• اکتوبر 6, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 6, 2026 1:13 شام
  • پاکستان

اسلام آباد: وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے پی ٹی آئی کی قیادت کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی پالیسی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا اور خیبر پختونخوا حکومت وفاق سے الگ کوئی سکیورٹی پالیسی اختیار نہیں کر سکتی۔

باخبر ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کی قیادت کو دوٹوک الفاظ میں بتا دیا گیا ہے کہ پاکستان بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے خطرے کو وفاقی حکومت اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ بیرونی جارحیت کا نتیجہ سمجھتی ہے، جبکہ پاکستان کیخلاف حملوں کیلئے افغان سرزمین استعمال کی جا رہی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کا جائزہ یہ ہے کہ غیر ملکی عناصر ملک کے اندر دہشت گردی کی حمایت میں ملوث ہیں، جن میں بھارت کو ایک مرکزی کردار کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وسیع تر خطرے کے پیش نظر اسرائیل کے کردار پر بھی بات کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایسی بیرونی جارحیت کیخلاف پاکستان کا ردعمل تشکیل دینا وفاق کی ذمہ داری ہے۔ پالیسی وفاقی حکومت کی جانب سے عسکری اور دفاعی اسٹیبلشمنٹ سے مشاورت کے ساتھ وضع کی جائے گی اور صوبوں سے توقع ہے کہ وہ اس کی مکمل حمایت اور اس پر عمل درآمد کریں گے۔

پی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ مذاکرات میں شامل ایک ذریعے نے کہا کہ جب ملک کو ایسے حالات کا سامنا ہو جسے بیرونی جارحیت قرار دیا جا رہا ہو تو مختلف صوبوں کیلئے مختلف سکیورٹی پالیسیاں تشکیل نہیں دی جا سکتیں۔

یہ پیغام وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کی زیر قیادت خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان بڑھتی کشیدگی بالخصوص سکیورٹی صورتحال سے نمٹنے کے صوبائی حکومت کے طریقۂ کار اور مرکز کے ساتھ اس کی سیاسی محاذ آرائی کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کی قیادت کو بتایا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں مسلسل دہشت گرد حملوں اور وسیع تر سکیورٹی خطرے کے پس منظر میں موجودہ حالات وفاقی حکومت یا سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کیلئے ناقابل قبول ہیں۔ لہٰذا، صوبائی سطح پر ایسا کوئی طریقۂ کار جو قومی سکیورٹی پالیسی سے متصادم ہو، قابلِ قبول نہیں۔

ذرائع نے زور دیا کہ وفاقی حکومت کو توقع ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت قومی انسدادِ دہشت گردی پالیسی پر عمل درآمد کیلئے سکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ پی ٹی آئی کی قیادت تک یہ پیغام پہنچانے کا مقصد یہ واضح کرنا بھی تھا کہ مرکز اور صوبے کے درمیان سیاسی اختلافات کو سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ریاست کے ردعمل کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ذرائع کے مطابق، وفاق کا مؤقف ہے کہ جب بیرونی جارحیت کے خطرے کیخلاف قومی سکیورٹی پالیسی وضع کر دی جائے تو تمام صوبائی حکومتوں کو اپنی الگ پالیسیاں وضع کرنے یا اختیار کرنے کے بجائے اس کی حمایت کرنا ہوگی۔

ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنے اقدامات سے ثابت کرے کہ وہ قومی سکیورٹی پالیسی کی مکمل حامی ہے اور دہشت گردی کیخلاف کارروائی میں سکیورٹی کے نظام کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔

ذرائع نے واضح کیا کہ مرکز کے نقطۂ نظر سے اب یہ معاملہ محض اسلام آباد اور پشاور کے درمیان سیاسی اختلاف کا نہیں رہا۔ اسے قومی سلامتی کا معاملہ سمجھا جا رہا ہے، جس میں پالیسی اور حکمتِ عملی کے حوالے سے حتمی اختیار وفاق کے پاس رہے گا۔

سابق ریاست خیرپور کے آخری حکمران ہز ہائینس علی مراد خان تالپور انتقال کر گئے

ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 3 خارجی دہشتگرد ہلاک

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اسلام آباد پہنچ گئے

فاروق ستار نے ایم ڈی کیٹ میں کراچی کے طلبا کے ٹاپ 20 میں شامل نہ ہونے کو پیپلز پارٹی کی سازش قرار دیدیا

خیبر پختونخوا کی صورتحال اور پی ٹی آئی کا لانگ مارچ، وزیراعظم کا صدر زرداری سے جلد دوبارہ ملاقات کا فیصلہ

مکہ دفاعی اتحاد کا ضروری فوجی قوت اور صلاحیتیں سعودی عرب میں فوری تعیناتی کیلئے فراہم کرنے کا فیصلہ

پنجاب حکومت کے پروجیکٹ 'اپنی چھت، اپناگھر' نے عالمی ایوارڈ جیت لیا

راولپنڈی: اہلیہ پر تشددکے الزام میں خاتون ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرکا شوہرگرفتار

حکومتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے مذاکرات کے حتمی ڈرافٹ پر اتفاق نہ ہوسکا: بیرسٹر گوہر

کراچی: جعلی کمپنیوں کے ذریعے 3 ارب 26کروڑ کے انٹرنیٹ راؤٹرز درآمد کیے جانے کا انکشاف

ٹائمز ہائر ایجوکیشن کی عالمی درجہ بندی: پاکستان کی کوئی جامعہ ٹاپ 400 میں شامل نہ ہوسکی

جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عمران خان کو ذاتی حیثیت یا بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کا حکم

تازہ ترین

• 2 منٹ پہلے کے پی میں علیحدہ سکیورٹی پالیسی کی کوئی گنجائش نہیں، وفاق کا پی ٹی آئی کو واضح پیغام

• 5 منٹ پہلے جو کہتے ہیں اداکار کی باؤنڈری نہیں ہوتی وہ بھارت کا ویزا لے کر دکھائیں: شان شاہد

جو کہتے ہیں اداکار کی باؤنڈری نہیں ہوتی وہ بھارت کا ویزا لے کر دکھائیں: شان شاہد

• 18 منٹ پہلے حیدرآباد کے نیاز اسٹیڈیم کو 20 سال کیلئے پی سی بی کے حوالے کرنے کا معاہدہ آج ہوگا

حیدرآباد کے نیاز اسٹیڈیم کو 20 سال کیلئے پی سی بی کے حوالے کرنے کا معاہدہ آج ہوگا

• 19 منٹ پہلے صبور علی نے اپنی ڈیڑھ سال کی بیٹی کو اسکول بھیجنے کی وجہ بتادی

صبور علی نے اپنی ڈیڑھ سال کی بیٹی کو اسکول بھیجنے کی وجہ بتادی

• 53 منٹ پہلے کراچی: گڈاپ فارم ہاؤس سے 50 سے زائد لڑکیوں کے موبائل فون چوری کرنے کے کیس میں اہم پیشرفت

کراچی: گڈاپ فارم ہاؤس سے 50 سے زائد لڑکیوں کے موبائل فون چوری کرنے کے کیس میں اہم پیشرفت

• 56 منٹ پہلے شیخوپورہ: خاتون نے اپنے بچوں پر مبینہ طورپر فائرنگ کرکے خودکشی کرلی

شیخوپورہ: خاتون نے اپنے بچوں پر مبینہ طورپر فائرنگ کرکے خودکشی کرلی

• 58 منٹ پہلے آئی ایم ایف جائزہ مشن سے ’اقتصادی و مالیاتی یادداشت‘ پر اتفاق رائے کیلئے مذاکرات کا آغاز

آئی ایم ایف جائزہ مشن سے ’اقتصادی و مالیاتی یادداشت‘ پر اتفاق رائے کیلئے مذاکرات کا آغاز

• 1 گھنٹے پہلے جولائی تا دسمبر 2025 سرکاری اداروں کا خسارہ 342 ارب 80 کروڑ روپے رہا

جولائی تا دسمبر 2025 سرکاری اداروں کا خسارہ 342 ارب 80 کروڑ روپے رہا

ماخذ: Geo News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے