میری بیوی بچے کہاں ہیں؟ ڈیڑھ سالہ ٹیٹو سنگھ کی کہانی کا اصل راز کیا ہے؟
دکاندار نے تین دن میں موبائل ٹھیک نہ کیا تو شہری تلوار لے کر پہنچ گیا
کرسٹا پائیک کے خوفناک جرم کے پیچھے اصل کہانی کیا تھی؟
بیوی نے باہر گھمانے نہ لے جانے پر شوہر سے طلاق مانگ لی
اسلام آباد (4 اکتوبر 2026): پاکستان کے آئی ایم ایف سے قرض پروگرام کی پانچویں قسط کے لیے جاری مذاکرات میں منی بجٹ اور نئے ٹیکسز سے متعلق ہم خبر آ گئی ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان قرض پروگرام کی 1.2 ارب ڈالر کی پانچویں قسط کے اجرا کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
اس حوالے سے ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات میں پاکستتان کو بڑی کامیابی ملی ہے اور ملک میں منی بجٹ کے خطرات ٹل گئے ہیں۔ اس کے علاوہ رواں مالی سال کوئی نیا ٹیکس لگانے کا امکان بھی ختم ہو گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) وزیراعظم شہباز شریف کی معاشی پالیسیوں اور ان پر عمل سے مطمئن ہے جب کہ اس نے ایف بی آر کی جانب سے جولائی تا ستمبر کارکردگی کو سراہتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی معاشی کارکردگی پر بھی اظہار اطمینان کیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر نے جولائی تا ستمبر ٹیکس ہدف حاصل کر کے آئی ایم ایف کو مطمئن کر دیا۔ ٹیکس آمدن میں گروتھ کی وجہ سے نئے ٹیکس اقدامات کی ضرورت نہیں ہوگی۔
مذاکرات میں ایف بی آر نے آئی ایم ایف کو یقین دلایا کہ رواں مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کر لیا جائے گا جب کہ دسمبر کے بعد نیا این ایف سی ایوارڈ کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف مشرق وسطیٰ بحران کے باوجود پاکستان کی معاشی ترقی اور خسارے کو کنٹرول کرنے پر آئی ایم ایف مطمئن ہے۔
آئی ایم ایف پاکستان کی کامیابی کی مثال دیگر ممالک کیلئے پیش کررہا ہے، وزیراعظم شہباز
