• اکتوبر 3, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 3, 2026 3:58 صبح
  • پاکستان

جنگیں صرف میدانوں میں نہیں لڑی جاتیں، بعض معرکے ایسی خبروں کے پردے میں برپا ہوتے ہیں

جنگیں صرف میدانوں میں نہیں لڑی جاتیں، بعض معرکے ایسی خبروں کے پردے میں برپا ہوتے ہیں جن میں گولی کی آواز سنائی نہیں دیتی مگر ان کے اثرات سرحدوں سے بہت دور تک پہنچتے ہیں۔ ایک جھوٹی خبر کبھی کبھی توپ کے گولے سے زیادہ تیزی سے سفر کرتی ہے، کیونکہ اس کا ہدف محض کوئی فوجی چوکی نہیں بلکہ انسانی ذہن، عالمی رائے عامہ اور ریاستوں کے باہمی اعتماد ہوتے ہیں۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے ایک ایسے شخص کو دہشت گرد قرار دے کر ہلاک کرنے کا دعویٰ، جو چند ہی لمحوں بعد زندہ سلامت میڈیا کے سامنے موجود تھا، اسی نوعیت کی اطلاعاتی جنگ کی ایک غیر معمولی مثال ہے۔ محمد آصف کا سامنے آکر اپنی شناخت، سابق فوجی خدمات اور موجودہ زندگی کی تفصیلات بیان کرنا اس واقعے کو محض ایک متضاد سرکاری بیان کا معاملہ نہیں رہنے دیتا بلکہ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کسی ریاستی نظام میں خبر، دعویٰ اور حقیقت کے درمیان فاصلہ اتنا وسیع کیسے ہوسکتا ہے؟

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی پریس بریفنگ میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق بھارتی فوج نے 29 ستمبر کی شب مقبوضہ کشمیر میں ایک مشترکہ کارروائی کی اطلاع دی، پھر چند گھنٹوں بعد ایک ہلاک ہونے والے شخص کو محمد آصف الیاس عرف ہاشم موسیٰ قرار دیتے ہوئے اسے پاکستان سے تعلق رکھنے والا لشکر طیبہ کا دہشت گرد بتایا۔ مزید یہ دعویٰ سامنے آیا کہ وہ پاکستانی فوج کے اسپیشل سروسز گروپ کا حوالدار تھا اور اس کے سروس نمبر سمیت شناختی تفصیلات بھی جاری کی گئیں۔ مگر اس پوری کہانی کا سب سے بنیادی دعویٰ ہی اس وقت منہدم ہوگیا جب محمد آصف خود پاکستانی میڈیا کے سامنے بیٹھا تھا۔

اس نے بتایا کہ وہ 2008ء میں فوج میں شامل ہوا، 2023ء میں ایس ایس جی سے ریٹائر ہوا، بعد ازاں نجی سیکیورٹی کمپنی میں ملازمت اختیار کی اور اس وقت راولپنڈی میں اپنے خاندان کے ساتھ مقیم ہے۔ یہ واقعہ اطلاعاتی جنگ کی ایک بنیادی حقیقت واضح کرتا ہے کہ پروپیگنڈے کی طاقت اس کی شدت میں نہیں بلکہ اس کے بروقت پھیلاؤ میں ہوتی ہے۔

خبر جب پہلی مرتبہ نشر ہوتی ہے تو بہت سے لوگ اسے سچ سمجھ لیتے ہیں، لیکن اس کی تردید بعد میں سامنے آئے تو بھی پہلی اطلاع کے اثرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید دور میں ریاستی تنازعات میں میڈیا، سماجی ذرائع ابلاغ، مصنوعی تصاویر، جعلی شناختیں اور گمراہ کن بیانیے بھی جنگی وسائل کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ کسی شخص کی شناخت کو تبدیل کرکے اسے دہشت گرد قرار دینا صرف ایک فرد کی کردارکشی نہیں، بلکہ اس شناخت کو ایک بڑے سیاسی بیانیے میں استعمال کرنے کی کوشش بھی ہوسکتی ہے۔

اس معاملے میں ایک اور قابل توجہ پہلو بھارتی فوج اور بھارتی حکومت کے بیانات میں بیان کردہ تضاد ہے۔ ایک طرف کارروائی اور ہلاکت کا دعویٰ سامنے آیا، دوسری طرف بعد میں شناخت اور فوجی پس منظر سے متعلق ایسی تفصیلات پیش کی گئیں جنھیں پاکستانی جانب سے سامنے آنے والے زندہ شخص نے براہ راست غلط ثابت کردیا۔ محمد آصف کی اپنی گفتگو اس معاملے کو مزید انسانی جہت دیتی ہے۔

ایک ایسا شخص جو اپنے گھر میں موجود ہو اور اچانک یہ سنتا ہو کہ بیرون ملک کسی فوج نے اسے مار دینے کا دعویٰ کردیا ہے، اس کے لیے یہ تجربہ محض ایک خبر نہیں ہوسکتا۔ اس نے بتایا کہ دوستوں اور دیگر افراد کی مسلسل فون کالز کے ذریعے اسے اپنے بارے میں نشر ہونے والی اطلاعات کا علم ہوا، بعدازاں سماجی ذرائع ابلاغ پر بھی یہی دعویٰ دیکھا۔ یہ صورت حال اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ جھوٹی خبر کا شکار ہونے والا فرد صرف سیاسی یا سفارتی سطح پر نقصان نہیں اٹھاتا بلکہ اس کی نجی زندگی، خاندان اور سماجی شناخت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی تاریخ میں فالس فلیگ کارروائیوں کے الزامات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں، تاہم ہر واقعے کی اپنی شہادتیں اور اپنا سیاق ہوتا ہے، اس لیے کسی بھی واقعے کو پہلے سے طے شدہ سانچے میں رکھنا بھی درست نہیں۔ موجودہ معاملے میں البتہ ایک ایسی قابل تصدیق شہادت سامنے آئی ہے جسے نظر انداز کرنا مشکل ہے، جس شخص کو ہلاک قرار دیا گیا، وہ خود میڈیا کے سامنے موجود ہے۔ اس ایک حقیقت نے پورے دعوے کی بنیاد پر بنیادی سوال کھڑا کردیا ہے۔

اس واقعے کا تعلق صرف کشمیر سے نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی سلامتی کی پیچیدگیوں سے بھی ہے۔ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات، سرحدی کشیدگی اور مختلف مسلح گروہوں کی سرگرمیاں پہلے ہی خطے کو عدم استحکام سے دوچار کیے ہوئے ہیں، اگر ان حالات میں دشمن ریاستیں مخالفانہ اطلاعاتی محاذ بھی کھول دیں تو کسی حقیقی واقعے اور من گھڑت دعوے کے درمیان امتیاز مزید مشکل ہوجاتا ہے۔

پاکستان کے لیے اس صورتحال کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ہر واقعے کی دستاویزی شہادت محفوظ کرے، بین الاقوامی میڈیا اور سفارتی حلقوں تک قابل تصدیق معلومات بروقت پہنچائے اور جذباتی ردعمل کے بجائے شواہد کو اپنی پہلی دفاعی لکیر بنائے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے یہ کہنا کہ کسی بھی مہم جوئی کی صورت میں پاکستان اپنے دفاع کے لیے تیار ہے، دراصل ایک ایسے ماحول کی عکاسی کرتا ہے جہاں دشمن غلط اطلاعات سے خطرناک نتائج پیدا کرنا چاہتا ہے۔

دونوں جوہری صلاحیت رکھنے والی ریاستوں کے درمیان کسی واقعے کی غلط تعبیر، غیر مصدقہ اطلاع یا سیاسی دباؤ میں کیا گیا فیصلہ محض بیانیاتی تنازع نہیں رہتا۔ اس لیے عسکری تیاری کے ساتھ ساتھ بحران کے دوران رابطے کے ذرائع، تصدیقی نظام اور سفارتی احتیاط بھی ناگزیر ہیں۔ مکہ معاہدے کے بارے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا مؤقف بھی وسیع تر علاقائی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ حرمین شریفین اور سعودی عرب کے تحفظ کے حوالے سے پاکستان نے اپنے مؤقف کو واضح قرار دیا ہے، جبکہ دفاعی اور عملی نکات پر عمل درآمد کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا۔ پاکستان کے لیے خلیج کا امن محض خارجہ پالیسی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے اقتصادی، توانائی اور علاقائی مفادات سے بھی براہ راست جڑا ہوا ہے۔

افغانستان کے ساتھ رابطوں کے سوال پر یہ بات بھی اہم ہے کہ خارجہ اور سلامتی کی پالیسی ریاستی سطح پر مربوط ہونی چاہیے۔ سرحد پار دہشت گردی کے مسئلے میں پاکستان کے بنیادی مفاد کو واضح رکھا جانا ضروری ہے، اس کی سرزمین پر کسی مسلح گروہ کو کارروائی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ بات چیت ہو یا سخت سفارتی دباؤ، بنیادی ترجیح شہریوں، سرحدوں اور قومی سلامتی کا تحفظ ہونا چاہیے۔ کسی بھی پڑوسی ملک کے ساتھ تعلقات میں اختلافات کے باوجود رابطے کا راستہ مکمل طور پر بند کردینا مسائل کو خود بخود ختم نہیں کرتا، البتہ رابطے کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب اس کے ساتھ واضح حدود اور قابل عمل ضمانتیں موجود ہوں۔

ریاست، سیاست اور جمہوریت کے باہمی تعلق پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ نکتہ کہ ریاست موجود ہو تو سیاست اور جمہوریت بھی قائم رہتی ہے، ایک وسیع تر قومی بحث کا دروازہ کھولتا ہے۔ ریاستی استحکام کسی ایک ادارے یا جماعت کی ملکیت نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ضرورت ہے۔ اسی لیے سلامتی کے معاملات پر اختلافِ رائے ہوسکتا ہے، پالیسیوں پر سوال اٹھائے جاسکتے ہیں اور حکومتوں کا احتساب بھی ضروری ہے، مگر قومی سلامتی کے بنیادی ڈھانچے کو کمزور کرنے والی غلط معلومات کے خلاف اجتماعی مزاحمت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ اختلاف اور انتشار میں فرق برقرار رکھنا ہوگا۔ پاکستان کو موجودہ علاقائی ماحول میں نہ صرف اپنی سرحدوں بلکہ اپنے بیانیے کی بھی حفاظت کرنا ہوگی۔

ہر دعوے کا جواب دعوے سے نہیں، ثبوت سے دینا ہوگا؛ ہر الزام کا جواب غصے سے نہیں، تحقیق سے دینا ہوگا اور ہر خطرے کے مقابلے میں جذبات سے پہلے حکمت کو جگہ دینا ہوگی۔ محمد آصف کا میڈیا کے سامنے بیٹھا ہونا اس وقت ایک علامت بن گیا ہے: حقیقت کبھی کبھی ایک شخص کی صورت میں سامنے آکر پورے پروپیگنڈے کے محل کو منہدم کردیتی ہے۔ ریاستوں کے لیے اصل امتحان یہی ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھیں کہ موجودہ دنیا میں جنگ کا ایک محاذ میدان جنگ ہے اور دوسرا انسانی ذہن۔ جو ریاست اپنے شہریوں کو معتبر معلومات فراہم کرنے، جھوٹ کی فوری تردید کرنے اور عالمی سطح پر قابل تصدیق شواہد پیش کرنے کی صلاحیت پیدا کرلے، وہ اطلاعاتی محاذ پر بھی اپنی خودمختاری کی حفاظت کرسکتی ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے