• ستمبر 17, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 17, 2026 11:09 صبح
  • پاکستان

اے آئی کو چکما دینے والی شرٹ : حیرت انگیز ایجاد

جب ملازمہ کے سیب کھاتے ہی صدیوں پرانے نایاب ہیرے کی چوری پکڑی گئی

یہ شخص ’عورت‘ کیوں بن گیا؟ شاطرانہ چال!

عمان : سمندر کے اوپر سے گزرنے والا کیبل کار منصوبہ تیار

کراچی: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے شاہراہ فیصل بزنس ایونیو میں چھاپے کے دوران کئی سال سے مبینہ طور پر غیر قانونی کال سینٹر چلائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

اس کارروائی کی ویڈیو بھی اے آر وائی نیوز نے حاصل کر لی ہے، این سی سی آئی اے کے مطابق کال سینٹر میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو بھی ملازمت پر رکھا گیا تھا، جب کہ خواتین سمیت بڑی تعداد میں افراد یہاں کام کرتے تھے۔

کال سینٹر میں بہ یک وقت 50 سے زائد افراد کی موجودگی کا بھی انکشاف ہوا ہے، این سی سی آئی اے کے مطابق علی صدیقی عرف میڈی، فواد احمد اور فاروق مبینہ طور پر کال سینٹر کے مالکان تھے، جنھوں نے جدید طرز کا بڑا کال سینٹر قائم کر رکھا تھا، جہاں 24 گھنٹے سرگرمیاں جاری رہتی تھیں۔

تحقیقات کے مطابق کال سینٹر میں کام کرنے والے مرد اور خواتین خود کو غیر ملکی مالیاتی اداروں اور کمپنیوں کا نمائندہ ظاہر کر کے غیر ملکی شہریوں سے رابطہ کرتے اور مبینہ طور پر فراڈ کے ذریعے ان سے رقم اور حساس معلومات حاصل کرتے تھے۔

کراچی میں غیر ملکی شہریوں سے فراڈ کرنے والا ایک اور کال سینٹر پکڑا گیا

ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو ملازمت دینے کے معاملے کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور یہ معلوم کیا جا رہا ہے کہ انھیں کس بنیاد پر کال سینٹر میں رکھا گیا تھا۔

این سی سی آئی اے نے کارروائی کے دوران مبینہ منظم نیٹ ورک ختم کرتے ہوئے 27 ملزمان کو گرفتار کیا، گرفتار ملزمان اور افغان شہریوں سے تفتیش کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جب کہ نیٹ ورک سے منسلک دیگر افراد اور ممکنہ سہولت کاروں سے متعلق بھی تحقیقات جاری ہیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے