• ستمبر 13, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 13, 2026 10:41 شام
  • پاکستان

چلتی ٹرین کے ساتھ مسافر کے گھسٹنے کی لزرہ خیز ویڈیو

ڈاکٹروں کا انوکھا کارنامہ، مریض کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر پلاسٹر کے بجائے گتا باندھ دیا

نوجوان لڑکوں کو لوٹنے والی لٹیری دلہن فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار، طریقہ واردات بھی سامنے آگیا

انڈہ ابالنے کا حیرت انگیز طریقہ : من پسند زردی کیسے بنے گی؟

عثمانی فتوحات کا رخ دفعتاً بدل جانے کو لوگ عالمگیر اسلامی اتحاد کی تحریک کا آغاز سمجھتے ہیں۔ ممکن ہے یہ سچ ہو مگر میرے خیال میں تو اس کی بڑی وجہ سلطنت کے استحکام کی خواہش تھی جو عثمانی حکرانوں کے دل میں فطری طور پر موجود تھی۔

اسلامی تاریخ میں ترکی کی خلافت کا مسئلہ اسی زمانے سے شروع ہوتا ہے جب سلطان سلیم نے مصر فتح کیا۔ اس زمانے میں موجودہ خلیفہ وہیں رہتا تھا۔ اس کے ہاتھ سے دنیاوی قوت نکل چکی تھی اور اس کا کام صرف اتنا رہ گیا تھا کہ جب مصر کے بادشاہ تخت پر بیٹھیں تو اس سے دعائے خیر کے طالب ہوں۔ مشہور ہے کہ سلطان سلیم خلیفہ کو استنبول لے آیا اور اس سے منصبِ خلافت حاصل کیا۔

سلیم کی فتوحات کی پہلی تاریخی دستاویز وہ فتح نامہ ہے جو اس نے ونیس اور ایران بھیجا۔ اس میں خلافت کے مسئلے کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ اگر سلطان سلیم کا سا شخص خلیفہ بننا چاہتا تو میرے خیال میں وہ ساری دنیا میں اس کا ڈنکا بجا دیتا۔ دوسری تاریخی دستاویز حسن طولون کی کتاب فتوحاتِ مصر ہے۔ اس کے مصنف نے سلیم کی فتحِ مصر کے واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھ کر لکھے ہیں۔ یہ ایک قلمی کتاب ہے جو برٹش میوزیم کے کتب خانے میں موجود ہے۔ جس زمانے میں ڈاکٹر عدنان اس کتب خانے میں تاریخی تحقیقات میں مصروف تھے انھیں یہ چیز ہاتھ آگئی۔ حسن طولون نے اس مہم کے تمام مدارج اور سلطان کے قیام مصر کا تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن خلافت کے مسئلے کا صرف ایک جگہ اختصار سے ذکر کر دیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ سلطان نے مصر کے علما سے استفتا کیا کہ ایک مسلمان فرمانروا کے لئے بے خلیفہ کی منظوری کے تخت پر بیٹھنا جائز ہے یا نہیں؟ انھوں نے فتوی دیا کہ جائز ہے۔ اس لئے سلطان نے وہیں گفتگو کو ختم کر دیا اور وہ خلیفہ سے ملنے کے لئے نہیں گیا۔

شاید خلیفہ کا استنبول لانا بھی محض افسانہ ہے۔ اس زمانے کے مؤرخوں نے اس کا ذکر تک نہیں کیا۔ اگر خلیفۂ اسلام استنبول میں آکر رہتا اور وہیں وفات پاتا تو اس کے مسکن اور مرقد کا تو پتہ ہوتا، مگر اس کے متعلق کوئی روایات تک موجو نہیں۔ بہرحال ترکی تاریخ میں خلیفہ اور خلافت کا ذکرنہیں آتا۔ اور اس سے معلوم ہوتا کہ سلیم اور اس کے بعد کے سلاطین نے مدت تک خلیفہ کا لقب اختیار نہیں کیا۔ اصل میں خلافت کا چرچا تو عبد الحمید ثانی کے زمانے میں شروع ہوا۔

اس میں شبہ نہیں کہ سلطان سلیم سچا مسلمان اور اسلام کی عظمت کا دل سے قائل تھا۔ جب وہ حلب میں تھا تو شریفِ مکہ نے اپنے بیٹے کے ہاتھ کعبے کی کنجیاں بھیجیں۔ مسجد میں خطیب نے پہلی بار سلیم کے نام کے ساتھ صاحب الحرمین الشریفین کے الفاظ کہے، سلیم نے کہا، میں صاحب الحرمین نہیں بلکہ خادم الحرمین ہوں۔ اس روز سے سلاطین ترکی کے القاب کا ایک نہایت اہم جزو خادم الحرمین الشریفین ہو گیا۔ خود سلیم اسے بے انتہا اہمیت دیتا تھا۔ جب مصر میں خطیب نے پہلی بار اس کے نام کے ساتھ یہ لقب پکارا سلیم نے جائے نماز کو ہٹا کر فرشِ مسجد پر سجدہ کیا۔

(ترکی کی نامور ادیب، صحافی اور سیاسی و سماجی کارکن خالدہ خانم کے لیکچرز کے مجموعے سے اقتباس)

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے