• اکتوبر 1, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 1, 2026 8:09 شام
  • پاکستان

انوکھا گاؤں، رکشا ڈرائیور بھی کروڑ پتی، ہر گھر محل جیسا اور ہر دروازے پر لگژری کار

ٹیڈ کازنسکی : انتہائی ذہین طالب علم ’یونابومبر‘ کیسے بن گیا؟ ہوشربا داستان

امریکا میں ’شارک‘ سڑکوں پر تیرنے لگیں

درخت کی ٹہنی گرنے سے زخمی شہری کو 8 کروڑ معاوضہ دینے کا حکم

پاکستانی فلم انڈسٹری کو اپنے قیام کی ابتدائی دہائیوں میں جو فن کار اور ہر شعبہ کے لیے آرٹسٹ ملے، ان میں ریاض شاہد نے مختلف شعبوں میں اپنی فنی مہارت اور تخلیقی کام کی بدولت بڑا نام و مقام بنایا۔ فلمی تاریخ میں ریاض شاہد کو مکالمہ نگاری میں ایک نئے اسلوب کا موجد کہا جاتا ہے۔ ان کی فلمیں منفرد موضوعات کے ساتھ بطور فلم ساز اور ہدایت کار ہی نہیں ایک مصنّف کے طور پر ریاض شاہد کو باکمال ثابت کرتی ہیں۔

ریاض شاہد نے عملی زندگی کا آغاز تو صحافت سے کیا تھا۔ لیکن ان کی وجہِ شہرت فلم سازی اور مکالمہ نگاری ہے۔ ریاض شاہد کا تعلق لاہور کے ایک کشمیری گھرانے سے تھا۔ وہ 1930ء میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام شیخ ریاض تھا۔ ریاض شاہد نے لاہور کے اسلامیہ کالج سے تعلیم حاصل مکمل کی اور بطور صحافی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ وہ ’چٹان‘ سے وابستہ ہوئے جو اس زمانہ کا ایک مقبول اخبار تھا۔ بعد ازاں ریاض شاہد کو فیض احمد فیض کے جریدے ’لیل و نہار‘ سے وابستہ ہونے کا موقع ملا اور ان کا صحافتی سفر آگے بڑھتا رہا۔ ریاض شاہد نے ’ہزار داستان‘ کے نام سے ایک ناول بھی تحریر کیا اور چند فلموں کے لیے نغمات بھی لکھے۔ انھوں نے فلموں کے اسکرپٹ اور مکالمہ نگاری میں اپنی جان دار منظر کشی اور کاٹ دار مکالموں کی وجہ سے شہرت پائی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ریاض شاہد کا شمار ترقی پسند اور روشن خیال فن کاروں میں ہوتا تھا۔

بطور مصنّف ’بھروسہ‘ ریاض شاہد کی پہلی فلم تھی جس سے ان کو بڑی شہرت ملی۔ یہ فلم 1958ء میں نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ اس کے بعد ریاض شاہد کی فلم تہلکہ خیز فلم ’شہید‘ ریلیز ہوئی۔ 1962ء میں ریاض شاہد نے بطور ہدایت کار پہلی فلم ’سسرال‘ بنائی۔ یہ فلم یادگار ثابت ہوئی۔ اس کام یابی کے بعد انھوں نے فلم ’فرنگی‘ کی کہانی اور فلم ’نیند‘ کا اسکرپٹ لکھا جب کہ 1967ء میں ان کی تحریر کردہ کہانی فلم ’گناہ گار‘ کی شکل میں سامنے آئی۔ ریاض شاہد نے پاکستانی فلم انڈسٹری کو اہم تاریخی موضوعات پر بھی شاہکار فلمیں دیں۔ مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر کے پس منظر کے ساتھ ان کی فلم ’زرقا‘ اور ’یہ امن‘ کے علاوہ فلم ’’غرناطہ‘‘ ریاض شاہد کی ایک بہترین کاوش تھی۔ ریاض شاہد نے تیس سے زائد فلموں کی کہانیاں اور مکالمے لکھے جن میں ’’شکوہ، خاموش رہو، آگ کا دریا، بدنام، بہشت اور حیدر علی‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔ اردو کے علاوہ ریاض شاہد نے پنجابی فلموں کے اسکرپٹ بھی تحریر کیے جن میں ایک مشہور فلم’’نظام لوہار‘‘ بھی شامل ہے۔ ریاض شاہد نے گیارہ مرتبہ نگار ایوارڈ اپنے نام کیا۔ ان کی فلم ’’زرقا‘‘ کو تین نگار ایوارڈ دیے گئے تھے۔

پاکستانی فلم انڈسٹری کی اس نام ور ہستی نے یکم اکتوبر 1972ء کو ہمیشہ کے لیے اپنی آنکھیں موند لی تھیں۔ انھیں کینسر کا مرض لاحق ہوگیا تھا۔ ریاض شاہد نے اپنے دور کی مقبول فلمی اداکارہ نیلو سے شادی کی تھی۔ اداکار شان انہی کے بیٹے ہیں جو پاکستانی فلم انڈسٹری کا بڑا نام ہیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے