اے آئی سے ایک ارب افراد کی اموات، بل گیٹس نے خبردار کردیا
دو شوہروں اور بیٹے کا پراسرار قتل : پھانسی پانے والی عورت کی لرزہ خیز کہانی
شہزادہ ہیری نے وعدہ پورا کرنے کے لیے کینیڈا میں طیارے سے چھلانگ لگادی
شوہر کے دوسری لڑکی کیساتھ ڈانس کرنے پر ناراض بیوی نے انتہائی قدم اٹھا لیا
تقسیمِ ہند سے پہلے برصغیر میں اردو ادب کے افق پر جو تخلیق کار فکشن میں اپنے اسلوب اور نئے تجربات کی وجہ سے نمایاں ہوئے، ان میں سے ایک علی عباس حسینی ہیں۔ فکشن اور افسانہ نگاری میں علی عباس حسینی نے ہئیت و تیکنیک کے جو تجربات کیے، وہ ان کی جودتِ طبع کا ثبوت ہیں۔ علی عباس حسینی نے اردو نثر کو ناول اور افسانے کے علاوہ تنقیدی مضامین، ڈرامہ، تاریخ اور تراجم بھی دیے۔
غیرافسانوی ادب میں اپنے دل نشیں طرزِ تحریر اور فکشن میں منفرد اسلوب کے حامل علی عباس حسینی 3 فروری 1897ء کو بہار کے علاقہ غازی پور میں پیدا ہوئے۔ 1919ء میں کیننگ کالج لکھنؤ سے بی۔ اے کیا۔ بعد ازاں پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے 1924ء میں ایم۔ اے کی ڈگری لی اور تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگئے۔ یہ سفر ان کو لکھنؤ لے گیا جہاں 1954ء میں حسین آباد کالج سے بحیثیت پرنسپل ریٹائر ہوئے۔ اسی شہر میں علی عباس حسینی نے 27 ستمبر 1969ء کو آخری سانس لی۔ آج ان کی برسی ہے۔
بچپن سے ہی علی عباس حسینی کو قصے کہانیوں میں دل چسپی پیدا ہوگئی تھی۔ عمر کے ابتدائی زمانہ میں بچوں کے رسائل اور مختلف کتابوں کا مطالعہ شروع کردیا تھا۔ شعور کو پہنچے اور ذوق نکھرا تو الف لیلہ کے قصائص، فردوسی کا شاہ نامہ، طلسم ہوش ربا اور افسانوی ادب پڑھنا شروع کیا اور اسی کے زیرِ اثر قلم تھام لیا۔ انھوں نے افسانے تخلیق کیے اور مختلف ادبی پرچوں میں ان کی اشاعت کے بعد بطور ادیب علی عباس کی پہچان بننے لگی۔ 1917ء میں ان کا پہلا افسانہ "غنچۂ ناشگفتہ” کے عنوان سے شایع ہوا۔ 1920ء میں "سر سید احمد پاشا” کے قلمی نام سے پہلا رومانوی ناول "قاف کی پری” لکھا۔ شاید کہ بہار آئی” علی عباس حسینی کا دوسرا اور آخری ناول تھا۔ رفیقِ تنہائی، باسی پھول، کانٹوں میں پھول، میلہ گھومنی وغیرہ ان کے افسانوی مجموعے ہیں۔ اس کے علاوہ "ایک ایکٹ کے ڈرامے” کے عنوان سے بھی ان کی ایک کتاب شایع ہوئی تھی۔
علی عباس حسینی نے فکشن لکھا ہی نہیں اپنی تنقیدی بصیرت سے کام لے کر اپنے عہد کے ایک نقاد کے طور پر بھی مضامین سپردِ قلم کیے۔ ان کے تنقیدی مضامین پر مشتمل کتاب "ناول کی تاریخ و تنقید” ایک مفصل اور لائقِ مطالعہ کتاب ہے۔
