خلائی مخلوق یا دیوہیکل جہاز؟ اسٹار شپ کی لائیو اسٹریم میں پُراسرار’یو ایف او‘ کی جھلک وائرل
امریکا میں 200 سال بعد سزائے موت پانی والی خاتون نے 2 بار موت کا چکما دے دیا
انوکھا گاؤں، رکشا ڈرائیور بھی کروڑ پتی، ہر گھر محل جیسا اور ہر دروازے پر لگژری کار
ٹیڈ کازنسکی : انتہائی ذہین طالب علم ’یونابومبر‘ کیسے بن گیا؟ ہوشربا داستان
ریاض(2 اکتوبر 2026): سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی سیکیورٹی ٹیموں کی مشترکہ ابتدائی تحقیقات میں ایک سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی سیکیورٹی ٹیموں کی مشترکہ ابتدائی تحقیقات میں ایک سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ تبوک ایئرپورٹ پر فلائی دبئی کی پرواز کی ہنگامی لینڈنگ کی اصل وجہ طیارے کے معاون پائلٹ کی جانب سے کپتان پر حملہ تھا۔
سعودی وزارت داخلہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق، فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 نے 30 ستمبر کو صبح 9 بجکر 45 منٹ پر تبوک کے پرنس سلطان بن عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بحفاظت ہنگامی لینڈنگ کی تھی۔
جس وقت یہ واقعہ پیش آیا، طیارے میں 174 مسافر اور عملے کے 8 ارکان سوار تھے، اور خوش قسمتی سے تمام مسافر اور عملہ محفوظ رہا۔
فلائی دبئی کے پائلٹ پر چاقو حملے کے فوری بعد جہاز میں کیا ہوا؟ اندر کے مناظر اور تفصیلات جانیے
ابتدائی تحقیقات کے مطابق، پرواز کے دوران معاون پائلٹ نے مبینہ طور پر کپتان پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں کپتان اور معاون پائلٹ دونوں کو مختلف نوعیت کی چوٹیں آئیں۔ ہنگامی لینڈنگ کے بعد زخمی پائلٹس کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔
سعودی حکام نے بتایا کہ شام 5 بجکر 40 منٹ پر تمام مسافروں کو ایک متبادل فلائی دبئی طیارے کے ذریعے ان کی منزل کے لیے روانہ کر دیا گیا جبکہ پرواز کا عملہ بھی متبادل طیارے سے دبئی واپس چلا گیا۔
طبیعت بہتر ہونے اور ڈاکٹروں کی اجازت ملنے کے بعد، یکم اکتوبر کو کپتان اور معاون پائلٹ کو اماراتی سیکیورٹی ٹیم کی خصوصی نگرانی میں ابوظبی روانہ کر دیا گیا۔
سعودی وزارت داخلہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مملکت ہنگامی حالات میں بین الاقوامی اور انسانی ذمہ داریوں کے مطابق تمام ضروری اور بروقت اقدامات کرتی ہے۔
اس سے قبل فلائی دبئی نے اپنے ایک بیان میں تصدیق کی تھی کہ ان کی پرواز کے کاک پٹ میں عملے کے درمیان تلخ کلامی اور جھگڑا ہوا تھا، جس کے بعد عملے نے ہوشیاری سے طیارے کو کور کرتے ہوئے بحفاظت سعودی عرب کی جانب موڑ لیا اور ہنگامی لینڈنگ کرائی گئی۔
ائیرپورٹ حکام کے مطابق اس واقعے کے نتیجے میں طیارے کا کپتان اور معاون پائلٹ زخمی ہو گئے تھے، جنہیں لینڈنگ کے فوری بعد اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ اس تمام صورتحال کے دوران طیارے میں سوار تمام مسافر اور عملے کے دیگر ارکان بالکل محفوظ رہے اور کسی کو کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا۔
دوسری جانب، سعودی عرب کے نیشنل ٹرانسپورٹ سیفٹی سینٹر نے بتایا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ان کی سیفٹی انویسٹی گیشن ٹیم نے باضابطہ طور پر کام شروع کر دیا ہے۔ یہ ٹیم متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطہ کاری کر رہی ہے تاکہ واقعے کے محرکات معلوم کیے جا سکیں، ایوی ایشن سیفٹی کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے اور واقعے سے متعلقہ تمام شواہد و معلومات اکٹھی کی جا سکیں۔
