• ستمبر 12, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 12, 2026 6:09 شام
  • پاکستان

نوجوان لڑکوں کو لوٹنے والی لٹیری دلہن فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار، طریقہ واردات بھی سامنے آگیا

انڈہ ابالنے کا حیرت انگیز طریقہ : من پسند زردی کیسے بنے گی؟

روبوٹس کا انسانوں کے حق میں مظاہرہ!

دنیا کی سب سے ’’ دُبلی پتلی کار‘‘، ریکارڈ بُک میں نام درج

سیول(12 ستمبر 2026): شمالی کوریا نے اپنے مشرقی ساحل سے سمندر کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل داغ دیے ہیں، یہ میزائل تقریباً 250 کلومیٹر تک پرواز کرنے کے بعد سمندر میں جاگرے۔

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق یہ میزائل ہفتے کی صبح تقریباً 5 بج کر 20 منٹ پر شمالی کوریا کے مشرقی ساحلی علاقے وونسان سے داغے گئے۔ تقریباً 250 کلومیٹر یعنی 155 میل کا فاصلہ طے کرنے والے ان میزائل تجربات کے بعد جنوبی کوریا کی فوج نے معلومات کا امریکا اور جاپان کے ساتھ قریبی تبادلہ شروع کر دیا ہے۔

صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے جنوبی کوریا کے صدارتی نیشنل سیکیورٹی آفس نے فوری طور پر ہنگامی اجلاس طلب کیا، جس میں وزارت دفاع، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔

دوسری جانب امریکی پیسیفک کمانڈ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ شمالی کوریا کے ان میزائل تجربات سے امریکا یا اس کے اتحادیوں کی سرزمین کو فی الحال کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں ہے۔

کمانڈ نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ واشنگٹن جنوبی کوریا اور خطے میں اپنے دیگر اتحادیوں کے دفاع کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔

خیال رہے کہ یہ میزائل تجربات ایسے حساس وقت میں کیے گئے ہیں جب جنوبی کوریا نے امریکا اور جاپان کے ساتھ شمالی کوریا کے تناظر میں پانچ روزہ مشترکہ بحری مشقیں مکمل کی ہیں۔

پیر کے روز ان مشقوں کے آغاز کے چند گھنٹے بعد ہی شمالی کوریا کے وزیر دفاع کم سونگ گی نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ پیانگ یانگ اپنی طاقت کی بنیاد پر مضبوط اور فوری جوابی اقدامات کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کے آخر میں بھی شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود میں ہونے والی ’فریڈم ایج‘ مشقوں کے منصوبے کو پیانگ یانگ اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے خطرہ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔

اس سے قبل 20 اگست کو بھی ایسے ہی میزائل داغے گئے تھے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے رواں سال ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقیں طویل عرصے سے پیانگ یانگ کی شدید تنقید کا مرکز رہی ہیں، کیونکہ شمالی کوریا ان مشقوں کو اپنے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاری قرار دیتا ہے اور ماضی میں بھی ایسی مشقوں کے دوران یا ان کے آس پاس میزائل تجربات کرتا رہا ہے۔

رواں سال امریکا اور جنوبی کوریا نے سالانہ ’اولچی فریڈم شیلڈ‘ فوجی مشقیں محدود پیمانے پر منعقد کی تھیں، تاہم امریکی صدر کی جانب سے ان مشقوں کو نا مناسب اور مخاصمانہ قرار دے کر کم کرنے کی ہدایات پر خطے میں امریکا کے اتحادیوں کے اندر تشویش کی لہر بھی دوڑ گئی تھی۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے