• ستمبر 30, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 30, 2026 3:49 صبح
  • پاکستان

عالمی ادارے کا 853 ارب کے مالیاتی تضاد، گیس وبجلی کے گردشی قرضے پر اظہار تشویش

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے آئی ایم ایف جائزہ مشن کے پاکستانی حکام کیساتھ ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی ( ای ایف ایف) جائزے پرمذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا جبکہ آئی ایم ایف مشن کی سربراہی آئیوا پیٹرووا کر رہی ہیں۔

ان مذاکرات کے دوران پاکستان اور آئی ایم ایف کے پروگرام پر پیش رفت اور معاشی اصلاحات کا جائزہ لیا جائے گا۔اس دوران ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی کے تیسرے جائزے پر بھی بات چیت ہوگی۔

آئی ایم ایف مشن پروگرام کے تحت مقررہ اہداف پر پاکستان کی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔مذاکرات میں معاشی پالیسیوں اور اصلاحات سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

مشن نے منگل کو وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے آن لائن ملاقات کی ۔وفاقی وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف مشن کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ۔

ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف مشن چیف کے اعتراضات اور تحفظات کاجواب دیا، تاہم ان کے جواب کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈکی پاکستان میں مشن چیف آئیواپیٹرووانے حکومت پر زوردیاہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا تنازع بڑھنے کے بعد معاشی دباؤسے نمٹنے کیلئے ایندھن پرریلیف صرف مستحق افرادتک محدودرکھاجائے، اس مقصد کیلیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کاطریقہ کار استعمال کیاجائے۔

علامتی اجلاس میں آئی ایم ایف مشن نے تعلیم اور صحت کے اخراجات کے اہداف مسلسل پورے نہ ہونے پر بھی تشویش کااظہارکیا۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ مالی سال تعلیم اور صحت کے شعبوں میں مجموعی اخراجات مقررہ ہدف سے تقریباً 370 ارب روپے کم رہے، جبکہ ہدف تقریباً 3۔5 کھرب روپے تھا۔

آئی ایم ایف نے وفاقی اورصوبائی حکومتوں کے حسابات میں 853 ارب روپے کے شماریاتی تضادکی وضاحت بھی طلب کی اوردریافت کیاکہ اس مسئلے کوحل کرنے کیلئے کیااقدامات کیے جائیں گے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے