• ستمبر 13, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 13, 2026 10:58 شام
  • پاکستان

چلتی ٹرین کے ساتھ مسافر کے گھسٹنے کی لزرہ خیز ویڈیو

ڈاکٹروں کا انوکھا کارنامہ، مریض کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر پلاسٹر کے بجائے گتا باندھ دیا

نوجوان لڑکوں کو لوٹنے والی لٹیری دلہن فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار، طریقہ واردات بھی سامنے آگیا

انڈہ ابالنے کا حیرت انگیز طریقہ : من پسند زردی کیسے بنے گی؟

پاکستانی فلموں کے عروج کے زمانہ میں بطور اداکار کمال ایرانی نے سنجیدہ اور مثبت کرداروں کے علاوہ بطور ولن بھی فلم بینوں سے داد وصول کی اور ان کے کمالِ فن کا اعتراف بھی کیا گیا فلم انڈسٹری کے زوال کے بعد وہ لاہور سے کراچی منتقل ہوگئے تھے اور اسی شہر میں 1989ء میں وفات پائی۔ آج کمال ایرانی کی برسی ہے۔

شہر کراچی کمال ایرانی کی جائے پیدائش بھی تھا اور یہیں سے پہلی مرتبہ انھوں نے فلمی دنیا میں قدم رکھا تھا۔ کمال ایرانی نے اپنے فلمی سفر کا آغاز ’چراغ جلتا رہا‘ سے کیا تھا اور یہ فلم 1961ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ فلم ’’چراغ جلتا رہا‘‘ کے فلم ساز، ہدایت کار اور مصنف فضل کریم فضلی تھے جنھوں نے کراچی میں ایک فلمی ادارہ قائم کیا، جس کا آفس ناظم آباد میں تھا، اور اسی کے بینر تلے یہ فلم بنانے کا اعلان کیا۔ یہ اپنے وقت کی کام یاب اور یادگار فلم تھی جس کے تمام مرکزی کردار نئے چہرے تھے۔ کمال ایرانی کو بھی اس فلم میں پہلی بار متعارف کروایا گیا۔ ان کے علاوہ فلم ’چراغ جلتا رہا‘ نے فلمی صنعت کو محمد علی، زیبا اور دیبا جیسے مایہ ناز فن کاروں دیے۔ کمال ایرانی کی یہ کام یاب فلم 1962ء میں عیدالفطر کے روز کراچی کے نشاط سنیما میں ریلیز ہوئی اور مجموعی طور پر اسکرین ہونے کے بعد سلور جوبلی مکمل کی۔ اس کے بعد یہ لاہور اور حیدرآباد میں سنیماؤں پر چلی تھی۔ کمال ایرانی کی اس فلم کا کراچی کے نشاط سنیما میں پریمیئر شو بڑے اہتمام سے رکھا گیا، جس میں مادر ملّت محترمہ فاطمہ جناح نے شرکت کی تھی۔

اداکار کمال ایرانی 5 اگست 1932ء کو پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام کمال الدّین صفوی تھا۔ فلم کی دنیا میں بطور اداکار قدم رکھنے کے بعد انھیں کمال ایرانی کے نام سے پہچان ملی۔ اپنے فنی سفر میں‌ نے لگ بھگ ڈھائی سو فلموں میں کام کرنے والے کمال ایرانی نے اردو، پنجابی، سندھی اور پشتو زبانوں میں بننے والی فلمیں‌ بھی کیں اور شائقینِ سنیما کو اپنی پرفارمنس سے متاثر کیا۔ فلم ”چراغ جلتا رہا“ کے بعد کمال ایرانی کو ”ہمیں بھی جینے دو“ اور ”دل نے تجھے مان لیا“ میں‌ کردار ادا کرنے کا موقع ملا اور انھوں نے فلم بینوں کی توجہ حاصل کی۔ لیکن ان کی اصل وجہِ‌ شہرت 1964 کی فلم ”ہیرا اور پتّھر“ بنی۔ فلم بینوں نے کمال ایرانی کو مثبت اور سنجیدہ کرداروں کے علاوہ ولن کے روپ میں بھی دیکھا اور پسند کیا۔ انھیں اپنے وقت کے مقبول ترین اداکاروں محمد علی، وحید مراد، ندیم، سدھیر، زیبا ، دیبا ، شمیم آرا اور دیگر کے ساتھ اداکاری کے جوہر دکھانے کا موقع ملا، بعد میں کمال ایرانی نے ٹی وی کے ڈراموں میں بھی اداکاری کی اور چھوٹی اسکرین کے ناظرین کو بھی اپنی اداکاری سے محظوظ کیا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے