• ستمبر 29, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 29, 2026 3:48 شام
  • پاکستان

ایک ملک کے وزیراعظم پر موبائل فون چوری کا الزام، پارلیمنٹ نے استثنیٰ ختم کر دیا!

اہلیہ کے علاج کیلیے مسلسل جدوجہد، 81 سالہ شوہر کی ویڈیو نے سب کو رُلا دیا

پکوڑے کے اسٹال میں ’چٹنی‘ نہ ملنے پر لاتیں اور مُکے چل گئے، ویڈیو وائرل

جاپانی شخص کئی سالوں تک غیرآباد مکان کا کرایہ کیوں دیتا رہا؟؟

لندن: لیبر پارٹی کی مخالفت کے بعد برطانیہ کی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے تارکینِ وطن کی مستقل رہائش میں مجوزہ تبدیلیاں نرم کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق وزیر داخلہ شبانہ محمود نے عندیہ دیا ہے کہ وہ برطانیہ میں غیر ملکی کارکنوں کے لیے مستقل رہائش حاصل کرنا مزید مشکل بنانے کے منصوبوں پر نظرثانی کے لیے تیار ہیں۔

یہ پیش رفت لیبر پارٹی کے ارکانِ پارلیمنٹ، کابینہ کے ساتھیوں اور ٹریڈ یونینز کی جانب سے مسلسل دباؤ کے بعد سامنے آئی ہے، جن کا مؤقف ہے کہ حکومت کے مجوزہ منصوبے حد سے آگے جا رہے ہیں۔

لیبر پارٹی کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شبانہ محمود نے تسلیم کیا کہ بعض ناقدین مجوزہ اصلاحات کے کچھ حصوں کو غیر منصفانہ سمجھتے ہیں۔ انھوں نے مستقل رہائش کے قوانین پر نظر ثانی کا عندیہ دیا۔

برطانیہ میں ڈیزل کی قیمت نے مہنگائی کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا

واضح رہے کہ برطانیہ میں مستقل رہائش کا قانون کسی شخص کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ برطانیہ میں اپنی مرضی کی مدت تک رہ، کام اور تعلیم حاصل کر سکے اور اگر وہ شرائط پر پورا اترتا ہو تو سرکاری مراعات کے لیے درخواست دے سکے۔

جب کہ شبانہ محمود نے تجویز دی ہے کہ زیادہ تر تارکینِ وطن کے لیے مستقل رہائش کے اہل ہونے کی مدت 5 سال سے بڑھا کر 10 سال کر دی جائے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت ہیلتھ اور سوشل کیئر کے ویزوں پر برطانیہ آنے والے بعض افراد کو مستقل رہائش کے لیے 15 سال تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ اور ایک سال سے زائد عرصہ فوائد لینے والوں کے لیے 20 سالہ انتظار کی تجویز ہے۔

خیال رہے کہ مستقل رہائش کے قوانین میں سختی کے خلاف لیبر ارکان اور ٹریڈ یونینز کا دباؤ ہے، انجیلا رینر سمیت متعدد لیبر ارکان نے امیگریشن اصلاحات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، یونیسن نے بیرون ملک سے آنے والے کیئر ورکرز کو مجوزہ تبدیلیوں سے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا۔

ہوم سیکریٹری شبانہ محمود نے کہا کہ امیگریشن نظام میں انصاف کا توازن برقرار رکھا جائے گا، مستقل رہائش کے قوانین میں تبدیلی کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا، اور مجوزہ قوانین پر مشاورت جاری ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے