• ستمبر 21, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 21, 2026 7:08 شام
  • پاکستان

عمر بڑھنے کے ساتھ دن چھوٹے ہونے کا احساس کیوں ہوتا ہے؟ تحقیق

شادی کی تقریب میں دولہا کی مشین گن سے فائرنگ

جب 24 سال سے قید بچوں نے پہلی بار سورج کی روشنی دیکھی

آگ اور بجلی کے بغیر کھانا پکانے کا بیگ، حیرت انگیز ایجاد

پاکستان 1970 کی دہائی میں ایک تضاد کے ساتھ داخل ہوا۔ ملک نے دو دہائیوں کے دوران صنعتی شعبے میں نمایاں ترقی کی تھی، لیکن اس ترقی کے فوائد مساوی طور پر تقسیم نہیں ہوئے تھے۔ دولت اور مالی طاقت چند ہاتھوں میں مرتکز ہو چکی تھی، مزدوروں کی شکایات حقیقی تھیں، علاقائی عدم مساوات بڑھ گئی تھی اور مشرقی پاکستان کا احساسِ محرومی تباہ کن صورت اختیار کر چکا تھا۔ اس لیے اصلاحات ضروری تھیں ۔ فیصلہ کن سوال یہ تھا کہ معیشت کو کس نوعیت کی اصلاحات درکار تھیں۔

حصّہ اوّل پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

محبوب الحق نے بعد میں “22 خاندانوں “ کے بارے میں جو رائے دی، وہ آج بھی اہم ہے، کیونکہ اس سے ان دو معاملات میں فرق واضح ہوتا ہے جنہیں پاکستان کی سیاسی بحث میں بتدریج ایک ہی سمجھ لیا گیا تھا۔ محبوب الحق نے معاشی طاقت کے ارتکاز کی جانب توجہ دلائی تھی، لیکن بعد میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ خاندان خود ”وجہ نہیں بلکہ مسئلے کی علامت“ تھے۔ اصل مسئلہ مراعات، ترغیبات اور وسائل تک رسائی کے اس نظام میں تھا جس نے معاشی طاقت کے ارتکاز کو مضبوط اور مستقل بنا دیا تھا۔ یہ فرق اہم ہے۔ پاکستان کو اس بات کی ضرورت تھی کہ معاشی طاقت چند لوگوں تک مستقل طور پر محدود نہ ہو اور نئے لوگوں کے لیے آگے بڑھنے کے راستے بند نہ ہوں۔ اس مقصد کے لیے زیادہ مؤثر مسابقت، مالی وسائل تک وسیع رسائی، بتدریج بڑھنے والی شرحوں پر ٹیکس، کمپنیوں کے معاملات میں شفافیت، مزدوروں کا تحفظ اور اجارہ داری کو قابو میں رکھنے کے قابل اداروں کی تشکیل ضروری تھی۔ ان میں سے کسی اقدام کے لیے نجی کاروبار سے مخالفت ضروری نہیں تھی۔

ذوالفقار علی بھٹو نے ان معاشی ناہمواریوں اور دولت کے ارتکاز کو پیدا نہیں کیا تھا جن کا پاکستان کو 1971 میں سامنا تھا۔ تاہم، ورثے میں ملنے والے حالات کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ان حالات کے جواب میں اختیار کی گئی پالیسی کی ذمہ داری نظرانداز کر دی جائے۔ بھٹو حکومت ہی نے معاشی اصلاحات کے جائز مطالبے کو وسیع پیمانے پر قومیانے کے ایسے پروگرام میں بدلنے کا فیصلہ کیا جو معیشت کے لیے شدید خلل کا باعث بنا۔

جن مسائل کو مسابقتی پالیسی، بتدریج بڑھنے والی شرحوں پر ٹیکس، سرمائے تک وسیع رسائی، مزدور اصلاحات اور اجارہ دارانہ مراعات کے خاتمے کے ذریعے حل کیا جا سکتا تھا، ان کا مقابلہ ریاستی ملکیت میں غیرمعمولی توسیع کے ذریعے کیا گیا۔ چنانچہ بھٹو نے معاشی شکایت کو جنم نہیں دیا تھا، لیکن اسے قومیانے کی ایسی پالیسی میں تبدیل کرنے کی بنیادی سیاسی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے جس نے اپنے سیاسی مزاج اور نفاذ، دونوں لحاظ سے واضح طور پر انتقامی رنگ اختیار کیا اور پاکستان کی صنعتی ترقی کا راستہ بنیادی طور پر بدل دیا۔

1971 کی ایک ذاتی یاد بھی اس دور میں صنعتی طبقے کے خلاف بڑھتے ہوئے مخالفانہ رویے کی تصویر پیش کرتی ہے۔ میں نے یہ واقعہ پاکستان کے ایک معزز اور ابتدائی صنعتی خاندان کے ایک رکن سے براہِ راست سنا، جو کراچی میں منعقدہ ایک عشائیے میں موجود تھے۔ ان کے مطابق، بھٹو نے اپنے میزبان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ ان جیسے لوگوں کے پیچھے آئیں گے۔ اس وقت یہ بات شاید محض سیاسی جوش میں کیا گیا دعویٰ محسوس ہوئی ہو، لیکن اقتدار سنبھالنے کے بعد جب ان کی حکومت نے بڑے پیمانے پر قومیانے کا عمل شروع کیا تو اس بیان نے کہیں زیادہ تشویش ناک مفہوم اختیار کر لیا۔

یہ فیصلہ تیزی سے عملی پالیسی میں بدل دیا گیا۔ 1972 کے اقتصادی اصلاحات کے حکم نامے کے تحت دس بنیادی صنعتوں سے تعلق رکھنے والے بڑے نجی صنعتی ادارے ریاستی کنٹرول میں لے لیے گئے۔ 1974 میں بینکوں کو قومی ملکیت میں لیا گیا اور بعد میں یہ پروگرام مزید شعبوں تک پھیلا دیا گیا۔ دولت کے ارتکاز میں کمی، عوامی مفاد کا تحفظ اور اہم صنعتوں پر ریاستی اختیار قائم کرنے جیسے اعلان کردہ مقاصد اپنی جگہ جواز رکھتے تھے۔ لیکن مقاصد کا جائز ہونا اپنے آپ میں یہ ثابت نہیں کرتا کہ انہیں حاصل کرنے کے لیے اختیار کیے گئے معاشی طریقے بھی درست تھے۔بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ ملکیت اور کاروباری صلاحیت ایک ہی چیز نہیں تھیں ۔ ریاست قانون کے ذریعے کارخانوں اور بینکوں کی ملکیت یا ان کا انتظام تو سنبھال سکتی تھی، لیکن وہ اس جمع شدہ علم اور تجربے کو خودکار طور پر حاصل نہیں کر سکتی تھی جس نے ان اداروں کو قائم کیا اور چلایا تھا۔ صنعتی ترقی کے لیے منڈی کو سمجھنے کی صلاحیت، سرمائے کا انتظام، انتظامی مہارت، ٹیکنالوجی، رسدی سلسلے اور تجارتی خطرات مول لینے کی قابلیت ضروری ہوتی ہے۔ یہ صلاحیتیں وقت کے ساتھ پروان چڑھتی ہیں اور سرکاری نظام کے ذریعے ان کی نقل تیار کرنا آسان نہیں ہوتا۔

اس دہائی میں ملک کی معاشی سمت نمایاں طور پر تبدیل ہوئی، اگرچہ اس تبدیلی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے احتیاط ضروری ہے۔ آئی ایم ایف کے تخمینوں کے مطابق 1961 سے 1971 کے دوران حقیقی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی اوسط شرحِ نمو تقریباً 6.6 فیصد تھی، جو 1971 سے 1981 کے عرصے میں کم ہو کر 5 فیصد رہ گئی۔ دوسرے تاریخی اعداد و شمار 1970 کی دہائی کے بیشتر حصے میں صنعتی پیداوار کی ترقی میں اس سے بھی زیادہ نمایاں سست روی ظاہر کرتے ہیں ۔ اسی دوران پاکستان کو 1971 کی علیحدگی، ایک مربوط قومی منڈی کے خاتمے، تیل کے عالمی بحرانوں ، سیلابوں اور وسیع تر عالمی بے یقینی کے نتائج کا بھی سامنا تھا۔

اس لیے قومیانے کی پالیسی پاکستان کی معاشی سست روی کی واحد وجہ نہیں تھی۔ تاہم، نجی سرمایہ کاری، انتظامی تسلسل اور کاروباری اعتماد میں کمی کا یہ ایک اہم سبب ضرور بنی۔ اس پالیسی نے عین اس وقت معاشی ترغیبات کو بدل دیا جب پاکستان کو سرمائے میں مسلسل اضافے اور اپنی صنعتی بنیاد کو وسیع کرنے کی ضرورت تھی۔ اب طویل مدتی سرمایہ کاری پر غور کرنے والے کسی کاروباری شخص کو صرف تجارتی خطرات ہی نہیں دیکھنے تھے بلکہ اس امکان کو بھی پیشِ نظر رکھنا تھا کہ سیاسی کامیابی خود کسی کاروباری ادارے کو خطرے سے دوچار کر سکتی ہے۔چنانچہ بڑا نقصان صرف چند مخصوص کارخانوں ، بینکوں یا بیمہ کمپنیوں تک محدود نہیں تھا۔ اس عمل نے اس طریقہکار کو بھی متاثر کیا جس کے ذریعے کاروباری طبقہ اپنی اگلی نسل تیار کرتا ہے۔ صنعت کاری کے لیے ادارہ جاتی یادداشت ضروری ہوتی ہے؛ یعنی منڈیوں ، مالیات، ٹیکنالوجی، انتظام اور بین الاقوامی تجارت سے متعلق وہ علم جو کئی نسلوں میں جمع ہوتا ہے۔ جب ملکیت اچانک سیاسی مداخلت کی زد میں آ سکتی ہو تو سرمایہ کاری کے منصوبوں کی مدت مختصر ہو جاتی ہے، سرمایہ محتاط ہو جاتا ہے اور کاروباری افراد صنعتی توسیع کے خطرات مول لینے کے بجائے دولت کی ایسی صورتوں کو ترجیح دینے لگتے ہیں جو سیاسی مداخلت سے نسبتاً محفوظ ہوں۔ پاکستان کی تزویراتی غلطی یہ نہیں تھی کہ اس نے وسائل کی دوبارہ تقسیم کی کوشش کی۔ زیادہ معاشی عدم مساوات اور چند ہاتھوں میں مرتکز معاشی طاقت رکھنے والے ملک کو وسائل کی منصفانہ تقسیم اور اصلاحات، دونوں کی ضرورت تھی۔ بنیادی غلطی یہ تھی کہ بڑے پیمانے پر ادارہ جاتی اصلاحات کے بجائے ریاستی ملکیت کو اختیار کیا گیا، جس سے معیشت کی کاروباری بنیادیں کمزور ہوئیں ۔ بھٹو کو ایسا سرمایہ دارانہ نظام ورثے میں ملا تھا جس میں طاقت چند ہاتھوں میں مرتکز تھی، لیکن ان کی حکومت نے اس کا جواب ایسے انداز میں دیا جس سے سرمایہ دارانہ نظام کو ہی نقصان پہنچا۔ پاکستان کی 1970 کی دہائی کی معاشی ٹوٹ پھوٹ کو سمجھنے کے لیے یہ فرق بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

درست راستہ کاروباری مواقع کو محدود کرنا نہیں بلکہ انہیں وسیع کرنا تھا۔ پالیسی کا سوال یہ نہیں ہونا چاہیے تھا کہ ابتدائی 22 خاندانوں کو کیسے ختم کیا جائے، بلکہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ تیئسویں ، دو سوویں اور دو ہزارویں کاروباری شخصیت کے لیے آگے بڑھنا کیسے ممکن بنایا جائے۔ مسابقتی سرمایہ دارانہ نظام کا تقاضا یہ نہیں کہ کاروباروں کو بڑا ہونے سے روکا جائے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ کوئی بڑا ادارہ اپنے حجم کی بنیاد پر مستقل مراعات نہ خرید سکے اور نئے کاروباری افراد کو مالی وسائل حاصل کرنے، منڈی میں داخل ہونے اور پہلے سے قائم اداروں کا مقابلہ کرنے کے مواقع میسر ہوں۔ پاکستان نے بالآخر نجی کاروبار کے لیے دوبارہ گنجائش پیدا کی، لیکن وقت کے ساتھ ختم ہونے والے اعتماد اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کو محض ایک قانون واپس لے کر دوبارہ قائم نہیں کیا جا سکتا۔ اس تاریخی تجربے کا ملک میں آج جاری حکمرانی، انتظامی تشکیلِ نو اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی بحث سے براہِ راست تعلق ہے۔

اٹھارہویں آئینی ترمیم اور 2010 کے ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے ذریعے وفاق سے صوبوں کو بڑی ذمہ داریاں اور وسائل منتقل کیے گئے۔ لیکن صوبائی سطح سے نیچے اختیارات کی منتقلی آج بھی نامکمل ہے۔ آئین کا آرٹیکل 140-اے ہر صوبے کو پابند کرتا ہے کہ وہ مقامی حکومتوں کا نظام قائم کرے اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داریاں اور اختیارات منتخب مقامی نمائندوں کو منتقل کرے۔مالی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اختیارات اور وسائل کی یہ منتقلی کس قدر محدود رہی ہے۔ عالمی بینک کے 2026 کے ایک جائزے کے مطابق مجموعی حکومتی اخراجات میں مقامی حکومتوں کا حصہ 2005 میں تقریباً 10 فیصد تھا، جو 2024 میں کم ہو کر 5 فیصد سے بھی نیچے آ گیا۔ اس طرح پاکستان نے وفاق سے صوبوں کو تو خاصے اختیارات منتقل کیے، لیکن مقامی سطح پر اسی تناسب سے مضبوط مالی اور ادارہ جاتی اختیار قائم نہیں کیا۔

یہ معاملہ معاشی طور پر اہم ہے۔ معاشی سرگرمیاں آئینی خاکوں میں نہیں بلکہ شہروں، اضلاع اور علاقوں میں انجام پاتی ہیں۔ پیداواریت کا انحصار سڑکوں، ٹرانسپورٹ، زمین کے استعمال، پانی، نکاسی و صفائی، ہنرمندی، لائسنس کے نظام، بلدیاتی خدمات اور مؤثر شہری اداروں پر ہوتا ہے۔ ان میں سے بہت سے فیصلے اس وقت زیادہ مؤثر ہوتے ہیں جب حکومت مقامی مسائل کو سمجھنے کے لیے لوگوں کے قریب اور ان کے سامنے جواب دہ ہو۔

اگر پاکستان نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کے سوال پر دوبارہ غور کرتا ہے تو مقصد صرف مزید اسمبلیاں، وزارتیں یا سرکاری محکمے قائم کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ مالی اور سیاسی اختیارات کی منتقلی کے بغیر انتظامی تشکیلِ نو چھوٹے نقشے پر اسی مرکزیت کو دوبارہ پیدا کر سکتی ہے۔ بامعنی اختیارات کی منتقلی کے لیے وسائل کی یقینی فراہمی، جواب دہ منتخب مقامی حکومتیں ، پیشہ ورانہ انتظامیہ، شفاف خریداری کا نظام، مقامی سطح پر آمدنی پیدا کرنے کی صلاحیت اور ترقیاتی ترجیحات طے کرنے کا حقیقی اختیار ضروری ہیں۔

درست انداز میں قائم کیا گیا ایسا نظام معاشی سرگرمی کو مختلف علاقوں تک پھیلا سکتا ہے۔ مختلف شہروں اور خطوں کی اپنی اپنی معاشی خوبیاں ہیں۔ سیالکوٹ برآمدی صنعت میں، گوجرانوالہ انجینئرنگ اور دھات کی صنعتوں میں، فیصل آباد ٹیکسٹائل میں، سکھر زرعی معیشت کی خدمت کرنے والے ایک اہم مرکز کی حیثیت سے اور کراچی بندرگاہوں، مالیات، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ قومی پالیسی کو مجموعی معاشی استحکام، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ملک بھر میں ایک مشترکہ منڈی یقینی بنانی چاہیے، جبکہ مقامی اداروں کو اپنے علاقوں کی معاشی خوبیوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے زیادہ گنجائش ملنی چاہیے۔

یہاں تاریخ میں ایک اہم مماثلت دکھائی دیتی ہے۔ تقسیم نے کاروباری سرمائے اور تجارتی روابط کو نئے سرے سے تقسیم کیا۔ 1950 اور 1960 کی دہائیوں کی ترقیاتی پالیسیوں نے اس کاروباری توانائی کو صنعتی توسیع میں بدلنے میں مدد دی۔ بعد میں معاشی طاقت کے ارتکاز نے اصلاحات کے جائز مطالبات کو جنم دیا، لیکن 1970 کی دہائی کے ردعمل نے اس نظام کے ایک حصے کو متاثر کیا جس کے ذریعے سرمایہ کاری اور کاروباری صلاحیت جمع ہوئی تھی۔ بعد کے ادوار میں نجی شعبے کو آزادی دینے کے باوجود مسلسل مرکزیت نے معاشی سرگرمی کو مختلف علاقوں تک پھیلنے سے محدود رکھا ہے۔

تاہم، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کوئی ایسا نسخہ نہیں جو خود بخود تمام معاشی مسائل حل کر دے۔ کمزور اداروں کو بھی اسی آسانی سے غیرمرکوز کیا جا سکتا ہے جس طرح مضبوط اداروں کو، جبکہ مقامی بااثر گروہوں کا قبضہ، سرپرستی اور بدعنوانی صوبائی یا وفاقی سطح کے انہی مسائل کی مقامی شکل بن سکتے ہیں ۔ اسی لیے اختیارات کی منتقلی کا جواز خودمختاری کے ساتھ جواب دہی پر بھی قائم ہے اور آخرکار اس کا انحصار ان شہریوں اور اداروں کے معیار پر ہے جو اس نظام کو برقرار رکھتے ہیں ۔یہ پرانی تنبیہ کہ ”تعلیم کے بغیر جمہوریت، بے حد و حساب منافقت ہے“ یہاں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ حقیقی جمہوری اختیارات کی منتقلی کو تعلیم، شہری صلاحیت اور انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان کو 1960 کی دہائی کو دوبارہ پیدا کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس دور میں تیز رفتار ترقی تو ہوئی، لیکن اس کے ساتھ معاشی ارتکاز، محرومی اور علاقائی عدم توازن بھی پیدا ہوا۔ ملک کو اس دور کا جو وصف واپس حاصل کرنے کی ضرورت ہے، وہ ترقیاتی اعتماد ہے، یعنی یہ یقین کہ کاروبار، سرمایہ کاری، اہل ادارے اور طویل مدتی پالیسیاں کسی معیشت کا راستہ بدل سکتی ہیں۔

مقصد ایک زیادہ جمہوری سرمایہ دارانہ نظام ہونا چاہیے، ایسا نظام جو مرتکز ہونے کے بجائے مسابقتی ہو، سرکاری نظام پر انحصار کے بجائے کاروباری صلاحیت کی حوصلہ افزائی کرے اور معاشی طاقت کے روایتی مراکز تک محدود رہنے کے بجائے جغرافیائی طور پر زیادہ وسیع ہو۔ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی مجموعی معاشی اصلاحات، تعلیم، توانائی کی محفوظ فراہمی یا قانون کی حکمرانی کا متبادل نہیں بن سکتی۔ لیکن یہ ایسی ادارہ جاتی گنجائش پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہے جس میں معاشی سرگرمی پر چند لوگوں کی اجارہ داری کے بجائے اسے مختلف طبقات اور علاقوں تک پھیلایا جا سکے۔

ترقی کے راستے ہمیشہ کے لیے طے شدہ نہیں ہوتے۔ تارکینِ وطن سے ترقی تک، ارتکاز سے خلل تک، مرکزیت سے اختیارات کی منتقلی تک اور شاید پھر دوبارہ ترقی کی جانب، یہ راستہ اب بھی کھلا ہے، بشرطیکہ کامیابی اور ناکامی، دونوں کے اسباق کو سمجھا جائے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے