• ستمبر 11, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 11, 2026 9:16 شام
  • پاکستان

انڈہ ابالنے کا حیرت انگیز طریقہ : من پسند زردی کیسے بنے گی؟

روبوٹس کا انسانوں کے حق میں مظاہرہ!

دنیا کی سب سے ’’ دُبلی پتلی کار‘‘، ریکارڈ بُک میں نام درج

اسلام آباد میں محبت کی یادگار، صوبیہ محل کی دلچسپ داستان

سوز کا ذکر تقریباً ہر تذکرہ میں نظر آتا ہے اور بجز آزاد کے کہ انہوں نے تو بیشک میر کے حوالہ سے انہیں پون شاعر مانا ہے، باقی تمام تذکرہ نویسوں نے اس کا ذکر اس احترام سے کیا ہے جو میرؔ، سوداؔ یا دردؔ کے باب میں ملحوظ رکھا گیا ہے۔

معلوم ہوتا ہے کہ آزاد نے میرؔ کا تذکرۂ نکاتُ الشعرا دیکھا ہی نہیں اور اگر یہ خود ان کی ذاتی اپج نہیں تھی تو شاید صرف کسی زبانی روایت پر اعتماد کر کے سوزؔ کے متعلق میر کا یہ محاکمہ لکھ گئے، ورنہ ممکن نہ تھا کہ وہ ایسی خلافِ حقیقت بات لکھنے کی جسارت کرتے۔

آزاد نے میر کے حالات میں اس واقعہ کو اس طرح ظاہر کیا ہے، ’’لکھنؤ میں کسی نے پوچھا کہ کیوں حضرت آج کل شاعر کون ہے، کہا ایک تو سودا، دوسرا یہ خاکسار ہے اور کچھ تأمل کر کے آدھے خواجہ میر دردؔ۔ کوئی شخص بولا حضرت اور میر سوز صاحب؟ چیں بہ جبیں ہوکر کہا کہ میر سوز صاحب بھی شاعر ہیں؟ انہوں نے کہا کہ آخر استاد نواب آصف الدّولہ کے ہیں۔ کہا کہ خیر یہ ہے تو پونے تین سہی۔‘‘

لیکن جس وقت ہم میر کا نکات الشعرا اٹھا کر دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ نہ وہ خواجہ میر درد کو آدھا شاعر سمجھتے تھے، نہ میر سوز کو پون، بلکہ وہ ان دونوں کو پورا پورا شاعر جانتے تھے۔ دردؔ کا ذکر تو انہوں نے اس احترام و ادب سے کیا ہے کہ شاید ہی کوئی خادم اس سے زیادہ اراد ت مندی کا اظہار کر سکے اور جتنا اقتباس ان کے کلام کا پیش کیا ہے کسی اور شاعر کا کیا ہی نہیں۔

معلوم ہوتا ہے کہ میر نے نکات الشعرا اس وقت مرتب کیا تھا جب سوز اپنا تخلص میرؔ کرتے تھے۔ آزاد کے بیان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جب میر نے ان کا تخلص چھین لیا تو انہوں نے سوز تخلص اختیار کیا۔ درآں حالیکہ نکات الشعرا کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تخلص خود سوز نے میر کے تتبع میں اختیار کیا تھا۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ، ’’میر سوزؔ مرحوم کی زبان عجیب میٹھی زبان ہے اور حقیقت میں غزل کی جان ہے، چنانچہ غزلیں خود ہی کہے دیتی ہیں۔ ان کی انشا پردازی کا حسن، تکلف اور صنائع مصنوعی سے بالکل پاک ہے۔ اس خوش نمائی کی ایسی مثال ہے جیسے ایک گلاب کا پھول ہری بھری ٹہنی پر کٹورا سا دھرا ہے۔ اور سبز سبز پتیوں میں اپنا اصلی جوبن دکھا رہا ہے۔ مجالسِ رنگین کی بعض مجلسوں سے اور ہمارے عہد سے پہلے کے تذکروں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا کلام صفائی محاورہ اور لطف زبان کے باب میں ہمیشہ سے ضرب المثل ہے۔ ان کے شعر ایسے معلوم ہوتے ہیں جیسے کوئی چاہنے والا اپنے چہیتے عزیز سے بیٹھا باتیں کر رہا ہے۔ میر تقی میر کہیں کہیں ان کے قریب آ جاتے ہیں، پھر بھی بہت فرق ہے۔‘‘

بعد کے تذکرہ نویسوں نے بھی سوز کو اپنے عہد کا استادِ کامل اور غزل گوئی میں ماہر بے بدل تسلیم کیا ہے، لیکن افسوس ہے کہ نہ آج ان کا دیوان ہمارے سامنے ہے اور نہ عہد حاضر کے نقادانِ سخن نے ان کے کمال پر کوئی روشنی ڈالی۔ آپ کا نام سید محمد میرؔ تھا اور میر ضیا الدین کے بیٹے تھے۔ ان کا سلسلۂ نسب قطب عالم گجراتی سے ملتا ہے اور تصوف و درویشی ان کا آبائی ذوق تھا۔ چنانچہ اسی بنا پر میر حسن نے انہیں ’’فقیہِ بے مثال اور درویشِ باکمال‘‘ بھی ظاہر کیا ہے۔

تذکرۂ بزم سخن میں ’’دہلوی مولد بخاری موطن مقیم لکھنؤ لکھا ہے۔ ان کا خاندان بخارا سے ہندوستان کس زمانہ میں آیا، اس کا پتہ چلانا دشوار ہے اور نہ اس کی چنداں ضرورت، کیونکہ بہرحال سوز دہلی ہی میں پیدا ہوئے، یہیں نشو و نما پائی، اور اسی جگہ ایک استاد کامل کی حیثیت سے وہ مشاعروں میں شریک ہوتے رہے۔ ان کا زمانہ متعین کرنے کے لئے ان کے سنہ ولادت کی جب جستجوکی جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ کسی تذکرہ نویس نے اس تحقیق کی زحمت گوارا نہیں کی، لیکن اگر یہ صحیح ہے کہ ان کا انتقال 1213ھ میں ہوا جب کہ ان کی عمر 70 سال کی تھی تو اس طرح ان کا سن ولادت 1143ھ ماننا پڑے گا اور اگر 1212ھ ان کا سنہ وفات تسلیم کیا جائے (جو غالباً درست نہیں) تو سنہ ولادت 1142ھ متعین کیا جائے گا۔ بہرحال اس حساب سے میر سوز 1140ھ اور 1145ھ کے درمیان کسی سال میں پیدا ہوئے ہوں گے۔

اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ 20 سال کی عمر میں سوز کی مشقِ سخن کافی ہو گئی ہوگی تو اس وقت سودا اور میرؔ کی عمر 38، 38 سال کی رہی ہوگی اور درد کی 24 سال کی، گویا دوسرے الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ان چاروں نے چند سال کے فرق سے ایک ہی ساتھ شاعری کا آغاز کیا۔ اور اس کا شباب بھی ساتھ ہی ساتھ رہا، یہی سبب ہے کہ جب اس دور کے اساتذہ کا ذکر ہوتا ہے تو میر، سودا اور درد کے ساتھ سوز کا نام بھی لیا جاتا ہے اور جس طرح اوّل الذّکر تین استادوں کے متبعین پیدا ہو گئے تھے، اسی طرح سوز کے رنگ کا تبتع کرنے والے بھی اس وقت پائے جاتے تھے۔

سوز علاوہ شاعر ہونے کے خطاطی کے بھی ماہر تھے اور فنون سپہ گری میں بھی کمال رکھتے تھے۔ خصوصاً تیر اندازی اور شہسواری میں خاص ملکہ حاصل تھا اور جسمانی طاقت بھی غیر معمولی رکھتے تھے۔ آزاد نے لکھا ہے کہ ’’1191ھ میں لباس فقر اختیار کیا اور لکھنؤ چلے گئے۔‘‘ لیکن دوسرے تذکروں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سوز دہلی چھوڑ کر پہلے فرخ آباد آئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب محمد شاہ رنگیلے کے بعد شاہ عالم کے دور میں دہلی پر تباہی آ چکی تھی اور ایک ایک کرکے تمام اکابر فن اودھ کی طرف منتقل ہو رہے تھے۔ شاہ زادگان میں سے مرزا محمد سلیمان شکوہ اور مرزا جہاں دار شاہ بھی اس طرف چلے آئے تھے اور ان کے دربار شعرا کے مرجع بنے ہوئے تھے۔ چنانچہ مصحفیؔ و انشاؔ اوّل اوّل سلیمان شکوہ ہی کے دربارسے وابستہ ہوئے اور بعد کو جرأت بھی یہیں آ گئے۔ اسی طرح مرزا جہاں دار شاہ کے دربار سے شکوہ میر درد کے شاگرد مرزا محمد اسماعیل تپش اور مرزا جعفر علی حسرت وابستہ تھے۔

الغرض سوز بھی ترک وطن کے بعد سب سے پہلے فرخ آباد گئے اور مہربان خاں رند کے دربار میں پہنچے تھے اور اسی امیر کی شاعر نوازی سے مستفید ہوئے تھے۔ فرخ آباد میں کچھ زمانہ بسر کرنے کے بعد مرشد آباد پہنچے اور اس کے بعد لکھنؤ آئے۔ ان کے لکھنؤ آنے کا زمانہ 1212ھ بتایا جاتا ہے، جب نواب آصف الدولہ حکمراں تھا۔ یعنی 23 سال فرخ آباد اور مرشد آباد میں بسر کرنے کے بعد لکھنؤ پہنچے اور آصف الدولہ نے ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا لیکن اس کے ایک ہی سال بعد 1213 میں انتقال ہو گیا اور لکھنؤ میں دفن کیے گئے۔

اوّل اوّل جب دہلی میں تھے تو میر تخلص کرتے تھے لیکن دہلی چھوڑتے ہی اس کو بھی چھوڑ دیا اور سوز تخلص اختیار کیا۔ ان کے شعر پڑھنے کا رنگ بالکل نرالا تھا۔ چنانچہ آزاد نے لکھا ہے کہ آواز درد ناک تھی، شعر نہایت نرمی اور سوز و گداز سے پڑھتے تھے، شعر کو اس طرح ادا کرتے تھے کہ خود مضمون کی صورت بن جاتے تھے۔ چنانچہ ایک بار جب انہوں نے اپنا قطعہ پڑھا۔

گئے گھر سے جو ہم اپنے سویرے سلام اللہ خاں صاحب کے ڈیرے وہاں دیکھے کئی طفل پری رو ارے رے رے، ارے رے رے، ارے رے رے

تو چوتھا مصرع پڑھتے پڑھتے وہیں زمین پر گر پڑے۔ آب حیات میں لکھا ہے کہ کسی غزل کا ایک قطعہ اس انداز سے سنایا کہ مشاعرہ کے سب لوگ گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ وہ قطعہ یہ تھا۔

او مار سیاہ زلف سچ کہہ بتلا دے دل جہاں چھپا ہو کنڈلی تلے دیکھیو نہ ہووے کاٹا نہ ہفی ترا برا ہو

’’پہلے مصرع پر ڈرتے ڈرتے بچ کر جھکے، گویا کنڈلی تلے دیکھنے کو جھکے ہیں اور جس وقت کہا ’’کاٹا نہ ہفی‘‘ بس دفعتاً ہاتھ کو چھاتی تلے مسوس کر ایسے بے اختیار لوٹ گئے کہ لوگ گھبرا کر سنبھالنے کو کھڑے ہو گئے۔‘‘ (آبِ حیات)

(ممتاز علمی اور ادبی شخصیت اور مقبول ادبی جریدے ’نگار‘ کے مدیر نیاز فتح پوری کے مضمون سے اقتباسات)

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے