پولیس کی گرفتار افراد کو ٹیلر سوئفٹ کے گانے بار بار سنانے کی دھمکی
دریشم 3 نے بیٹے کو قاتل بنا دیا، 2000 کلومیٹر سفر طے کر کے باپ کو کیسے قتل کیا؟
ویڈیو: نوجوان نے بلندی سے گرنے والے بچے کو عین وقت پر بچا لیا
سی این جی بھروانے کے دوران کار میں زوردار دھماکا، فوٹیج جاری
ہیگ(6 اکتوبر 2026): عالمی فوجداری عدالت نے افغان طالبان کے چار سینئر رہنماؤں کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم اور خواتین و لڑکیوں کے خلاف منظم جبر کے الزام میں وارنٹ گرفتاری باضابطہ طور پر جاری کر دیے ہیں۔
عالمی فوجداری عدالت کی جانب سے جاری کردہ وارنٹس میں افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ، چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی، حبیب اللہ آغا اور ندا محمد ندیم شامل ہیں۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق یہ چاروں وارنٹس جولائی سے ستمبر 2025 کے دوران جاری کیے گئے تھے جنہیں تفتیشی اور سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اب تک خفیہ رکھا گیا تھا، تاہم اب عالمی عدالت نے 3 جولائی 2026 کو ان خفیہ وارنٹوں کو پبلک کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
آئی سی سی کا کہنا ہے کہ طالبان قیادت صنفی بنیادوں پر خواتین، لڑکیوں اور دیگر افراد کو منظم طریقے سے نشانہ بنا رہی ہے۔ طالبان کی ان پالیسیوں کے تحت خواتین اور لڑکیوں کے بنیادی حقوق شدید متاثر ہوئے ہیں۔
جن میں انہیں تعلیم، نقل و حرکت، اظہارِ رائے، سوچ، ضمیر اور مذہبی آزادی جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ طالبان پالیسیوں کی مخالفت یا خواتین و لڑکیوں کی حمایت کرنے والوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق یہ مبینہ جرائم 15 اگست 2021 سے کم از کم 20 جنوری 2025 تک جاری رہے۔ عدالتی دستاویزات میں قتل، قید، تشدد، عصمت دری اور جبری گمشدگی جیسی سنگین خلاف ورزیوں کا ذکر موجود ہے، جبکہ صنفی بنیادوں پر جبر میں براہ راست تشدد کے ساتھ ساتھ نظامی و ادارہ جاتی نقصان بھی شامل ہے۔
23 جنوری 2025 کو آئی سی سی پراسیکیوٹر نے پہلے دو وارنٹس کے لیے درخواست دی، 8 جولائی 2025 کو عالمی فوجداری عدالت کے ججز نے پہلے دو وارنٹس کا اجرا کیا۔9 ستمبر 2025 کو ججز نے مزید دو وارنٹس جاری کیے جبکہ 3 جولائی 2026 کو عالمی عدالت نے تمام خفیہ وارنٹ گرفتاری کو عوام کے سامنے لانے کا حکم دیا۔
عالمی فوجداری عدالت کے مطابق اس سنگین معاملے پر تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے طالبان کے مزید سینئر ارکان کے خلاف بھی قانونی کارروائی اور وارنٹ گرفتاری کی درخواستیں متوقع ہیں۔
