• ستمبر 30, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 30, 2026 3:49 صبح
  • پاکستان

بڑھکوں، دھکمیوں، بلند و بانگ دعوؤں کے بعد آخر کار پی ٹی آئی نے مذاکرات کی آفر کردی ہے

بڑھکوں، دھکمیوں، بلند و بانگ دعوؤں کے بعد آخر کار پی ٹی آئی نے مذاکرات کی آفر کردی ہے ۔بہتر تھا کہ ایسا پہلے کرتے تاہم اب بھی اس پیش کش کو ایک اچھا اور مثبت فیصلہ کہنا چاہیے۔ دیر آید درست آید ۔اس کے سوا اب کوئی چارہ کار بھی نہیں ہے۔تجزیہ نگاروں کو اس آفر کا مذاق نہیں بنانا چاہیے ، میرا خیال تو یہ ہے کہ حکومت کو یہ آفر قبول کرلینی چاہیے۔

گو حکومت کا اس وقت اپر ہینڈ ہے لیکن پھر بھی اس پیش کش کو قبول کرنا چاہیے کیونکہ سیاسی کشیدگی کا حل آخر کار مذاکرات ہی ہیں اور آخر دونوں کو مذاکرات کی میز پر ضرور آنا ہے اور تشدد، جھوٹے الزامات، دھمکیاں اور اپنی سیاست بچانے اور کارکنوں کے اشتعال سے بچنے کے ساتھ قومی مفادات کو ترجیح دینا سب سے ضروری ہے اور تشدد، غیر قانونی اقدامات اور مزید سختیوں کو روکنے اور کچھ حاصل کرنے کے لیے آپس میں مل کر بیٹھنا بھی ضروری ہے جس سے انتہائی اقدام سے بچا جا سکتا ہے۔

پی ٹی آئی کی سیاست کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس کے لیڈروں نے حالات کو دیکھ کر سیاست نہیں کی بلکہ جذبات اور دشنام طرازی کو ہی سیاست سمجھا ہے۔پی ٹی آئی کے ناتجربہ کار لوگوں نے ایسے ایسے بیانات دیے کہ لوگ حیران رہ گئے ۔ جب کوئی راستہ ہی نہ چھوڑا جائے اور جذبات میں آ کر ملک دشمن بیانات داغے جائیں تو حکومت کے پاس گورنر راج لگانے کا اختیار استعمال کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے مگر اس کا موقعہ کون دے رہا ہے، وہ دنیا دیکھ رہی ہے۔ کے پی میں گورنر راج لگانے کا راستہ کون ہموار کررہاہے۔ پی ٹی آئی کے لوگوں کو اس پر غور کرنا چاہیے۔

ہر وقت اپنے آپ کو مظلوم کہنے سے معاملہ حل نہیں ہو گا کیونکہ دنیا دیکھتی ہے کہ جو کچھ پی ٹی آئی والے کر رہے ہیں ایسے کام مظلوم لوگ نہیں کرتے۔ بہت سی باتیں ایسی ہیں جو پی ٹی آئی کے لیے تو اہم ہوں مگرخیبرپختونخوا کے عوام کے حق میں نہیں ہے۔اگر پی ٹی آئی کی قیادت افغانستان کے حق میں بات کرتی ہے اور افغان مہاجروں کی حمایت کرتی ہے تو اس کا واضح مطلب ہے کہ ایسا کر کے وہ خیبرپختونخوا کے عوام کا نقصان کر رہی ہے اور ان کے مفادات کے خلاف کام کر رہی ہے۔ یہ بھی حقیقت تسلیم کی جاتی ہے کہ اگر دھمکیوں اور ضد کی سیاست نہ کی جاتی تو بالاتروں کو انتہائی اقدام کی بات نہ کرنا پڑتی۔ بانی پی ٹی آئی نے تو ایسے لوگوں کو اپنی پارٹی دے دی ہے جن کا کوئی نام نہیں تھا۔

ان ہی ناتجربے کاروں نے پی ٹی آئی تقسیم کرا دی ہے جہاں سب صرف بانی کی رہائی پر دکھاوے کی سیاست کرکے خود کو چمکا رہے ہیں، کچھ عہدے انجوائے کررہے ہیں اور کچھ سیاسی کشیدگی برقرار رکھنے میں مصروف ہیں۔ ہر ایک اپنی چلاتا آ رہا ہے، بانی کی رہائی مطالبہ ضرور ہے مگر عملی طور پر مخلص کوئی نہیں۔ بانی کے باعث کسی کو اقتدار میسر ہے مگر بانی نے تو پارٹی میں کسی سینئر رہنما کو پارلیمنٹ میں پارٹی کی سربراہی کے قابل بھی نہیں سمجھا جو موجودہ عہدے بچانے کے لیے پارٹی کو اپنی مرضی سے انتہائی مقام پر لے جانا چاہتے ہیں۔

سابق وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور بھی بڑھکوں، دھمکیوں اور بلند و بانگ دعوؤں میں کم نہ تھے مگر ان کے دور میں کے پی اس مقام پر نہیں پہنچا تھا جہاں سہیل آفریدی نے اپنی بڑھکوں، جذباتی تقاریر اور دھمکیوں سے پہنچا دیا ہے، جہاں کے پی حکومت اور پی ٹی آئی دو ہزار کارکن اڈیالہ نہ لا سکے ، وہ وزیر اعلیٰ بیس لاکھ افراد کے ساتھ لانگ مارچ لے کر جانا تھا۔ اب حالات اور سختیوں سے مجبور ہو کر پی ٹی آئی مذاکرات کی طرف آنے کی کوشش کررہی ہے ۔ مگر حکومت سنجیدگی نہیں دکھا رہی اور مذاکرات کی صرف پیش کش کی جاتی ہے عملی طور بعض حکومتی عہدیدار مذاکرات نہیں چاہتے ۔

پی ٹی آئی مذاکرات میں مخلص ہوتی تو 27ستمبر کے لانگ مارچ کا اعلان نہ ہوتا جو جلد بازی میں سینئر رہنماؤں کی مشاورت سے کیا گیا ۔ عقل مندی کا مظاہرہ کرکے موجودہ صورت حال سے بچا جا سکتا ہے مگر جلد بازی میں پی ٹی آئی کے لیڈروں نے پارٹی کو یہ نقصان پہنچا دیا اور پی ٹی آئی حکومت کو مزید مضبوط کرنے کا باعث بن گئی ہے۔ اگر اب بھی مذاکرات میں سنجیدگی نہ دکھائی گئی تو حکومت کا کچھ نہ بگڑے گا مگر پی ٹی آئی کی سیاست کو زبردست نقصان پہنچے گا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے