• ستمبر 30, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 30, 2026 3:49 صبح
  • پاکستان

جناب عبدالمجید سالک ان صحافیوں میں سے تھے جن کے وقت کی نامور شخصیات کے ساتھ گہرے سماجی مراسم تھے

جناب عبدالمجید سالک ان صحافیوں میں سے تھے جن کے وقت کی نامور شخصیات کے ساتھ گہرے سماجی مراسم تھے، مفکرِ، پاکستان حضرت علامہ اقبال جب کیمبرج یونیورسٹی برطانیہ سے پی ایچ ڈی اور پھر بارایٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد واپس لاہور آئے اور وکالت شروع کردی تو اس وقت بھی سالک صاحب کا علامہ کے ہاں آنا جانا تھا، اس وقت کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے وہ علامہ کے علمی تبحر کے بارے میں لکھتے ہیں،

’’ڈاکٹر اقبال کی خدمت میں مجھے کئی سال سے نیاز حاصل تھا اور میں ان کے ہاں جایا کرتا تھا۔ اُس زمانے میں ڈاکٹر صاحب انار کلی بازار کے ایک بالا خانے میں رہتے تھے۔

منشی طاہر الدین ان کے منشی اور علی بخش ان کا خادم تھا۔ اور احباب کو معلوم ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی وضع داری نے ان دونوں کو تادمِ آخر ڈاکٹر صاحب سے وابستہ رکھا۔ ڈاکٹر صاحب نے ابھی مثنوی ’’اسرارِ خودی‘‘ مرتب نہ کی تھی، لیکن ان کے اردو کلام کا ہندوستان بھر میں غلغلہ بلند تھا۔ میں جب بھی حاضر ہوتا کسی ادبی یا سیاسی مسئلے پر گفتگو چھیڑ دیتا، ڈاکٹر صاحب اس مسئلے پر ایسی وسیع اور اتنی اچھوتی معلومات مہیا کرتے کہ میں بالکل ششدر رہ جاتا۔‘‘

لاہور کی قصوری فیمیلی لبرل سمجھے جاتی ہے، بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ محمود علی قصوری ایڈوکیٹ کے والد اور خورشید قصوری کے دادا مولانا عبدالقادر قصوری ایک بہت معروف دینی شخصیت تھے، ان کے بارے میں سالک صاحب لکھتے ہیں، ’’مجلسِ خلافت پنجاب کا دفتر ’’زمیندار‘‘ کے دفتر سے ملحق تھا، اس لیے کبھی کبھی مولانا عبدالقادر قصوری (صدر)، آغا محمد صفدر (سیکریٹری) اور ملک لال خان (جائنٹ سیکریٹری) سے ملاقاتیں رہتی تھیں۔ ملک لال خان تو اللہ کے فضل سے بقیدِ حیات ہیں، لیکن اوّل الذکر دونوں بزرگوں کا انتقال ہوچکا ہے۔

مولانا عبدالقادر قصوری کی شخصیت اس زمانے میں صحابہ کرام کی پاکیزہ زندگیوں کا نمونہ تھی، وہ عالم تھے، متقی اور پرہیزگار تھے، صاحبِ ایثار تھے، ہزار ہا روپیہ کسی نمودونمائش کے بغیر تبلیغِ اسلام اور تحریکِ خلافت پر صرف کرچکے تھے، تمام قوموں اور تمام حلقوں میں بے انتہا واجب الاحترام سمجھے جاتے تھے۔ قومی سرمایوں سے ایک پیسہ تک لینے کے روادار نہ ہوتے، بلکہ اپنی گرہ سے دریا دلی کے ساتھ صرف کرتے۔ ضرورت مند کارکنوں کی ضرورتیں پوری کرتے۔ میانہ قامت، گندمی رنگت، بھری ہوئی باوقار داڑھی، گرجیلی آواز، چھوٹی چھوٹی آنکھیں، اتباعِ سنت کے پیکر اور اخلاقِ عالیہ کے مجسمّے تھے۔ ایک اور جگہ سالک صاحب لکھتے ہیں

’’انھی دنوں ٹریبون میں ایک خبرنامہ نگار نے بھارت کے مہاتما گاندھی جی کی خوراک کی تفصیل لکھی جو وہ ان دنوں کھاتے تھے، تفصیل ملاحظہ ہو:

چار بجے صبح: آدھ سیر گرم پانی، چھ چمچے شہد، بیس گرین سوڈا بائی کارب۔

ساڑھے بانچ بجے صبح: بکری کا آدھ سیر دودھ، آدھ سیر تازہ انگور۔

آٹھ بجے صبح: آدھ سیر گرم پانی، چھ چمچے شہد، بیس گرین سوڈا بائی کارب۔

ساڑھے چار بجے شام: آدھ سیر سبزی، آدھ سیر آم کا رس، دو چھٹانگ تازہ انگور۔

ساڑھے پانچ بجے شام: آدھ سیر سبزی، آدھ سیر آم کا رس، آدھ سیر تازہ انگور۔

کبھی کبھی اس خوراک کے ساتھ ہی آدھ سیر شیرہ بادام بھی نوش فرماتے تھے۔ میں نے ’’افکاروحوادث‘‘ میں اس خوراک سے اس غذا کا مقابلہ کیا، جو ان دنوں میں کھا رہا تھا۔ اور بتایا کہ گاندھی جی کی خوراک میری خوراک سے وزن میں چوگنی اور غذائیت میں خدا جانے کتنے گنا زیادہ قوی ہے، اس لیے لوگوں کو اس غلط فہمی میں نہ رہنا چاہیے کہ گاندھی جی کم خوراک کھاتے ہیں۔ وہ کیفیت اور کمیت دونوں لحاظ سے خوب کھاتے ہیں۔

ایک باب میں سالک صاحب اس وقت کی سیاسیات کا احوال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’مسلمانوں میں بھی سیاسی شعور کے آثار نظر آنے لگے تھے اور وہ محسوس کررہے تھے کہ میثاقِ لکھنؤ کے تحت وہ نقصان میں رہے ہیں لہٰذا اب ملّی مطالبات کا ایسا نقشہ مرتّب ہو جس کے باعث وہ ہندو اکثریت کے تسلّط سے محفوظ رہ سکیں‘‘۔

’’انھی دنوں مہاتما گاندھی نے دہلی میں مسلم لیگی اکابر سے ملاقات کی، ڈاکٹر اقبالؒ بھی دہلی تشریف لے گئے۔ دورانِ گفتگو گاندھی جی نے کہا کہ اگر مسلمان مل کر اپنے حقوق ومطالبات کا ایک متحدہ نقشہ تیار کرکے ہمیں دیں تو بڑی آسانی ہوجائے۔ اس پر ڈاکٹر صاحب نے برجستہ فرمایا کہ مہاتما جی! یہ بات تو آپ نے بالکل لارڈ برکن ہیڈ کی سی کہی ہے، وہ بھی ہندوستانیوں سے ایک متحدہ مسودہ طلب کررہے ہیں (کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہاں کی مختلف قومیں ایک مشترکہ مسودے پر متفق نہیں ہوسکتیں) ڈاکٹر صاحب کے اس جملے سے مہاتما جی چکرا گئے لیکن آئیں بائیں شائیں کے سوا کوئی جواب بن نہ پڑا۔

اس وقت دہلی میں کانگریس کے تمام اکابر جمع تھے جن مین مسز سروجنی نائیڈو بھی تھیں، وہ اعلیٰ درجے کی شاعرہ تھیں، اور ڈاکٹر اقبالؒ کی بھی عقیدت مند تھیں، دوسری جانب وہ گاندھی جی کو بھی مہاتما مانتی تھیں، جب گاندھی جی اور ڈاکٹر اقبالؒ کی ملاقات ہوئی تو سر وجنی ان دونوں کے تاثرات معلوم کرنے کے لیے نہایت مضطرب تھیں کہ دیکھیں مشرق کے یہ عظیم انسان ایک دوسرے کے بارے میں کیا رائے قائم کرتے ہیں، جونہی ڈاکٹر صاحب گاندھی جی کے کمرے سے باہر نکلے سروجنی لپک کر ان کے پاس پہنچیں اور پوچھا ’’ڈاکٹر صاحب مہاتما جی کی شخصیت کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘ ڈاکٹر صاحب نے بلاتوقف فرمایا، ’’گاندھی جی اچھے آدمی ہیں، کھانے پینے میں احتیاط کرتے ہیں اور تندرست رہتے ہیں۔ اپنی عمر کے اعتبار سے توانا ہیں‘‘۔ سروجنی بھنّائیں اور کہنے لگیں ’’میں نے تو ایک بڑے آدمی کے متعلق ایک بڑے آدمی کی رائے دریافت کی تھی، لیکن آپ نے ہنسی میں اڑادیا‘‘ ڈاکٹر صاحب نے کہا ’’سروجنی، گاندھی جی کے متعلق میری رائے یہی ہے جو میں نے تم کو بتادی اور بس‘‘وہ بیچاری بہت مایوس ہوئیں۔

ایک بار معلوم ہوا کہ ترکی کے نامور لیڈر ’’حمیدیہ‘‘ کے کمانڈر اور سابق وزیراعظم ترکی غازی رؤف بے ہندوستان تشریف لارہے ہیں۔ کیونکہ جامعہ ملّیہ اسلامیہ دہلی نے انھیں چند تقریروں کے لیے دعوت دی ہے۔ اگرچہ غازی رؤف بے، مصطفٰی کمال پاشا سے اختلافات کی وجہ سے جلاوطنی کی زندگی بسر کررہے تھے، لیکن ان کی عظیم الشّان خدمات وطن وملّت اور ان کے ذاتی کردار کی عظمت کے باعث دنیائے اسلام کے قلوب میں ان کی بے حد عزت جاگزیں تھی اور خود ترک عوام بھی ان کا بے انتہا احترام کرتے تھے۔

بارہا ایسا ہوا کہ جلاوطنی کے دور ان میں غازی ممدوح روٹی تک کے محتاج ہوگئے اور ایک دفعہ تو انھیں محض جسم وجان کا اتحاد قائم رکھنے کی خاطر پیرس میں شوفر کی ملازمت کرنی پڑی۔ ایسی حالت میں بڑی بڑی حکومتوں اور بڑے بڑے ذی ثروث مسلمانوں نے ان کی مالی امداد پر آمادگی ظاہر کی۔ لیکن اس شجاع اور غیور ترک سپاہی نے کسی کا احسان لینا گوارا نہ کیا۔ یہاں تک کہ جب جامعہ ملیہ اسلامیہ نے تین ہزار روپے کی رقم ان کے لیکچروں کے معاوضے کے طور پر پیش کی تو غازی نے وہ رقم قبول کرکے اپنی طرف سے جامعہ ملیہ کو بطور عطیہ دے دی۔

ایک شام کو ہم ملک فیروزخان نون کی کوٹھی پر بیٹھے ہوئے غازی سے باتیں کررہے تھے کہ ملک صاحب نے بتایا کہ میں گورنر صاحب کے ہاں کھانے پر جارہا ہوں۔ آپ دونوںیہیں غازی کے ساتھ کھانا کھائیں اور میری واپسی تک ان کی خدمت میں حاضر رہیں۔ چنانچہ ہم نے رات کاکھانا وہیں کھایا اور دیر تک غازی کی باتیں سنتے رہے۔

رؤف بے انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں خاصی مہارت رکھتے تھے اور ہندوستان میں ان کی تمام تقریریں انگریزی میں ہوئی تھیں۔ دورانِ گفتگو میں انھوں نے مصطفٰی کمال پاشا کی لادینیت اور آزاد روی کی شکایت کی اور ان کی بعض پالیسیوں کا ذکر کرکے انھیں ترکوں کے لیے سخت مضر قرار دیا۔ ہم نے کہا، اگر غازی مصطفٰی کمال آپ کے نزدیک اس قدر مضر ہیں اور آپ کا اثر ونفوذ بھی ترکی میں بہت زیادہ ہے۔ تو پھر آپ ان کو مسندِ اقتدار سے گرانے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ غازی رؤف نے جواب دیا میرے بھائی! انسان کی زندگی بے حد مختصر ہے۔ کوئی شخص ہمیشہ زندہ نہیں رہ سکتا، کمال پاشا کو طبعی موت مرجانے دو۔ اس کو گرانے کی کوشش قوم کے لیے خطرناک ہوگی کیونکہ آج ترکی کے ڈیڑھ کروڑ مسلمانوں کی جو عزت توقیر دنیا میں ہے وہ اس ملحد کے دم سے ہے۔ یہ سن کر ہم ششدد رہ گئے، ہم نے سوچا کہ بیدار اور ذمے دار راہنماؤں کا قومی کردار یہی ہوتا ہے۔

رابندر ناتھ ٹیگور سے ملاقات کے بعد اپنے تاثرات یوں بیان کرتے ہیں ’’ٹیگور کی ملاقات سے مجھ پر یہ اثر ہوا کہ شاعر بڑا ہے لیکن خیالات بالکل سطحی ہیں۔ سر اور داڑھی کے سفید بالوں اور وجیہہ چہرے سے شخصیت میں جاذبیّت پیدا ہوگئی ہے‘‘۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے