آرم ریسلر نے بچی کے والد سے جان بوجھ کر ہار کر سب کے دل جیت لیے
2300 سال سے زائد قدیم ارسطو کا اسکول دریافت
ملازم نے 10 ہزار روپے کم تنخواہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگادی
شیرخوار بیٹی کو اوون میں ڈالنے والی ماں کو سزا ہوگئی
پیرس: فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی بندرگاہ ینبع کے تحفظ کے لیے فوجی دستے بھیجے جائیں گے۔
غیر ملکی ذرائع ا بلاغ کے مطابق فرانسیسی صدر کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان لڑائی گذشتہ کئی ہفتوں سے جاری ہے اور حوثیوں کی جانب سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
صدر میکخواں کا ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ ’ہم اس مقام کے تحفظ کے لیے فوجی وسائل بھیجیں گے، یعنی فوجی اہلکار، ریڈارز اور دفاعی نظام۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم بحیرہ احمر میں واقع ینبع میں تیل کی تنصیب کے تحفظ کے لیے فوجی وسائل، یعنی فوجی، ریڈار اور دفاعی نظام تعینات کریں گے۔‘
فرانس کے صدر کے مطابق اس فیصلے کو سعودی حکام کے ساتھ مشاورت کے بعد حتمی شکل دی گئی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ینبع بندرگاہ روزانہ لاکھوں بیرل تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے اور حالیہ حملے کے نتیجے میں اسے شدید نقصان پہنچا ہے۔
تاہم فرانسیسی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ فرانس فوج کا مقصد کسی جنگ یا عسکری تنازع میں شامل ہونا نہیں ہے۔
ایران کا کینیڈا کو سخت جواب!
اُن کا کہنا تھا کہ فرانس آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھلوانے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دے رہا ہے۔
