دنیا کا ویران جزیرہ جہاں 34 سال بعد پہلے بچے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا
بھارتی وزیر نے سوالات کرنے پر نوجوان کو سرِ عام تھپڑ جڑ دیا، ویڈیو وائرل
اے آئی سے ایک ارب افراد کی اموات، بل گیٹس نے خبردار کردیا
دو شوہروں اور بیٹے کا پراسرار قتل : پھانسی پانے والی عورت کی لرزہ خیز کہانی
ریاض (28 ستمبر 2026): سعودی عرب کی حکومت نے سرکاری اداروں کے قوانین میں بہتری لانے کے لیے انقلابی قدم اٹھا لیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب کی حکومت میں مملکت میں سرکاری اداروں کے قوانین کو بہتر بنانے کے لیے انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے عوامی مشاورت کا عمل شروع کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سعودی حکومت نے سرکاری اداروں کی رواں برس 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران عوامی مشاورت کے پلیٹ فارم Istitlaa کے ذریعے عوام سے تجاویز طلب کیں اور ان میں سے 500 تجاویز یامشوروں کو منظور کرتے ہوئے اداروں کے قوانین میں تبدیلیاں کیں۔
سعودی سینٹر برائے مسابقت اور کاروبار (SCCB) کے ذریعے چلائے جانے والے اس پلیٹ فارم کے توسط سے 54 سرکاری اداروں نے عوامی مشاورت کے لیے اقتصادی اور ترقی سے متعلق 209 مسودہ ضوابط شائع کیے، جن پر 8,475 تبصرے موصول ہوئے۔ پلیٹ فارم نے اسی مدت کے دوران تقریباً 1.6 ملین وزٹس ریکارڈ کیے تھے۔
عوامی تجاویز پر غور کے بعد سرکاری ایجنسیوں نے 500 سے زیادہ تجاویز کو منظور کرتے ہوئے اپنے قواعد وضوابط میں ترامیم کیں۔
عوامی مشاورت سے تبدیل کیے گئے قواعد وضوابط میں کچھ جرمانوں اور فیسوں میں کمی, بعض دفعات میں اوورلیپ اور نقل کو دور کرنا، ریگولیٹری تقاضوں کو ہٹانا یا اس میں ترمیم کرنا، بعض دفعات اور سرگرمیوں کے اطلاق کے دائرہ کار کو ایڈجسٹ کرنا شامل ہے۔
کچھ مضامین، ذمہ داریوں اور نفاذ کی مدت کو بھی ہٹایا گیا تاکہ ضوابط کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے اور انہیں لاگو کرنے اور ہدف بنائے گئے شعبوں کی ضروریات کے لیے زیادہ موزوں بنایا جا سکے۔
