• ستمبر 27, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 27, 2026 1:22 صبح
  • پاکستان

شہزادہ ہیری نے وعدہ پورا کرنے کے لیے کینیڈا میں طیارے سے چھلانگ لگادی

شوہر کے دوسری لڑکی کیساتھ ڈانس کرنے پر ناراض بیوی نے انتہائی قدم اٹھا لیا

آنکھوں کی بیماری کا علاج، نئی دوا امید کی کرن

بدنام زمانہ گینگسٹر کو شادی کیلیے 12 گھنٹے کی رہائی مل گئی

جوہانسبرگ : جنوبی افریقا کی تاریخ میں خواتین کے ہاتھوں کیے گئے مشہور ترین جرائم میں شمار ہونے والا ڈیزی ڈی میلکر کا مقدمہ آج بھی ایک پراسرار اور سنسنی خیز داستان کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

ڈیزی ڈی میلکر یکم جون 1886 کو پیدا ہوئی، بظاہر وہ ایک عام گھریلو زندگی گزارنے والی خاتون تھی، لیکن چند برسوں کے دوران اس کے دو شوہروں اور اکلوتے بیٹے کی یکے بعد دیگرے موت نے ایسا سوال کھڑا کردیا جس کا جواب بالآخر عدالت تک جا پہنچا۔

وہ ایک ایک تربیت یافتہ نرس تھی، اس پر تین افراد کے پراسرار قتل کا الزام تھا جس میں دو اس کے شوہر اور ایک بیٹا شامل تھا اور ہر فرد کی موت کے بعد اس نے ہزاروں پاؤنڈ مالیت کا فائدہ حاصل کیا۔،

ڈیزی نے 11 جنوری 1923 کو اپنے پہلے شوہر ولیم کاؤل کو کھو دیا، اس کی موت انتہائی تکلیف دہ حالات میں ہوئی، عینی شاہدین کے مطابق اس کے منہ سے جھاگ نکلتا، چہرہ نیلا پڑ جاتا اور جسم کو چھونے کی کوشش پر شدید اذیت ناک انداز میں چیختا تھا۔

اس موت کے بعد ڈیزی کو اپنے شوہر کی زندگی کی انشورنس سے 1ہزار795 پاؤنڈ ملے۔ اس وقت یہ خاصی بڑی رقم تصور کی جاتی تھی۔

پہلے شوہر کی موت کے تقریباً3 برس بعد ڈیزی نے دوبارہ شادی کرلی، اس بار اس کا شوہر رابرٹ سپروٹ تھا۔ 6 نومبر 1927 کو سپروٹ بھی تقریباً ویسی ہی علامات کے ساتھ چل بسا جیسی ولیم کاؤل کی موت کے وقت دیکھی گئی تھیں۔

لیکن اس بار معاملہ مزید آسانی سے ختم ہوگیا، سپروٹ کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا اور اس کی موت کو دماغی شریان میں خون بہنے سے منسوب کردیا گیا۔

ڈیزی کو اس موت کے بعد بھی مالی فائدہ ہوا۔ اسے تقریباً 4 ہزار پاؤنڈ وراثت میں ملے جبکہ اس کے شوہر کے پنشن فنڈ سے مزید 560 پاؤنڈ حاصل ہوئے۔

پھر کہانی نے ایسا رخ اختیار کیا جس نے پولیس اور عدالت کو چونکا دیا۔ 21جنوری 1931 کو ڈیزی نے سڈنی کلیرنس ڈی میلکر سے تیسری شادی کی۔

اگلے برس فروری میں ڈیزی ایک کیمسٹ کے پاس گئی اور آرسینک خریدنے کی کوشش کی۔ اس نے بتایا کہ زہر ایک بیمار بلی کو ختم کرنے کے لیے درکار ہے لیکن چند ہی دن بعد اس کا اکلوتا بیٹا روڈز کاؤل بیمار پڑگیا۔

روڈز نے ملازمت پر جانے سے پہلے اپنی والدہ کے تیار کردہ تھرماس سے کافی پی تھی اس کے بعد اس کی طبیعت تیزی سے بگڑ گئی اور 5 مارچ 1932 کو وہ بھی چل بسا۔

ابتدائی طور پر روڈز کی موت کو دماغی ملیریا قرار دیا گیا، ڈیزی کو اپنے بیٹے کی زندگی کی انشورنس سے مزید 100 پاؤنڈ ملے۔ یہیں سے شک کی وہ کڑی سامنے آئی جس نے پورے معاملے کو بدل کر رکھ دیا۔

ڈیزی کے پہلے شوہر ولیم کاؤل کے بھائی ولیم سپروٹ کو تینوں اموات میں مماثلت نظر آئی۔ اسے شبہ ہوا کہ شاید یہ محض اتفاق نہیں اس نے اپنے خدشات پولیس تک پہنچائے۔

15اپریل 1932 کو حکام نے تینوں لاشیں قبروں سے نکال کر دوبارہ معائنہ کیا، اس بار تحقیقات میں تینوں جسموں، یا ان سے باقی رہ جانے والے حصوں میں زہریلے مادے کے آثار ملے۔

پولیس نے ڈیزی کو تینوں قتل کے الزام میں گرفتار کیا۔ مقدمہ عدالت پہنچا تو استغاثہ نے تین اموات کو زہر دینے سے جوڑنے کی کوشش کی، لیکن شوہروں کے قتل کے معاملے میں ایسا ناقابل تردید ثبوت پیش نہیں کیا جاسکا جو عدالت کو سزا سنانے پر آمادہ کرسکتا۔

یوں ڈیزی پر تینوں قتل کا الزام عائد ہونے کے باوجود اسے صرف اپنے بیٹے روڈز کاؤل کے قتل میں مجرم قرار دیا گیا۔

عدالت کے سامنے یہ ثابت ہوگیا کہ اس نے اپنے بیٹے کو زہر دیا تھا، لیکن اپنے دونوں شوہروں کی موت میں اس کے ملوث ہونے کا الزام اسی درجے کے ثبوت سے ثابت نہ ہوسکا۔

30دسمبر 1932 کو ڈیزی ڈی میلکر کی سزا پر عمل درآمد کردیا گیا۔ اس وقت اس کی عمر 46 برس تھی۔

وہ جنوبی افریقا میں پھانسی پانے والی خواتین میں دوسری خاتون تھی۔ اس کے خلاف مقدمے میں تین اموات، زہریلے مادوں کے آثار، انشورنس سے حاصل ہونے والی رقوم اور ایک ایسے خاندان کی کہانی شامل تھی جس میں موت ہر بار ایک نئے سوال کو جنم دیتی رہی۔

سب سے بڑا سوال، تاہم، آج بھی یہی رہا کہ اگر ڈیزی نے اپنے دونوں شوہروں کو بھی زہر دیا تھا تو عدالت ان قتلوں کو ثابت کیوں نہ کرسکی؟ اور اگر اس نے اپنے بیٹے کو قتل کیا تو اس کی اصل وجہ کیا تھی؟

بیٹے کے قتل کا محرک کبھی پوری طرح سامنے نہیں آسکا، لیکن دستیاب عدالتی ریکارڈ نے ڈیزی ڈی میلکر کو جنوبی افریقا کی تاریخ کے مشہور ترین خواتین قاتلوں میں شامل کردیا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے