• اکتوبر 1, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 1, 2026 11:01 شام
  • پاکستان

انوکھا گاؤں، رکشا ڈرائیور بھی کروڑ پتی، ہر گھر محل جیسا اور ہر دروازے پر لگژری کار

ٹیڈ کازنسکی : انتہائی ذہین طالب علم ’یونابومبر‘ کیسے بن گیا؟ ہوشربا داستان

امریکا میں ’شارک‘ سڑکوں پر تیرنے لگیں

درخت کی ٹہنی گرنے سے زخمی شہری کو 8 کروڑ معاوضہ دینے کا حکم

امریکا میں عدالت سے سزائے موت پانی والی خاتون نے 2 مرتبہ موت کو چکما دے دیا ہے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا میں قیدی خاتون دوبار موت کے منہ سے بچ نکلی ہے، ریاست ٹینیسی میں سزائے موت پانے والی کرسٹا پائیک کو زہریلا انجیکشن دے کر مارنے کی کوشش ناکام ہوگئی۔

پائیک کو دو مرتبہ زہریلے انجیکشن کی خوراک دی گئی لیکن وہ زندہ رہی اور اسے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

انجیکشن دیے جانے کے بعد بھی پائیک ہوش میں تھی اس کی سانسوں کی آواز سنائی دیتی رہی۔

واضح رہے کہ کرسٹا پائیک کو 1995 میں ہم جماعت طالبہ کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی اس وقت پائیک کی عمر اٹھارہ برس تھی اور اب وہ 50 برس کی ہیں۔

واقعے کے بعد ٹینیسی کے گورنر نے رواں سال تمام پھانسیوں کو روکنے اور اس ناکام کارروائی کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے ٹینیسی کو دو سو سال بعد پہلی بار کسی خاتون کو سزائے موت دینے کی اجازت دی تھی۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے