• ستمبر 12, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 12, 2026 2:18 صبح
  • پاکستان

بین الاقوامی سوشل میڈیا بالخصوص امریکی اکائونٹس پرابراہم لنکن نامی امریکی بحری بیڑے کی دو تصاویر اور ویڈیوز کی بھرمار ہے

امریکی حکومت اور تمام امریکی خفیہ ایجنسیوں بشمول سی آئی اے اور ٹرمپ نے مل کر ایران پر حملوں کا فیصلہ کیا تھا لیکن ایران کے خلاف شروع کی جانے والی جنگ کے جہاں اور متعدد نتائج سامنے آ رہے ہیں، وہاں ایک نتیجہ یہ بھی ثابت ہو رہاہے کہ امریکا کی ہیبت اور سپر پاور ہونے کا بھرم بھی خاک ہو رہا ہے۔

یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا جب جب کمزور اور حق پر ڈٹ جانے والوں نے امریکی ظلم کا مقابلہ کیا، تب تب امریکا کو ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایران کے خلاف شروع کی جانے والی جنگ میں بھی امریکی فوج کی طاقت اور ہیبت کا بھرم ٹوٹ چکا ہے۔ حقیقت میں یہ امریکا کی طاقت اور ہیبت کا بھرم ایران نے اپنی مزاحمت اور استقامت کے ذریعے توڑا ہے۔

امریکا نے ایران پر جنگ مسلط کی تھی تا کہ ایران میں اسلامی انقلاب کے نظام کو ختم کرے اور ساتھ ساتھ وہاں پر ایک ایسی کٹھ پتلی حکومت قائم کرے جو ایران کے تمام وسائل اور معدنیات کو امریکا کے سامنے گروی رکھ کر امریکا کی غلامی قبول کرے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت فوجی جرنیلوں اور کمانڈروں نے اپنی جان کی قربانی دے دی لیکن امریکا کے منصوبوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا اور چھ ماہ سے مزاحمت کرتا ہوا ایران یہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ امریکا کے سامنے سر تسلیم نہیں کرے گا۔ اب امریکا ایران کو تو وہ نقصان نہیں پہنچا پایا جو امریکی حکومت نے منصوبہ بندی کی تھی لیکن ایران کی استقامت اور مزاحمت کے نتیجے میں امریکی حکومت کو جہاں معاشی و سیاسی مسائل کا سامنا شروع ہو چکا ہے وہاں ساتھ ساتھ امریکی فوج کو بھی خلیج فارس سمیت عرب ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر بد ترین مشکلات کا سامنا ہے۔یہ مسائل اب آہستہ آہستہ دنیا کے سامنے آ رہے ہیں۔

مغربی ایشیاء میں حالیہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور معرکہ آرائی کے تناظر میں امریکی فوج کو جن بے مثال اور معروضی چیلنجز کا سامنا ہے، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں جاری کشمکش نے پینٹاگون کے اسٹرٹیجک حساب کتاب اور آپریشنل صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

امریکی بحریہ کی رسد کا یہ نظام نہ صرف طویل اور پیچیدہ فاصلوں کی وجہ سے مفلوج ہو کر رہ گیا ہے بلکہ مختلف امریکی فوجی اثاثوں، طیارہ بردار بحری جہازوں جیسے یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کی قیادت میں موجود بحری بیڑوں اور زمین پر واقع عسکری اڈوں کو شدید خطرات اور جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

امریکا کے ڈیمانڈنگ سپلائی نیٹ ورک کی تباہی نے امریکی جنگی جہازوں کی کارکردگی کو دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ 28 فروری کو بحرین میں موجود مرکزی لاجسٹک اڈے کی تباہی اور دیگر قریبی بندرگاہوں پر میزائل و ڈرون حملوں کے خدشات کی وجہ سے بحری جہازوں کے پاس مقامی سطح پر رسد حاصل کرنے کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ دو ہزار دو سو میل دور ڈیاگو گارشیا اور تین ہزار سات سو میل دور سنگاپور جیسے دور دراز مقامات سے ایندھن اور خوراک کی فراہمی نے سپلائی کی مدت کو اس حد تک بڑھا دیا ہے کہ جنگی جہازوں کی تسلسل کے ساتھ آپریشن میں شمولیت اب ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ کھلے سمندر میں ڈیڑھ سو فٹ کے فاصلے پر کیبلز اور ہیلی کاپٹروں کی مدد سے رسد کی منتقلی نہ صرف شدید فنی دشواریوں کا باعث ہے بلکہ دونوں جہازوں کو حریف کے متوقع حملوں کے سامنے غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔

اس ابتر لاجسٹک صورتحال کا سب سے زیادہ اثر یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ جیسے اسٹرٹیجک طیارہ بردار بحری جہازوں کے فلیٹ پر پڑ رہا ہے۔ امریکی بحریہ کے پاس کل 11 طیارہ بردار جہاز ہیں جن میں سے چار کو خطے میںایران کے خلاف بھیجا جا چکا ہے جب کہ باقی میں سے متعدد طویل مدتی مرمت اور دیکھ بھال کی وجہ سے تعطل کا شکار ہیں۔یہ بھی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہو رہاہے کہ امریکا کے چار بحری بیڑے ایک ہی ملک کے خلاف بیک وقت جنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔

اس سے قبل تو امریکی بحری بیڑوں کی روانگی اور آمد کے نتیجے میں ممالک کی حکومتیں فرار کر جاتی تھیں اور خطوں کی صورتحال بدل جایا کرتی تھی لیکن ایران کی مزاحمت اور استقامت نے ثابت کیا ہے کہ وہ دور اب جا چکا ہے کہ جب امریکا آئے گا اور مارے گا اور پھر چلا جائے گا اور اسے کوئی جواب دینے والا نہیں ہو گا۔ آج وہ زمانہ ہے کہ امریکا آ کر مارے گا تو جواب میں دگنی ماربھی کھائے گا۔

درج بالا بیان کردہ ان قیمتی اور تکنیکی لحاظ سے پیچیدہ بحری اثاثوں کا طویل عرصے تک خطرناک سمندری حد میں پھنسے رہنا اور ایندھن و رسد کی مسلسل کمی امریکی سمندری برتری کو دھچکا پہنچا رہی ہے، اگر کسی ایک طیارہ بردار جہاز کو بھی حریف کے جدید ڈرونز یا ہائپر سونک میزائلوں سے نقصان پہنچتا ہے تو یہ امریکی فوجی تاریخ کا بڑا مالی اور اسٹرٹیجک نقصان ہوگا۔

بین الاقوامی سوشل میڈیا بالخصوص امریکی اکاؤنٹس پرابراہم لنکن نامی امریکی بحری بیڑے کی دو تصاویر اور ویڈیوز کی بھرمار ہے،یعنی یو ایس ایس ابراہم لنکن جو ایران جنگ سے گھر لوٹا ہے تو اس کا حال دیکھ کر امریکی قوم سکتے میں آگئی ہے،جب کہ باقی دنیا یہ کہہ کر مذاق اڑا رہی ہے کہ یہ زنگ آلود ٹین ڈبہ اس ملک یعنی امریکا کا ہے جس کا دفاعی بجٹ ایک ٹریلین ڈالرز کا ہے۔ امریکی شہری کہہ رہے ہیںکہ ہمارے ایئرکرافٹ کیریئر اس سے قبل بھی جنگ سے لوٹے ہیں مگر ان کا یہ حال نہ ہوتا تھا، اگر اس کیریئر کا اتنا برا حال ہے تو یہ سمجھنا دشوار نہیں کہ اس پر تعینات 5000 فوجیوں کا کیا حال رہا ہوگا۔

سمندر میں تعینات بیس ہزار کے قریب ملاحوں، میرینز اور زمینی اڈوں پر موجود امریکی اہلکاروں کی جسمانی اور ذہنی تکالیف روز بروز بڑھ رہی ہیں۔ مسلسل جنگی الرٹ پر رہنا، خوراک اور ایندھن کے محتاط استعمال کی پابندی اور ہر وقت دشمن کے حملے کا لاحق خطرہ ان فوجیوں کے لیے شدید نفسیاتی دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ جب سپلائی لائنیں کمزور پڑ رہی ہیں اور متبادل ذرائع طویل تر ہو رہے ہیں، تو امریکی فوجیوں کی صلاحیت اور آپریشنل تیاری میں ڈرامائی کمی آ رہی ہے، جس کے نتیجے میں غیر متوقع ہلاکتوں اور زخمیوں کی شرح میں مزید اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ مجموعی طور پر،مغربی ایشیاء کے اس دلدل اور جنگی صورتحال نے امریکا کے لاجسٹک، اسٹرٹیجک اور افرادی قوت سے متعلق تمام روایتی اندازوں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ خطے کی بندرگاہوں کا غیر محفوظ ہونا، سپلائی لائنز کا ہزاروں میل پر پھیلاؤ، جیرالڈ فورڈ اور ابراہم لنکن جیسے بنیادی اثاثوں کا خطرے میں ہونا اور اردن جیسے اڈوں پر فوجیوں کی ہلاکتیں اور نقصانات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ امریکی فوج ایک ایسے بے رحم اور طویل بحران میں داخل ہو چکی ہے جس کا فوری حل پینٹاگون کی دسترس سے باہر نظر آتا ہے۔ان تمام دلائل کو مد نظر رکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایران نے امریکا کی ہیبت کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے