• اکتوبر 7, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 7, 2026 3:19 صبح
  • پاکستان

ٹریفک پولیس اہلکاروں کے یونیفارم سفید ہی کیوں ہوتے ہیں؟

جوڑے کی جنگل میں انسٹاگرام لائیو کے دوران خودکشی، اہل خانہ بھی دیکھتے رہے

پولیس کی گرفتار افراد کو ٹیلر سوئفٹ کے گانے بار بار سنانے کی دھمکی

دریشم 3 نے بیٹے کو قاتل بنا دیا، 2000 کلومیٹر سفر طے کر کے باپ کو کیسے قتل کیا؟

راجستھان کا 200 سال پرانا وہ آسیب زدہ گاؤں جہاں سنسان گلیاں، خستہ حال مکانات اور خاموش کھنڈرات خوفناک منظر پیدا کردیتے ہیں، یہاں بھوتوں کی چیخوں اور پراسرار قدموں کی کہانیاں آج بھی گردش میں ہیں۔

بھارتی ریاست راجستھان کے صحرائے تھر میں واقع کولڈھرا کا نام سنتے ہی ایک ایسی بستی کا تصور ابھرتا ہے جہاں تاریخ، خوف اور پراسرار واقعات ایک دوسرے میں گم ہو جاتے ہیں۔

کولڈھرا گاؤں کا شاندار ماضی

تیرہویں صدی عیسوی میں یہ گاؤں پالیوال برہمنوں نے آباد کیا تھا، پالیوال برہمن بہت محنتی، پڑھے لکھے اور کھیتی باڑی کے ماہر تھے۔ کولڈھرا ایک خوشحال اور بڑا گاؤں تھا، جہاں پالیوال برہمنوں کے تقریباً 84 دیہات آس پاس واقع تھے۔

تقریباً 200برس قبل یہاں آباد 84 دیہات کے 1500 سے زائد افراد ایک ہی رات میں ایسے غائب ہوئے کہ ان کے اجتماعی انخلا کا کوئی واضح تاریخی ریکارڈ آج تک سامنے نہیں آسکا۔

یہ کہانی 1825 کی ایک چاندنی رات سے شروع ہوتی ہے، اس رات پوری برادری پر خوف اور بے یقینی طاری تھی۔ اگلی صبح منظر ایسا تھا جیسے پوری آبادی کو زمین نگل گئی ہو گھروں میں رہائش کے آثار موجود تھے مگر لوگ غائب تھے۔

حسین لڑکی اور طاقتور وزیر کا دباؤ

ایک تاریخی روایت کے مطابق ریاست جیسلمیر کے طاقتور وزیر سلیم سنگھ کی نظر کولڈھرا کے سربراہ کی خوبصورت بیٹی پر پڑی، وہ مبینہ طور پر اس سے شادی کرنا چاہتا تھا اور اس نے پالیوال برادری کو صرف دو دن کی مہلت دیتے ہوئے دھمکی دی کہ انکار کی صورت میں بھاری ٹیکس عائد کیے جائیں گے، جو پوری زرعی برادری کو معاشی تباہی کے قریب پہنچا سکتے تھے۔

ڈیڑھ ہزار سے زائد افراد غائب

برادری نے دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے اجتماعی فیصلہ کیا اور پھر وہ واقعہ پیش آیا جس نے کولڈھرا کو ہمیشہ کے لیے ایک معمے میں تبدیل کردیا کیونکہ صبح ہوئی تو 1500 سے زائد افراد غائب تھے نہ کسی نے انہیں کہیں جاتے ہوئے دیکھا، نہ اجتماعی ہجرت کا کوئی واضح نشان ملا اور نہ یہ معلوم ہوسکا کہ وہ آخر گئے کہاں؟۔

کیا بستی پر کسی بددعا کا اثر ہے؟

کولڈھرا کے بارے میں سب سے خوفناک روایت یہ بھی ہے کہ پالیوال باشندوں نے بستی چھوڑتے وقت اسے بددعا دی کہ یہاں دوبارہ کوئی آباد نہ ہوسکے۔

وقت گزرنے کے ساتھ یہ کہانی مزید پراسرار ہوتی چلی گئی اور کولڈھرا کو ایک خوفناک آسیب زدہ بستی کے طور پر شہرت مل گئی۔

آج بھی مقامی سطح پر یہ دعوے کیے جاتے ہیں کہ سورج ڈوبنے کے بعد یہاں سرگوشیاں، چیخیں، قدموں کی آوازیں اور پراسرار لمس محسوس ہوتے ہیں، بعض افراد نے مبینہ طور پر انسانی ہیولے دیکھنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

رات کے اندھیرے میں کیا ہوتا ہے؟

بھارتی پیرا نارمل سوسائٹی نے ماضی میں 30 افراد پر مشتمل ٹیم کے ساتھ کولڈھرا میں رات گزارنے کی مہم بھی کی تھی۔ سوسائٹی کے بانی گورو تیواری کے مطابق ٹیموں نے وہاں مبینہ طور پر بے جسم آوازیں، چیخیں، قدموں کی آوازیں اور غیر معمولی لمس محسوس کیے۔

ان کے مطابق بعض آلات پر غیر معمولی برقی مقناطیسی سرگرمیاں، درجہ حرارت میں تبدیلیاں اور جامد برقی چارجز بھی ریکارڈ ہوئے، ایک مبینہ واقعے میں کھڑی گاڑیوں پر بچوں کے ہاتھوں کے نشانات اچانک نمودار ہونے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔

تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ سائنسی تصدیق موجود نہیں، جبکہ خود کولڈھرا کے بارے میں ماہرین اور مقامی افراد میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔

شام 6 بجے کے بعد داخلہ بند

کولڈھرا آج ایک محفوظ تاریخی مقام ہے اور جیسلمیر سے تقریباً 20 کلومیٹر دور واقع ہے، دن کے وقت یہاں سیاحوں کی آمد جاری رہتی ہے، تاہم شام 6 بجے یا سورج غروب ہونے کے بعد لوگوں کو وہاں رکنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہی پابندی اس پراسرار بستی کے بارے میں خوف اور تجسس کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

ویران گھروں، ٹوٹی دیواروں، تنگ گلیوں، قدیم کنوؤں اور سنسان چوکوں کے درمیان گھومتے ہوئے یہ تصور کرنا مشکل نہیں کہ تقریباً دو صدی قبل یہاں زندگی کس طرح رواں دواں ہوگی۔

بھوت پریت یا چھپایا گیا خزانہ؟

کولڈھرا کے بارے میں ایک اور سنسنی خیز دعویٰ یہ بھی ہے کہ بستی کے کھنڈرات کے نیچے قیمتی خزانہ یا سونا دفن ہوسکتا ہے۔

بعض مقامی افراد کا خیال ہے کہ بستی کو آسیب زدہ قرار دینے کی کہانی شاید لوگوں کو رات کے وقت وہاں جانے سے روکنے اور کھنڈرات میں موجود ممکنہ دولت کو محفوظ رکھنے کے لیے پھیلائی گئی۔

ایک مقامی سماجی کارکن کے مطابق 1997ء میں ایک جاپانی ماہرینِ آثار قدیمہ کی ٹیم کو کولڈھرا کے ایک گھر سے سونا اور دیگر قیمتی اشیا ملنے کا دعویٰ بھی کیا گیا تھا، جنہیں بعد میں حکومت نے اپنی تحویل میں لے لیا۔

لیکن تاریخ تو کچھ اور کہتی ہے

دوسری جانب ماہرین کا ایک حلقہ بھوتوں اور بددعا کی کہانیوں کو مسترد کرتے ہوئے کولڈھرا کے خالی ہونے کی زیادہ زمینی وجوہات پیش کرتا ہے۔

ان کے مطابق وقت کے ساتھ تجارتی راستوں میں تبدیلی، پالیوال برادری پر بڑھتے ٹیکس، مقامی حکمرانوں کا دباؤ اور معاشی مشکلات اجتماعی ہجرت کی بڑی وجہ ہوسکتی ہیں۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ پالیوال باشندے ممکنہ طور پر ایک رات میں مختلف علاقوں کی طرف منتقل ہوگئے تھے، جبکہ کچھ خاندان بعد میں راجستھان کے دوسرے علاقوں میں پھیل گئے۔

اصل سوال آج بھی باقی ہے

اگر یہ صرف اجتماعی ہجرت تھی تو پھر 1500 سے زائد افراد کے ایک ساتھ جانے کا واضح تاریخی ریکارڈ کہاں ہے؟ وہ کس راستے سے گئے؟ کہاں آباد ہوئے؟ اور اتنی بڑی آبادی کے اچانک غائب ہونے کا کوئی معتبر عینی شاہد اب تک کیوں سامنے نہیں آیا؟

کولڈھرا میں کئی راتیں گزارنے والے بعض افراد ماورائی سرگرمیوں کے دعوؤں کو صاف مسترد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے وہاں کوئی بھوت یا غیر معمولی مخلوق نہیں دیکھی۔ یوں ایک طرف خوفناک کہانیاں ہیں تو دوسری طرف ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو انہیں محض افسانہ قرار دیتے ہیں۔

آخر 1825 کی اس پراسرار رات ہوا کیا تھا؟

تقریباً دو صدیاں گزرنے کے باوجود اس سوال کا ایسا جواب سامنے نہیں آیا جو تمام کہانیوں، دعوؤں اور شکوک کو ختم کرسکے، شاید یہی نامکمل جواب کولڈھرا کو آج بھی بھارت کی سب سے پراسرار ویران بستیوں میں شمار کراتا ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے