعیت کے ڈرون آپریشنز سامنے آئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے ایران کے اندر چھپائے گئے مسلح ڈرونز کے ذریعے میزائل لانچنگ سائٹس، فضائی دفاعی نظام اور دیگر اہم اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔ ان کارروائیوں نے بعد میں ایران کی جوہری تنصیبات کے خلاف امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے لیے بھی راستہ ہموار کرنے میں کردار ادا کیا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے