• ستمبر 29, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 29, 2026 6:48 صبح
  • پاکستان

اشیا کی نقل و حمل کے دوران ’’اسٹاک کی منتقلی،قابل ٹیکس سپلائی نہیں‘‘ کا نوٹ ساتھ رکھیں

سیلز ٹیکس میں ایک ہی رجسٹریشن نمبر کے تحت کاروبار کرنے والا فرد فیکٹری سے اپنے گودام تک اشیا کی منتقلی کو قابلِ ٹیکس سپلائی تصور نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس پر ڈیجیٹل انوائسنگ کی شرط عائد نہیں ہوگی۔

یہ وضاحت ایف بی آر کی جانب سے تازہ ترین سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 25 مجریہ 2026 میں کردی ہے۔ وضاحتی احکامات میں کہا گیا ہے کہ نئے طریقہ کار کے تحت کاروباری اداروں کے لیے ضروری ہوگا کہ ایسی اشیا کی نقل و حمل کے دوران مقررہ اسٹاک ٹرانسفر نوٹ ساتھ رکھیں، جس پر واضح طور پر "اسٹاک کی منتقلی، قابل ٹیکس سپلائی نہیں " درج ہو۔

آرڈر میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ جہاں سامان روانہ کرنے اور وصول کرنے والے دونوں مقامات ایک ہی ایس ٹی آر این رکھتے ہوں، وہاں فیلڈ فارمیشنز اسٹاک ٹرانسفر نوٹ کو عدم تعمیل کے ثبوت کے طور پر تصور نہیں کریں گی۔

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ریحان حنیف نے ایف بی آر کے سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 25 برائے 2026 کے اجراء کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے کاروباری سرگرمیوں کو سہولت فراہم کرنے اور پیداواری یونٹس سے ان کے اپنے گوداموں تک اشیاء کی بلاتعطل نقل و حرکت یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس آرڈر کا اجراکراچی چیمبر کی مسلسل کوششوں، مؤثر وکالت اور کاروباری برادری کو درپیش مشکلات کو اجاگر کرنے اور متعلقہ حکام سے عملی حل کے حصول کے لیے کی جانے والی انتھک محنت کا نتیجہ ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے