مکہ مکرمہ صرف سعودی عرب کا ایک شہر نہیں۔ یہ وہ مقدس سرزمین ہے جسکی طرف دنیا بھر کے مسلمان نماز کیلئے رخ کرتے ہیں، جسکی طرف ہر صاحبِ استطاعت مسلمان زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ حاضری کی تمنا رکھتا ہے۔
مکہ مکرمہ کا تعلق کسی ایک قوم، نسل، ملک یا خطے سے نہیں، بلکہ پوری امت مسلمہ کے ایمان اور جذبات سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مکہ کی فضاؤں کی طرف بڑھنے والا کوئی خطرہ صرف سعودی عرب کیلئے خطرہ نہیں سمجھا جا سکتا، بلکہ کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کو بے چین کرنیوالا واقعہ بن جاتا ہے۔
ایسا کوئی حملہ کسی ایک ملک کیخلاف نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کیخلاف سمجھا جائیگا۔ سعودی حکام کے مطابق مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک حوثی ڈرون کو سعودی فضائی دفاع نے اس وقت تباہ کر دیا جب وہ مقدس شہر کے ممنوعہ فضائی علاقے میں داخل ہونا چاہ رہا تھا۔
بتایا جا رہا ہے کہ یہ مکہ کو نشانہ بنانے کی دوسری کوشش تھی۔ اگرچہ حوثیوں نے اس الزام کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ مکہ یا کسی مقدس مقام کو نشانہ بنانا ان کا مقصد نہیں تھا لیکن اس اختلاف سے قطع نظر ایک حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ مکہ مکرمہ کی سلامتی کے معاملے میں دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات غیر معمولی حساسیت رکھتے ہیں۔ اسلئے ایسے کسی بھی واقعے کو معمول کی جنگی کارروائی یا خطے میں جاری ایک اور حملے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
محترم مفتی تقی عثمانی نے اس واقعہ پر ردعمل دیتے ہوئے درست کہا کہ ان نازک حالات میں سعودی عرب پر حملے قابل مذمت اور تشویشناک ہیں۔ اُن کا کہنا تھاکہ تاریخ میں پہلی بار مکہ مکرمہ میں خطرے کے سائرن بجنا پوری امت مسلمہ کیلئےخطرے کی گھنٹی ہے۔
اس موقع پر امریکہ کا سعودیہ کی مدد سے انکار اُمت کے خلاف اسکے ان روایتی مذموم عزائم کا حصہ ہے۔ سچ پوچھیں تو امریکا اور اسرائیل کی تو خواہش ہو گی کہ ایسا کوئی واقعہ ہو جس کے نتیجے میں مسلمان آپس میں لڑیں، ایک دوسرے کا خون بہائیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس واقعے پر انتہائی سخت الفاظ میں افسوس اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام اس واقعے سے غم زدہ و مضطرب ہیں اور سعودی عرب کے مقدس مقامات کی سلامتی کو ہر پاکستانی اپنے دل کے قریب سمجھتا ہے۔
اس سے پہلے بھی پاکستان نے سعودی عرب میں شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مملکت کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔ وزیراعظم کا یہ کہنا بھی قابلِ توجہ ہے کہ خطے کو مزید کشیدگی سے بچانے کیلئے فریقین کو زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور بات چیت اور سفارتکاری کو راستہ بنانا چاہیے۔
13ستمبر کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر گفتگو میں بھی وزیراعظم نے حوثیوں کے حملوں کی مذمت، سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی اور خطے میں کشیدگی کم کرنےکیلئے پاکستان کی کوششیں جاری رکھنے کا عزم دہرایا تھا۔
بے شک سیاسی اختلافات ہوں، علاقائی تنازعات ہوں، حکومتوں کے درمیان دشمنیاں ہوں یا کسی فریق کے دوسرے فریق سے شدید اختلافات، ان سب کا جواب یہ نہیں ہو سکتا کہ ان مقامات کو خطرے میں ڈال دیا جائے جن سے کروڑوں انسانوں کے عقائد اور جذبات وابستہ ہیں۔ مکہ اور مدینہ کے تقدس کا معاملہ کسی حکومت کی پالیسی سے بڑا معاملہ ہے۔
سعودی حکومت سے کسی کو اختلاف ہو سکتا ہے، سعودی عرب کی کسی داخلی یا خارجی پالیسی سے اختلاف بھی ممکن ہے، لیکن ان اختلافات کی وجہ حرمین شریفین کے تقدس کی پامالی کی کسی بھی کوشش کو کبھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ کسی صورت بھی یہ طرز عمل قابلِ برداشت نہیں ہو سکتا۔
سیاسی تنازعات اپنی جگہ، مقدس مقامات کا احترام اپنی جگہ۔ مسلمانوں کیلئے مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ ایک ایسی ریڈ لائن ہیں جس کا کسی دوسری ریڈ لائن سے موازنہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ہر رنگ، نسل، زبان اور ملک کے مسلمان ایک ہی سمت رخ کرکے کھڑے ہوتے ہیں۔ کوئی پاکستانی ہو یا عرب یا کوئی اور…خانہ کعبہ سب کیلئے قبلہ ہے۔
اسی طرح مدینہ منورہ بھی پوری امت کے دل میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہی عالمگیر تعلق ان مقامات کی سلامتی کو پوری امت کا مشترکہ جذباتی مسئلہ بنا دیتا ہے۔ سعودی فضائی دفاع نے ڈرون کو مقدس شہر کے ممنوعہ فضائی علاقے میں داخل ہونے سے پہلے روک لیا، جس پر سعودی حکام نے اپنے دفاعی اداروں کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہا ہے لیکن اصل ضرورت اس سے بھی آگے کی ہے۔
یہ امر از بس لازم ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت تمام مقدس مقامات کو کسی بھی جنگی کشمکش سے مکمل طور پر محفوظ رکھا جائے اور اسے بین القوامی قانون کا ایک ایسا اصول بنایا جائے جسکی خلاف ورزی کرنے کی کسی میں جرات بھی نہ ہو۔
علمائے کرام، مسلم ممالک کی حکومتیں اور اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے سامنے آنیوالے ردعمل میں بھی یہی بنیادی احساس نمایاں ہے کہ حرمین شریفین کی سلامتی ایک غیر معمولی معاملہ ہے۔ آج ضرورت کسی نئی جنگ کے شعلے بھڑکانے کی نہیں بلکہ موجودہ آگ کو مزید پھیلنے سے روکنے کی ہے۔ اگر خطے کے ممالک واقعی اپنے عوام، اپنی معیشتوں اور اپنی آنے والی نسلوں کو مزید تباہی سے بچانا چاہتے ہیں توانہیں میزائل اور ڈرون کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
آج اگر کوئی میزائل یا ڈرون کسی مقدس شہر کے قریب پہنچتا ہے تو کل اس کے اثرات کسی اور شہر، کسی اور ملک اور کسی اور نسل تک پہنچ سکتے ہیں۔ حرمین شریفین کا امن صرف سعودی عرب کی ذمہ داری نہیں؛اسکی اہمیت ہر مسلمان کیلئے ہے۔
جہاں تک پاکستان کی بات ہے تو ہم تو سعودی عرب کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدہ سے پہلے بھی حرمین شریفین کی حفاظت کو اپنے لیے سعادت اور فخر کی بات سمجھتے تھے اور ان مقدس مقامات کی حفاظت کیلئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کیلئے بھی تیار ہیں۔ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ بے شک اختلافات رہیں، سیاسی تنازعات رہیں، سفارتی محاذ آرائیاں بھی ہوں، لیکن مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا تقدس سب سے بلند رہنا چاہیے۔
دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں ان مقدس مقامات کیلئے جو محبت ہے، اسے کسی جنگ، کسی تنازع اور کسی سیاسی کشمکش کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ مکہ کی طرف آنیوالے کسی بھی خطرے کیخلاف آواز اٹھانا دراصل اس اصول کی حفاظت ہے کہ کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جنہیں جنگ کی آگ سے ہر حال میں محفوظ رہنا چاہئے۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
مریم نواز کا بیان اور زمینی حقائق
پاکستان کرکٹ: نظام کٹہرے میں
ننگشیا ریجن کا میڈیا کلاؤڈ پلیٹ فارم
صوبے یا انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت
صوبے نہیں بن رہے!!
نئے صوبے یا نئے انتظامی یونٹس
سپر ایل نینو: پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی
حیرتوں والی زمین بیجنگ کا سفر
بدلتا پاکستان، قیادت، خدمت اور عالمی اعتماد کا سفر
صوبے بعد میں پہلے شناخت طے کریں!
’’کشمیر فریب زدہ‘‘
تازہ ترین
• 10 منٹ پہلے مکہ کی طرف بڑھتا ڈرون!
• 2 گھنٹے پہلے ایشین گیمز : پاکستانی گھوڑا ایڈن ڈو ویریٹ المعروف میراج بحفاظت ٹوکیو پہنچ گیا
ایشین گیمز : پاکستانی گھوڑا ایڈن ڈو ویریٹ المعروف میراج بحفاظت ٹوکیو پہنچ گیا
• 2 گھنٹے پہلے اسرائیل اور مراکش کا سفارتی تعلقات بڑھانے کا اعلان
اسرائیل اور مراکش کا سفارتی تعلقات بڑھانے کا اعلان
• 2 گھنٹے پہلے یورپی یونین نے دوسرے ممالک کیساتھ مل کر اپنی سکیورٹی کونسل بنانے کا اعلان کر دیا
یورپی یونین نے دوسرے ممالک کیساتھ مل کر اپنی سکیورٹی کونسل بنانے کا اعلان کر دیا
• 3 گھنٹے پہلے 60 فیصد پاکستانی ملکی تعلیمی نظام سے غیر مطمئن، جدید تقاضوں کے برعکس قرار دے دیا
60 فیصد پاکستانی ملکی تعلیمی نظام سے غیر مطمئن، جدید تقاضوں کے برعکس قرار دے دیا
• 4 گھنٹے پہلے پاکستان نے ازبکستان میں ہونیوالے چیس اولمپیاڈ ایونٹ میں اسرائیل کیخلاف میچ کا بائیکاٹ کردیا
پاکستان نے ازبکستان میں ہونیوالے چیس اولمپیاڈ ایونٹ میں اسرائیل کیخلاف میچ کا بائیکاٹ کردیا
• 5 گھنٹے پہلے پی آئی اے کی اسلام آباد سے مانچسٹر کی پرواز کی میڈیکل ایمرجنسی لینڈنگ
پی آئی اے کی اسلام آباد سے مانچسٹر کی پرواز کی میڈیکل ایمرجنسی لینڈنگ
• 6 گھنٹے پہلے اسلام آباد: سانحہ پمز میں بچ جانے والی واحد بچی زندگی کی بازی ہار گئی
