• ستمبر 24, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 24, 2026 12:38 شام
  • پاکستان

2300 سال سے زائد قدیم ارسطو کا اسکول دریافت

ملازم نے 10 ہزار روپے کم تنخواہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگادی

شیرخوار بیٹی کو اوون میں ڈالنے والی ماں کو سزا ہوگئی

نوجوان لڑکوں کو سفاکی سے قتل کرنیوالے سیریل کلر کا بھیانک انجام

تہران: ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ جب تک ایران کی شرائط پوری نہیں ہوتیں، آبنائے ہرمز بند رہے گی اور امریکا کے ساتھ مذاکرات بھی دوبارہ شروع نہیں کیے جائیں گے۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی کا کہنا تھا کہ ایران نے تنازع کے خاتمے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے 7 شرائط مقرر کی ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ یہ شرائط تحریری طور پر پاکستان اور قطر کے پاس موجود ہیں اور ایران کا مؤقف ہے کہ امریکا کو مذاکرات کی طرف بڑھنے کے لیے پہلا قدم اٹھانا ہوگا۔

محسن رضائی نے کہا کہ ایران اس مذاکراتی عمل میں واپس نہیں جائے گا جو جنگ سے پہلے جاری تھا۔ موجودہ صورتحال میں تہران کی شرائط مختلف ہیں اور جب تک ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا، نہ آبنائے ہرمز کھولی جائے گی اور نہ مذاکرات ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کھولنے کا معاملہ جنگ کے خاتمے اور امریکی فوجی دباؤ میں کمی سے مشروط ہے۔

انہوں نے خطے کے دیگر ممالک کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امریکی فوجی کارروائیوں کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر کسی ملک نے ایرانی طیاروں کو اپنی فضائی حدود یا ہوائی اڈوں کے استعمال کی اجازت نہ دی تو ایران بھی ان ممالک کی فضائی سرگرمیوں کے حوالے سے جوابی اقدامات اُٹھائے گا۔

ایرانی عہدیدار نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ٹرمپ کے خطاب پر بھی سخت تنقید کی اور اسے ایران کے خلاف امریکی مؤقف کا دفاع قرار دیا۔

امریکا اور ایران میں برف پگھلنے لگی، دوسری ملاقات کی اہمیت بڑھ گئی

رضائی نے دعویٰ کیا کہ ایرانی افواج نے پہلی مرتبہ اپنے میزائل کو امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کے اوپر سے پرواز کرنے کے قابل بنایا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے