• اکتوبر 1, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 1, 2026 7:16 شام
  • پاکستان

انوکھا گاؤں، رکشا ڈرائیور بھی کروڑ پتی، ہر گھر محل جیسا اور ہر دروازے پر لگژری کار

ٹیڈ کازنسکی : انتہائی ذہین طالب علم ’یونابومبر‘ کیسے بن گیا؟ ہوشربا داستان

امریکا میں ’شارک‘ سڑکوں پر تیرنے لگیں

درخت کی ٹہنی گرنے سے زخمی شہری کو 8 کروڑ معاوضہ دینے کا حکم

پاکستانی فلموں کے مقبول ہیرو سیّد کمال نے بطور فلم ساز اور ہدایت کار بھی کام کیا اور ٹیلی ویژن ڈراموں میں بھی اپنے فن کے جوہر دکھائے۔ چھوٹی اسکرین پر کمال کو ایک پروگرام کے میزبان کے طور پر بھی آزمایا گیا تھا۔ 1960ء کی دہائی میں اداکار نے فلمی دنیا میں اپنا عروج دیکھا اور ایک دہائی تک وہ فلم بینوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ آج اداکار کی برسی ہے۔ سید کمال یکم اکتوبر 2009ء میں انتقال کرگئے تھے۔

سید کمال کا تعلق متحدہ ہندوستان کے شہر میرٹھ سے تھا۔ وہ 27 اپریل 1937 کو پیدا ہوئے۔ ان کا نام سیّد کمال شاہ رکھا گیا۔ قیام پاکستان سے قبل کمال کو ممبئی میں بننے والی فلم ’’باغی سردار‘‘ میں مختصر کردار نبھانے کا موقع ملا۔ وہ تقسیم ہند کے بعد پاکستان چلے آئے اور یہاں بھی فلم انڈسٹری میں قدم جمانے کی کوشش کی۔ معروف ہدایت کار شباب کیرانوی نے انھیں اپنی فلم ’’ٹھنڈی سڑک‘‘ میں بطور ہیرو موقع دیا۔ یوں پاکستانی فلم انڈسٹری میں بطور اداکار سید کمال کا سفر شروع ہوا۔ بطور ہیرو اور اداکار اپنا نام بنانے کے بعد انھوں نے فلم ساز، ہدایت کار اور کہانی نویس کے کی حیثیت سے بھی اپنی فنی صلاحیتوں‌ کا اظہار کیا۔ اداکار کمال نے سنجیدہ اور مزاحیہ ہر قسم کے کردار نبھائے اور فلم بینوں نے انھیں بہت سراہا۔

پاکستانی فلم انڈسٹری کو کئی کام یاب اور یادگار فلمیں دینے والے سیّد کمال کو بولی وڈ کے مشہور اداکار راج کپور سے خاصی مشابہت تھی اور ان دونوں اداکاروں کی آپس میں‌ دوستی اور بے تکلفی بھی تھی۔ ان کی ملاقاتیں بھی ہوتی رہتی تھیں۔ ایک قصہ انڈسٹری میں مشہور ہے کہ کسی فلم کی شوٹنگ کے لیے راج کپور بھارت کے ایک شہر کے ہوٹل میں‌ ٹھیرے ہوئے تھے، وہ اپنے وقت کے مقبول انڈین ہیرو تھے۔ راج کپور کے مداحوں کو ہوٹل میں‌ ان کی موجودگی کا کسی طرح علم ہوگیا تو وہاں‌ ایک جمِ غفیر اکٹھا ہوگیا۔ مداحوں کا اصرار تھا کہ وہ ہوٹل کی بالکونی سے اپنی ایک جھلک دکھا دیں۔ اتفاق تھا کہ اس روز راج کپور کی طبیعت کچھ ناساز تھی اور سیّد کمال بھی ان کے ساتھ تھے، راج کپور نے انھیں اپنی جگہ بالکونی میں بھیج دیا۔ پاکستانی اداکار کمال نے وہاں سے لوگوں کو دیکھ کر اپنا ہاتھ ہلایا اور مداحوں کی محبّت اور والہانہ عقیدت کا جواب دیا۔ کسی کو شک نہ ہوا کہ یہ راج کپور نہیں بلکہ پاکستانی اداکار سید کمال ہیں۔

اداکار کمال نے اسّی سے زائد فلموں میں رومانوی، المیہ اور مزاحیہ کردار ادا کیے اور اپنے دور کی مشہور اداکاراؤں زیبا، دیبا، نیلو، شبنم، نشو اور رانی کے ساتھ کام کیا۔ اردو فلموں کے علاوہ انھیں چند پنجابی اور ایک پشتو فلم میں‌ بھی کردار نبھانے کا موقع ملا۔ سید کمال کی مشہور فلموں میں زمانہ کیا کہے گا، آشیانہ، ایسا بھی ہوتا ہے، ایک دل دو دیوانے، بہن بھائی، ہنی مون سرفہرست ہیں۔ بحیثیت فلم ساز اور ہدایت کار ان کی فلمیں جوکر، شہنائی، ہیرو، آخری حملہ، انسان اور گدھا اور سیاست ہیں۔ انسان اور گدھا 1973ء میں پاکستانی سنیما کے لیے ریلیز کی گئی تھی جو بہت کام یاب رہی کیوں‌ کہ اس میں پہلی بار ایک جانور کو مرکزی خیال بنا کر کہانی لکھی گئی تھی۔ اس مرکزی خیال کے مصنف تنویر کاظمی تھے جب کہ کہانی سید کمال نے ہی لکھی تھی اور وہی اس فلم کے پروڈیوسر اور ہدایت کار بھی تھے۔ فلم میں ہیرو کا کردار بھی کمال نے ہی نبھایا تھا۔ فلموں سے ریٹائرمنٹ کے بعد انھیں پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈراموں میں کردار آفر ہوئے جن میں مشہور ڈراما سیریل ’’کشکول‘‘ کا ایک کردار بھی شامل ہے۔

اداکار کمال نے 1985ء کے عام انتخابات میں بھی حصّہ لیا تھا مگر وہ سیاسی اکھاڑے میں کام یاب نہیں ہوسکے تھے۔ بعد میں انہی انتخابات کے واقعات کو انھوں نے اپنی فلم ’’سیاست‘‘ میں‌ پیش کیا۔ اداکار نے اپنی خود نوشت سوانح عمری بھی تحریر کی تھی۔ انھیں تین مرتبہ نگار ایوارڈ سے نوازا گیا اور لائف اچیومنٹ ایوارڈ بھی دیا گیا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے