• اکتوبر 1, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 1, 2026 9:52 شام
  • پاکستان

معاون پائلٹ نے پائلٹ پر حملہ کرکے جہاز پر قابو پانے اور اسے گرانے کی کوشش کی تھی

امارات سے تل ابیب آنے والی فلائی دبئی کی پرواز کے دوران کپتان پر چاقو سے حملہ کرکے طیارہ گرانے کی مبینہ کوشش کرنے والا معاون پائلٹ عمانی شہری ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ بات وزیر خارجہ گیڈیون ساعر نے بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی سے کی گئی خصوصی گفتگو میں بتائی۔

اسرائیلی وزیر خارجہ نے مسافر جہاز میں پیش آنے والے واقعے کو ’’جہادی دہشت گرد حملہ‘‘ قرار دیتے ہوئے مزید بتایا کہ اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔

گیڈیون ساعر کا کہنا تھا کہ پرواز ایف زید- 1073 کے معاون پائلٹ کی شناخت عمانی شہری کے طور پر ہوئی ہے جسے پائلٹ پر چاقو سے حملہ کیا اور جہاز گرانے کی کوششش کی۔

اسرائیلی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ واقعے کا بنیادی مقصد اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات اور ابراہام معاہدوں کو نقصان پہنچانا ہوسکتا ہے۔

انہوں نے خود واضح کیا کہ اس دعوے کے حق میں فی الحال ان کے پاس کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا البتہ تحقیقات کے مکمل ہونے پر حقائق سامنے آجائیں گے۔

خیال رہے کہ فلائی دبئی کے اسرائیل جانے والے طیارے میں جس معاون پائلٹ پر چاقو حملے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے وہ عمانی شہری تھا اور ایک سال سے بھی کم عرصے سے ایئرلائن کے ساتھ کام کر رہا تھا۔

اسرائیلی حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا مشتبہ شخص جس کی باضابطہ شناخت ابھی ظاہر نہیں کی گئی کیا عمان اور اسرائیل کی دوہری شہریت رکھتا تھا کیوں کہ دونوں ممالک کے درمیان سفری پابندیاں نہایت سخت ہیں۔

عمان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور عمانی شہریوں کو اسرائیل میں داخلے کے لیے ویزا حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

اسرائیلی حکام کے واقعے میں عمانی شہری کے ملوث ہونے الزام میں عمان کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا جبکہ سعودیہ اور امارات نے بھی تاحال حملہ آور کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز کے کاک پٹ میں کپتان بھارتی نژاد سمت مچھر پر ان کے معاون پائلٹ نے چاقو سے حملہ کردیا تھا اور جہاز کا کنٹرول حاسل کرنے کی کوشش کی۔

اس کشمکش اور دونوں پائلٹس کے گتھم گتھا ہونے کی وجہ سے فضا میں تقریباً 34 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرنے والا مسافر طیارہ اچانک گرنے لگا اور 18 ہزار فٹ نیچے آگیا۔

بھارتی نژاد کپتان نے شدید زخمی حالت میں ہونے کے باوجود کاک پٹ کا دروازہ کھولا، جس کے بعد مسافروں اور عملے نے اندر داخل ہوکر مبینہ حملہ آور معاون پائلٹ کو قابو کرلیا۔ طیارے میں موجود دو دیگر فلائی دبئی پائلٹس نے بعد ازاں طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں بحفاظت اتارا تھا جہاں مسافروں کے طبی معائنے کے بعد متبادل طیارے سے تل ابیب لے جایا گیا۔

واضح رہے کہ واقعے کی دہشت گردی سمیت تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں جبکہ بلیک باکس اور مسافروں کی بنائی گئی ویڈیوز سے مزید شواہد حاصل کیے جارہے ہیں۔ تاحال معاون پائلٹ کے اس عمل کی کوئی ٹھوس وجہ اور عزائم سے متعلق کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے