• ستمبر 14, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 14, 2026 2:24 شام
  • پاکستان

اسرائیلی وزیر ثقافت کے مطابق دونوں فلمسازوں کی شہریت منسوخ کرنے کیلئے فوری طور پر کارروائی ہو گی

غزہ جنگ پر بنائی گئی اسرائیلی دستاویزی فلم ’نازا‘ کو وینس فلم فیسٹیول میں ایوارڈ ملنے کے بعد اسرائیل میں شدید تنازع کھڑا ہو گیا۔

فلم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وینس فلم فیسٹیول میں اسے اعزاز ملنے کو ’حیران کن‘ قرار دیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ فلمسازوں نے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کرنے کیلئے اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچایا اور ان کے اقدام کو ریاست سے ’غداری‘ قرار دیا۔

הזכייה של הסרט הנבזי נז״א בפסטיבל ונציה מזעזעת. השנאה העצמית היוקדת של היוצרים שמוכנים לפגוע במולדתם כדי לקבל מחיאות כפיים מהאנטישמים בעולם בלתי נתפסת ומהווה בגידה במדינה. זו בדיוק הסיבה שהובלתי את הרפורמה החשובה בקולנוע כדי שאזרחי ישראל לא ישלמו יותר מכיסם על הפגיעה בחיילי צה״ל… — Miki Zohar מיקי זוהר (@zoharm7) September 13, 2026

הזכייה של הסרט הנבזי נז״א בפסטיבל ונציה מזעזעת. השנאה העצמית היוקדת של היוצרים שמוכנים לפגוע במולדתם כדי לקבל מחיאות כפיים מהאנטישמים בעולם בלתי נתפסת ומהווה בגידה במדינה. זו בדיוק הסיבה שהובלתי את הרפורמה החשובה בקולנוע כדי שאזרחי ישראל לא ישלמו יותר מכיסם על הפגיעה בחיילי צה״ל…

وزیر ثقافت کا کہنا تھا کہ وہ بطور وزیر دونوں فلمسازوں کی شہریت منسوخ کرنے کیلئے فوری طور پر کارروائی کریں گے۔

BREAKING: Israel's Minister of Culture and Sports has threatened to revoke citizenship of two film directors who produced a documentary about Israel's genocidal war on Gaza 🔴 LIVE updates: https://t.co/1x5OCju7PA pic.twitter.com/SR9vOONoR2 — Al Jazeera Breaking News (@AJENews) September 13, 2026

BREAKING: Israel's Minister of Culture and Sports has threatened to revoke citizenship of two film directors who produced a documentary about Israel's genocidal war on Gaza 🔴 LIVE updates: https://t.co/1x5OCju7PA pic.twitter.com/SR9vOONoR2

تاہم فراہم کردہ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ شہریت حقیقتاً منسوخ کر دی گئی ہے؛ فی الحال یہ وزیر کی جانب سے کارروائی کرنے کا اعلان ہے۔

واضح رہے کہ فلم اسرائیلی فوج کی کارروائیوں اور شہری ہلاکتوں سے متعلق سنگین الزامات پر مبنی ہے۔ فلم میں اسرائیلی فوج سے وابستہ افراد کے انٹرویوز شامل کیے گئے ہیں اور یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ فوجی کارروائیوں کے دوران شہریوں کے ممکنہ جانی نقصان کو کس طرح قابل قبول قرار دیا جاتا تھا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے