چلتی ٹرین کے ساتھ مسافر کے گھسٹنے کی لزرہ خیز ویڈیو
ڈاکٹروں کا انوکھا کارنامہ، مریض کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر پلاسٹر کے بجائے گتا باندھ دیا
نوجوان لڑکوں کو لوٹنے والی لٹیری دلہن فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار، طریقہ واردات بھی سامنے آگیا
انڈہ ابالنے کا حیرت انگیز طریقہ : من پسند زردی کیسے بنے گی؟
ٹورنٹو : کینیڈا میں امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ اور جوابی ٹیرف کے نتیجے میں کینیڈین عوام نے امریکی اشیا کی خریداری میں نمایاں کمی کی ہے، اس مہم نے کینیڈا کے سپر اسٹورز کا منظرنامہ تبدیل کرنا شروع کردیا۔
جہاں صارفین کی جانب سے ’کینیڈین مصنوعات خریدیں‘ کے رجحان میں اضافے کے بعد گروسری اسٹورز نے مقامی اشیا کی فراہمی بڑھانے اور مصنوعات پر ملکِ پیدائش واضح کرنے کے لیے اقدامات تیز کردیے ہیں۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کا رجحان گزشتہ سال اس وقت زور پکڑ گیا تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈین مصنوعات پر ٹیرف عائد کیے اور جواب میں کینیڈا نے بھی جوابی ٹیرف عائد کردیا تاہم حالیہ ہفتوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد اس مہم میں مزید شدت آگئی ہے۔
کینیڈا کے صوبے اونٹاریو میں ایک آزاد گروسری چین کے سربراہ گیانکارلو ٹریماریچی نے امریکی مصنوعات کی فروخت پر صارفین کی ناراضی کے بعد فیس بک پر وضاحت جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے اسٹورز میں موجود زیادہ تر تازہ سبزیاں اور پھل کینیڈا میں پیدا ہوتے ہیں۔
ان کے مطابق گریٹر ٹورنٹو ایریا میں موجود ان کے چار اسٹورز میں اب تقریباً 90 فیصد تازہ پیداوار کینیڈا سے حاصل کی جارہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے امریکا سے منگوائی جانے والی اسٹرابیری اب کیوبیک سے حاصل کی جارہی ہے، تاہم مقامی مصنوعات کے حصول کے باعث کاروباری اخراجات میں اضافہ ہوا ہے اور انہیں تشہیری بجٹ بھی کم کرنا پڑا۔
کینیڈین مصنوعات کی شناخت آسان بنانے کے اقدامات
کینیڈا کی سب سے بڑی فوڈ ریٹیل کمپنی لوبلا نے اگست میں اپنی سبزیوں اور تازہ اشیا کے شعبوں میں میپل لیف والے بڑے سائن دوبارہ نصب کردیئے، تاکہ صارفین آسانی سے کینیڈین مصنوعات کی شناخت کرسکیں، کمپنی نے ٹیگ سسٹم بھی دوبارہ متعارف کرایا ہے جس سے صارفین کو بتایا جاتا ہے کہ کون سی مصنوعات امریکی ٹیرف سے متاثر ہوئی ہیں۔
ملک کے تیسرے بڑے گروسری اسٹور میٹرو نے بھی موجودہ حالات میں مقامی کینیڈین مصنوعات کو ترجیح دینے کا اعلان کیا ہے۔
کینیڈین فیڈریشن آف انڈیپنڈنٹ گروسرز کے سینئر نائب صدر گیری سینڈز کے مطابق امریکی مصنوعات کے حوالے سے کینیڈین عوام کی سوچ میں مستقل تبدیلی آچکی ہے۔
کینیڈا دنیا میں تازہ سبزیوں کا مالیت کے اعتبار سے پانچواں بڑا درآمد کنندہ ہے، جبکہ امریکا اب بھی تازہ پیداوار کا سب سے بڑا سپلائر ہے۔
تاہم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کینیڈا کی سبزیوں کی درآمدات میں امریکی حصے میں کمی آئی ہے اور جولائی میں یہ 62.6 فیصد رہا جو 2023 کے اسی مہینے میں 69 فیصد تھا۔
گروسری اسٹورز نئے سپلائرز کی تلاش میں
کینیڈا کے سخت سرد موسم کے باعث ملک میں تازہ پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار ایک بڑا چیلنج ہے، جس کی وجہ سے گروسری اسٹورز عموماً گرین ہاؤسز، ذخیرہ شدہ سبزیوں یا درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔
امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کے بڑھتے رجحان نے اسٹورز کو متبادل سپلائی ذرائع تلاش کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
اونٹاریو اور کیوبیک میں گروسری اسٹورز چلانے والے گورڈن ڈین نے بتایا کہ ان کے اسٹورز اب پہلے کے مقابلے میں اسپین، برازیل اور ہنڈوراس سمیت دیگر ممالک سے زیادہ پھل اور سبزیاں منگوا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ متبادل سپلائی چین قائم ہوجائے تو گروسری اسٹورز دوبارہ امریکی سپلائی چین پر مکمل انحصار نہیں کریں گے بلکہ زیادہ متنوع ذرائع کے باعث ان کی پوزیشن زیادہ محفوظ ہوگی۔
کینیڈین حکومت بھی خوراک کی مقامی پیداوار بڑھانے کے لیے آئندہ 10 برسوں میں تقریباً 3 ارب کینیڈین ڈالر گرین ہاؤسز کی تعمیر پر خرچ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، تاکہ سخت سردیوں میں بھی ملک کے اندر تازہ پیداوار میں اضافہ کیا جاسکے۔
تاہم ماہرین کے مطابق صوبوں کے درمیان مختلف قوانین اور پابندیاں خوراک کی ملک کے اندر منتقلی کو مشکل بناتی ہیں، جس کے باعث کئی گروسری اسٹورز اب بھی امریکی سپلائرز پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔
