• ستمبر 12, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 12, 2026 2:18 صبح
  • پاکستان

نوجوان لڑکوں کو لوٹنے والی لٹیری دلہن فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار، طریقہ واردات بھی سامنے آگیا

انڈہ ابالنے کا حیرت انگیز طریقہ : من پسند زردی کیسے بنے گی؟

روبوٹس کا انسانوں کے حق میں مظاہرہ!

دنیا کی سب سے ’’ دُبلی پتلی کار‘‘، ریکارڈ بُک میں نام درج

اسلام آباد : حکومت کی آٹو پالیسی میں کروڑوں موٹر سائیکل سواروں کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا، الیکٹرک بائیکس کے لیے مؤثر مراعات نہ دینے پر سوالات اٹھنے لگے۔

حکومت کی جانب سے نئی 5 سالہ آٹو پالیسی (2026-2031) پر نظرثانی کے لیے قائم کمیٹی کے فیصلوں میں موٹر سائیکلوں اور عام صارفین کو مناسب توجہ نہ ملنے کے باعث حکومتی فیصلہ سوالیہ نشان بن گیا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام خبر میں میزبان محمد مالک نے اپنی رپورٹ میں ان سوالات پر تفصیلی گفتگو کی اور موٹر سائیکل سواروں کی اہمیت پر زور دیا۔،

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گاڑیوں کی مجموعی تعداد میں موٹر سائیکلوں کا حصہ انتہائی زیادہ ہے، تاہم نئی پالیسی میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کو عام آدمی کی پہنچ میں لانے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نظر نہیں آتے۔

حکومت کی آٹو پالیسی پر نظرثانی کے لیے گزشتہ روز اجلاس ہوا، جس میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بعض ٹیکس اور ڈیوٹی میں ریلیف سمیت مقامی صنعت کے حوالے سے بھی کچھ فیصلے کیے گئے، تاہم پالیسی میں ملک کے سب سے بڑے موٹر سائیکل صارف طبقے کے لیے کوئی واضح مراعات سامنے نہیں آئیں۔

اپنے تجزیے میں انہوں نے پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد تقریباً 3 کروڑ 90 لاکھ ہے، جن میں تقریباً 78 فیصد موٹر سائیکلیں ہیں یعنی اس وقت ملک میں موٹر سائیکلوں کی تعداد تقریباً 3 کروڑ سے زائد بنتی ہے۔

محمد مالک نے بتایا کہ موٹر سائیکل پاکستان کے ٹرانسپورٹ نظام اور معیشت کا اہم حصہ ہے، شہری موٹر سائیکلوں کو روزمرہ آمدورفت، ملازمت، کاروبار، ڈلیوری سروسز اور دیگر ضروری کاموں کے لیے استعمال کرتے ہیں، جبکہ کم آمدنی والے طبقے کے لیے یہ نسبتاً سستی سواری بھی ہے۔

پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے تناظر میں موٹر سائیکل صارفین سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات میں شامل ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں موجود تقریباً 3 کروڑ موٹر سائیکلیں اوسطاً روزانہ ایک لیٹر پیٹرول استعمال کریں تو سالانہ تقریباً 11 ارب لیٹر ایندھن درکار ہوگا،

خام تیل کے ایک بیرل سے اوسطاً 70 لیٹر پیٹرول حاصل ہونے کی بنیاد پر یہ مقدار تقریباً 15 کروڑ 80 لاکھ بیرل کے برابر بنتی ہے۔

تجزیے میں کہا گیا کہ الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی جانب منتقلی سے شہریوں کے ماہانہ اخراجات میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق عام موٹر سائیکل کے مقابلے میں الیکٹرک بائیک کے فی کلومیٹر اخراجات کم ہوتے ہیں، جس سے بالخصوص ڈلیوری رائیڈرز، کمرشل موٹر سائیکل سواروں اور روزانہ دفتر آنے جانے والے افراد کو ماہانہ کئی ہزار روپے کی بچت ہوسکتی ہے۔

تاہم ایک بڑی رکاوٹ الیکٹرک موٹر سائیکل کی ابتدائی قیمت ہے، جو عام موٹر سائیکل کے مقابلے میں تقریباً 50سے 80 فیصد تک زیادہ بتائی جاتی ہے، اس وجہ سے عام شہری کے لیے الیکٹرک بائیک خریدنا مشکل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کو محض درآمدی ڈیوٹی میں کمی کے بجائے موٹر سائیکل صارفین کے لیے خصوصی فنانسنگ اور ری فنانسنگ اسکیمیں متعارف کرانی چاہئیں، جن کے ذریعے کم آمدنی والے افراد کو سبسڈائزڈ قرض فراہم کرکے الیکٹرک موٹر سائیکل خریدنے میں مدد دی جاسکے۔

اس طرح پیٹرول کی مد میں ہونے والی ماہانہ بچت کو قسط کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ آٹو پالیسی میں مہنگی اور بڑی گاڑیوں کے لیے سہولتوں اور الیکٹرک وہیکلز کے انفرااسٹرکچر پر تو بات کی جارہی ہے لیکن ملک کی مجموعی گاڑیوں میں سب سے بڑا حصہ رکھنے والی موٹر سائیکلوں کے لیے واضح پالیسی موجود نہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی منتقلی کو صرف ٹرانسپورٹ پالیسی کے طور پر دیکھا جارہا ہے جبکہ اسے توانائی پالیسی کے طور پر بھی زیرغور لانے کی ضرورت ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے