• اکتوبر 7, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 7, 2026 11:38 صبح
  • پاکستان

کراچی میں لڑکیاں ای بائیکس بھی تیار کرنے لگیں

ایک رات میں 1500 افراد غائب : آسیب زدہ گاؤں کا 200 سال پرانا خوفناک راز آج بھی زندہ

ٹریفک پولیس اہلکاروں کے یونیفارم سفید ہی کیوں ہوتے ہیں؟

جوڑے کی جنگل میں انسٹاگرام لائیو کے دوران خودکشی، اہل خانہ بھی دیکھتے رہے

برسٹل: برطانیہ میں سوشل میڈیا کے ذریعے ایک 17 سالہ لڑکی کو ورغلا کر اجتماعی زیادتی کے 3 افغان مجرمان کو سزا سنا دی گئی۔

برطانوی میڈیا کے مطابق تین افغان شہریوں کو ایک نوعمر لڑکی کے ساتھ زیادتی کے جرم میں قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ تینوں ایک لاری میں چھپ کر برطانیہ سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم فرانسیسی پولیس نے انھیں روک کر پکڑ لیا۔

17 سالہ لڑکی کے ساتھ گینگ ریپ میں ملوث تینوں مجرمان افغان شہری ہیں، 21 سالہ مہراب صافی، 19 سالہ احوال احمد زئی، اور سلمان حبیب خیلی فرانس فرار ہو رہے تھے، تینوں مجرمان برطانیہ سے فرار ہونے سے قبل مختلف شہروں میں چھپتے رہے۔

مہراب صافی کو 15 سال، احوال احمد زئی اور سلمان حبیب خیلی کو 9،9 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، چوتھے کم عمر مجرم کو بھی جائے وقوع سے گرفتار کیا گیا تھا، تاہم قانونی وجوہ پر شناخت ظاہر نہیں کی گئی، 17 سالہ چوتھے مجرم کو نابالغوں کی جیل میں 2 سال 7 ماہ قید کی سزا کا حکم سنایا گیا ہے، اس نے برطانیہ سے فرار کی کوشش بھی نہیں کی تھی۔

لنڈسے کلینسی نے بچوں کے قتل کے بعد کیا کہا؟ گواہ کا عدالت میں بیان

محراب صافی، احوال احمد زئی اور سلمان حبیب کو گزشتہ سال برسٹل کے علاقے سینٹ وربرگس میں ایک گھر میں لڑکی کے خلاف متعدد جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا۔ تینوں کو 26 جون کو مجرم قرار دیا گیا تھا۔

اسنیپ چیٹ پر رابطہ ہوتا رہا

صافی کی پہلی ملاقات 17 سالہ لڑکی سے، جس کا نام قانونی وجوہ کی بنا پر ظاہر نہیں کیا جا سکتا، اس وقت ہوئی جب وہ کرسمس کی خریداری کر رہی تھی۔ اس کے بعد اس نے اس سے اسنیپ چیٹ کے ذریعے رابطہ بڑھایا اور اسے اپنے جال میں پھنسایا، پھر اسے برسٹل لانے کے لیے ٹیکسی کا کرایہ ادا کیا۔

تینوں افراد کو سزا سناتے ہوئے جج مائیکل کالم نے کہا کہ ان افراد کے ہاتھوں لڑکی کو اسمگل کیے جانے اور زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں اسے ’’ناقابلِ تصور‘‘ صدمے سے گزرنا پڑا ہوگا۔

عدالت میں متاثرہ لڑکی کی جانب سے دیا گیا بیان، جس میں اس واقعے کے اثرات بیان کیے گئے تھے، پڑھ کر سنایا گیا۔ لڑکی نے کہا کہ اس حملے نے اسے ’’صدمے سے دوچار‘‘ کر دیا ہے اور اب وہ گھر سے باہر نکلنے سے خوف محسوس کرتی ہے، اور ایک سال قبل وہ جس قسم کی انسان تھی اب ویسی نہیں رہیں۔

لڑکی نے کہا ’’میرے بہت زیادہ دوست تھے، میں کہیں زیادہ باہر جایا کرتی تھی اور زیادہ خوش تھی۔ اب میں نے باہر جانا چھوڑ دیا ہے، حتیٰ کہ عام طور پر گھر سے بھی نہیں نکلتی۔ اگر کبھی گھر سے باہر نکلتی ہوں تو صرف اپنی بہترین دوست یا اپنی ماں کے ساتھ۔ میں اکیلے باہر نہیں جا سکتی، حتیٰ کہ اس کا خیال بھی مجھے گھبراہٹ میں مبتلا کر دیتا ہے۔‘‘

متاثرہ لڑکی نے کہا ’’عام طور پر میرا دماغ میرے ساتھ پیش آنے والے صدمے کو مسلسل ذہن سے نکالنے کی کوشش کرتا رہتا ہے، لیکن جب میں جذباتی طور پر بہت کمزور محسوس کرتی ہوں تو یہ سب کچھ دوبارہ یاد آنے لگتا ہے اور میری حالت مزید خراب ہو جاتی ہے۔ کبھی کبھی میں خواب میں بھی اس واقعے کو دیکھتی ہوں، جس کی مجھے توقع نہیں تھی اور مجھے وہ خواب بالکل پسند نہیں آتے۔‘‘

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے