آنکھوں کی بیماری کا علاج، نئی دوا امید کی کرن
بدنام زمانہ گینگسٹر کو شادی کیلیے 12 گھنٹے کی رہائی مل گئی
آرم ریسلر نے بچی کے والد سے جان بوجھ کر ہار کر سب کے دل جیت لیے
2300 سال سے زائد قدیم ارسطو کا اسکول دریافت
واشنگٹن: امریکی سینٹ کام کا کہنا ہے کہ بحری ناکہ بندی کے دوران 122 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا گیا ہے، بحری جہاز یو ایس ایس باکسر خطے کی سمندری حدود میں موجود ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی سینٹ کا کہنا ہے کہ یو ایس ایس باکسر بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد میں معاونت کر رہا ہے۔ امریکی میرینزکی یو ایس ایس باکسر پر تربیتی مشقیں بھی جاری ہیں۔
25 ستمبر تک 122 تجارتی بحری جہازوں کا رخ تبدیل کیا جا چکا ہے، تجارتی بحری جہازوں کا رخ موڑنے کا مقصد ایران پر عائد بحری پابندیوں کی تعمیل یقینی بنانا ہے۔
دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی 7 روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کی تجویز مسترد کرتے ہوئے اپنے مشیروں کو بتایا کہ نومبر میں مڈ ٹرم الیکشن کے بعد ایران پر بمباری دوبارہ شروع کریں گے، کیوں کہ انھیں یقین نہیں کہ تہران ان کے مطالبات مانے گا۔
تہران کی تجویز کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جانا اور جوہری مذاکرات بحال کیے جانے تھے، جس کے بدلے میں امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرتا۔ یہ ناکہ بندی ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔
روئٹرز کے مطابق ایران ہفتے کے روز امریکی حکومت کے باضابطہ جواب کا منتظر تھا، جب وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے جس میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ جنگ میں جاری لڑائی ختم کرنے کی پیشکش کی گئی تھی۔
ایرانی صدر کا امریکا اور ایران کے تعلقات پر چینی صدر کی حمایت کا خیرمقدم
ایران نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران یہ سفارتی اقدام پیش کیا تھا۔ ایران کا کہنا تھا کہ یہ تجویز قطری ثالثوں کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچا دی گئی ہے اور اس کے نتیجے میں سات دن کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جا سکتی ہے اور خطے میں جاری لڑائی ختم کی جا سکتی ہے۔
