• اکتوبر 3, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 3, 2026 2:58 صبح
  • پاکستان

جی 7 کا ہنگامی ویڈیو لنک اجلاس فرانسیسی صدر کی سربراہی میں ہوا جس میں ساتوں رکن ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی

دنیا میں ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے جی 7 ممالک نے ہنگامی اسٹریٹیجک ذخائر سے 10 کروڑ بیرل تیل اور ڈیزل جاری کرنے پر اتفاق کرلیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ فیصلہ جی 7 رہنماؤں نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی قیادت میں ہونے والے ایک ہنگامی اجلاس میں کیا گیا۔

10 کروڑ پیٹرولیم اسٹریٹیجک ذخائر کا اجرا عالمی توانائی ایجنسی کے ذریعے فوری طور پر شروع ہوگا اور چار ماہ تک جاری رہے گا جبکہ ڈیزل کا ایک بڑا حصہ پہلے 20 دن میں مارکیٹ میں لایا جائے گا۔

جی 7 کے ہنگامی اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ رکن ممالک اور شراکت دار ممالک کے درمیان توانائی اور پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل محدود نہیں کی جائیں گی بلکہ تعاون جاری رہے گا۔

علاوہ ازیں یہ فیصلہ بھی ہوا کہ تقریباً 20 دن کے اندر عالمی توانائی ایجنسی کو اقدامات پر ایک جائزہ رپورٹ بھی پیش کرنا ہوگی اور ضرورت پڑنے پر آنے والے دنوں میں مزید ڈیزل ذخائر جاری کرنے پر بھی بات ہوگی۔

عالمی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے کہا ہے کہ ذخائر جاری کرنے کے فیصلے کے بعد تیل کی قیمتیں تقریباً پانچ ڈالر فی بیرل کم ہوئی ہیں۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے ہنگامی ڈیزل ذخائر مارکیٹ میں لائیں ورنہ امریکا سے یورپ کو ڈیزل کی برآمدات پر پابندی لگ سکتی ہے۔

خیال رہے کہ برطانیہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت پہلی مرتبہ دو پاؤنڈ فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے تاہم برطانوی وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ ملک میں ڈیزل کی فراہمی مستحکم ہے اور مختلف ذرائع سے ایندھن دستیاب ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیزل مہنگا ہونے کا اثر صرف گاڑیوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ نقل و حمل، خوراک اور دیگر روزمرہ اشیا کی قیمتیں بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔

واضح رہے کہ ایران نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ مسلط کیے جانے پر مارچ سے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے جس سے عالمی سطح پر پیٹرول، ڈیزل اور گیس کی قلت پیدا ہوگئی ہے اور ایندھن کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ دنیا کو مہنگائی کے سیلاب کا سامنا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے