• ستمبر 12, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 12, 2026 12:45 صبح
  • پاکستان

نوجوان لڑکوں کو لوٹنے والی لٹیری دلہن فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار، طریقہ واردات بھی سامنے آگیا

انڈہ ابالنے کا حیرت انگیز طریقہ : من پسند زردی کیسے بنے گی؟

روبوٹس کا انسانوں کے حق میں مظاہرہ!

دنیا کی سب سے ’’ دُبلی پتلی کار‘‘، ریکارڈ بُک میں نام درج

نیویارک : 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے وقت نیویارک کے علاقے لوئر مین ہٹن اور بروکلین میں پیدا ہونے والے بچوں کی صحت سے متعلق 25 سال بعد پہلی تحقیق شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹوئن ٹاورز پر حملوں کے وقت لوئر مین ہٹن میں تقریباً 25 ہزار بچے رہائش پذیر یا اسکولوں میں زیر تعلیم تھے، جبکہ گردو نواح کے علاقوں میں بھی ہزاروں بچے موجود تھے، ان میں شیر خوار اور کم عمر بچوں کے علاوہ ایسے بچے بھی شامل تھے جو اس وقت ماں کے پیٹ میں تھے۔

حملوں کے بعد ٹوئن ٹاورز کے ملبے سے اٹھنے والے زہریلے بادل اور فضا میں پھیلنے والی گرد و غبار نے ان بچوں کو بھی متاثر کیا، اس گرد میں پسا ہوا کنکریٹ، شیشے کے ریشے، ایسبیسٹوس اور دیگر آلودہ ذرات شامل تھے جو کئی دنوں اور ہفتوں تک ماحول میں موجود رہے۔

تاہم ماہرین کے مطابق ان بچوں کی بڑی تعداد کو حملوں کے بعد ہونے والی حکومتی طبی تحقیقات میں شامل نہیں کیا گیا۔ ان پروگراموں میں زیادہ توجہ امدادی کارکنوں، فائر فائٹرز، پولیس اہلکاروں اور دیگر بالغ افراد پر مرکوز رہی۔

اس خلا کے باعث یہ معلوم کرنا مشکل رہا کہ بچپن یا ماں کے پیٹ میں 9/11 کے دوران زہریلے مادوں اور شدید ذہنی صدمے کا سامنا کرنے والے افراد میں بعد کی زندگی میں کینسر، دل کی بیماریوں، تولیدی صحت کے مسائل یا دیگر دائمی امراض کا خطرہ کس حد تک بڑھا؟۔

اب حملوں کو 25 سال مکمل ہونے کے قریب ہیں اور اس وقت متاثر ہونے والے بچے اپنی 30 اور 40 کی دہائی میں داخل ہو رہے ہیں، یعنی وہ عمر جب مختلف دائمی بیماریاں ظاہر ہونا شروع ہوسکتی ہیں۔

امریکی کانگریس نے سال 2022 میں ایسے افراد کی صحت کا باقاعدہ مطالعہ کرنے کے لیے خصوصی فنڈز فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

گزشتہ ماہ امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) نے محققین سے درخواستیں طلب کرنے کا اعلان کیا تاکہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر یوتھ ریسرچ کوآرڈینیٹنگ سینٹر قائم کیا جاسکے اور متاثرہ بچوں پر مشتمل تحقیقی گروپ تشکیل دے کر ان کی صحت کا طویل عرصے تک جائزہ لیا جاسکے۔

سی ڈی سی کے مطابق تحقیق میں ایسے افراد کو شامل کیا جائے گا جو 11 ستمبر 2001 کے بعد مین ہٹن میں 14ویں اسٹریٹ سے نیچے یا بروکلین میں رہتے تھے اور اس وقت ان کی عمر 21 سال یا اس سے کم تھی، یا وہ ماں کے پیٹ میں تھے۔

تحقیق کے لیے اسی عمر کے ایسے افراد کو بھی شامل کیا جائے گا جو اس زہریلے ماحول سے متاثر نہیں ہوئے تھے تاکہ دونوں گروپوں کا تقابلی جائزہ لیا جاسکے۔

سی ڈی سی کے ایک ترجمان کے مطابق اس منصوبے کے لیے مجموعی طور پر 5 کروڑ ڈالر تک فنڈز مختص کیے جانے کی توقع ہے جبکہ منصوبہ یکم جولائی 2027 سے شروع ہونے کا امکان ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد اب امریکا کے مختلف حصوں میں آباد ہیں اور بعض شاید 9/11 کی تکلیف دہ یادوں کی جانب دوبارہ لوٹنا نہ چاہیں۔

نیویارک یونیورسٹی کے ماہر پھیپھڑوں کے امراض ڈاکٹر جون ریب مین کے مطابق متاثرہ افراد کو تحقیق میں شامل کرنے کے لیے کمیونٹی تنظیموں کی مدد اور بڑے پیمانے پر رابطہ کاری کی ضرورت ہوگی۔

ماہرین صحت کے مطابق بالغ افراد اور امدادی کارکنوں میں 9/11 کے بعد کئی اقسام کے کینسر اور صحت کے دیگر مسائل کی نشاندہی ہوچکی ہے، تاہم بچپن میں اس آفت کا سامنا کرنے والوں پر دستیاب تحقیق اب تک محدود اور چھوٹے مطالعات تک رہی ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے