• ستمبر 11, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 11, 2026 6:19 شام
  • پاکستان

اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست پر سماعت جاری رہی

اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے درخواست گزار کے وکیل کو ہدایت کی کہ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کو دلائل دینے دیے جائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان کے آرڈر میں درخواست گزار کے وکیل کے دلائل پہلے ہی درج ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہر صوبے اور اسلام آباد کے لیے اپنی اپنی ہائیکورٹس قائم کی گئی ہیں۔ آئین کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار اسلام آباد تک ہے، جبکہ اسلام آباد صوبہ نہیں اس لیے الگ ایکٹ کے تحت اسلام آباد ہائیکورٹ قائم کی گئی۔

ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ عدالتی نظیریں کہتی ہیں جس جگہ کا دائرہ اختیار ہوگا، اسی عدالت سے رجوع کیا جاسکتا ہے، لیکن درخواست گزار نے پورے پاکستان کا دائرہ اختیار اس عدالت کو دے دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلا اعتراض دائرہ اختیار پر ہے، پہلے دائرہ اختیار طے کیا جائے، قابل سماعت ہونے پر دلائل بعد میں دیں گے۔

ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے سوال اٹھایا کہ درخواست گزار کیسے متاثرہ فریق ہے، یہ وہ نہیں سمجھ پارہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے اسلام آباد سے ایک شخص بنیادی حقوق کے معاملے پر عدالت آتا ہے، اگر ایسا مسئلہ ہوتا تو کیا صرف ایک شخص عدالت آتا؟ ان کا کہنا تھا کہ سوموٹو اختیار ختم ہوچکا ہے، اب مفاد عامہ کی درخواستوں کے تحت سوموٹو کا رجحان بن رہا ہے۔

دوران سماعت آواز کے مسئلے پر ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ کوئی غلطی ہو تو معاف کردیجیے گا، جس پر چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ غلطی ہو تو میں معاف نہیں کرتا، سمجھا دیتا ہوں۔

ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ وہ تو اس عدالت میں بادشاہ ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بادشاہ کہنے کی ضرورت نہیں، میں بادشاہ نہیں ہوں، یہ عدالت ہے اور عدالت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ انہوں نے چیف لاء افسر کو کبھی چیف جسٹس کو بادشاہ قرار دیتے نہیں سنا اور وہ چیف لاء افسر کے دلائل پر حیران ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ ایک بیان میں رانا ثناء اللہ نے بھی کہا ہے کہ فیصلہ لانگ مارچ کے خلاف آئے گا۔

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ احتجاج کے لیے صرف اسلام آباد ہی نہیں، کہیں اور بھی ہو سکتا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے اسے پالیسی فیصلہ قرار دیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اسلام آباد کے لوگوں کے حقوق متاثر ہوں گے تو یہ عدالت مداخلت کرے گی۔

چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایسی بات نہ کریں، اس بینچ میں ایک طرف خیبرپختونخوا اور دوسری طرف بلوچستان بیٹھا ہوا ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ جن کے بیان کا حوالہ دیا جارہا ہے، انہیں بلایا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو سننے کے لیے بلایا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ وہ عدالت کے نوٹس پر معاونت کے لیے آئے ہیں اور خیبرپختونخوا کی نمائندگی کررہے ہیں، جس پر عدالت نے کہا کہ آپ وزیراعلیٰ کی نمائندگی بھی کررہے ہیں۔

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ یہ سارا کچھ کرنے کے لیے اسلام آباد ضروری نہیں، ہم اسلام آباد کے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بیٹھے ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ اسلام آباد جتنا اسلام آباد کا ہے، اتنا ہی پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کا بھی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس بینچ میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کا جج بھی ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ ایک قتل ہوا نہیں، اس کا ٹرائل شروع ہوچکا ہے، جن کے خلاف کیس ہے انہیں فریق بنایا ہی نہیں گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی سیاسی جماعت کی نمائندگی نہیں کررہے بلکہ خیبرپختونخوا حکومت کی نمائندگی کررہے ہیں۔ اس موقع پر چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے درخواست گزار کے وکیل کو بولنے سے روکتے ہوئے کہا کہ آخری دفعہ کہہ رہا ہوں، خاموش رہیں اور انہیں بولنے دیں۔

ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ دو سال سے اڈیالہ جیل سے متعلق عدالتی آرڈرز پر عملدرآمد نہیں ہورہا، کیا اس کے خلاف شہریوں کو احتجاج کا بھی حق نہیں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ معاملہ توہین عدالت کرنے والے اور عدالت کے درمیان ہوتا ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ اسی وجہ سے کیسز بھی نہیں لگ رہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیس کب لگنا ہے، یہ عدالت کا انتظامی اختیار ہے اور عدالت نے انتظامی طور پر فیصلہ کرنا ہے کہ کیس کب لگنا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ تو عجیب سی باتیں کرنے لگ گئے ہیں، کیا کیسز آپ کے مطابق لگنے ہیں؟ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہہ رہے بلکہ عوام کے حقوق کی بات کررہے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تو آپ نے سیدھا سیدھا عدلیہ پر حملہ کردیا۔

ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ نے دلائل شروع کیے۔ انہوں نے کہا کہ جلوس میں کرینز ہوتی ہیں، پولیس اہلکار شہید بھی ہوئے، جبکہ شیلنگ سے بچنے کے لیے ماسک استعمال کیے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز اس درخواست میں فریق نہیں اور نہ ہی وہ عدالت میں موجود ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ایک لاء آفیسر کو ایسی بات نہیں کرنی چاہیے تھی، یہ عدالت ہے، سیاسی فورم نہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ عدالت جو بھی ہدایت دے گی، وہ اس پر عمل کریں گے، جبکہ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے دلائل کا آغاز کردیا۔

عدالت نے خیبرپختونخوا کے چیف سیکریٹری اور آئی جی سے حلف نامہ طلب کرتے ہوئے کہا کہ جواب الجواب جمع کروائے جاسکتے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ خیبرپختونخوا کے سیکریٹری اور آئی جی کے علاوہ باقی افسران کو پیش ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے