دنیا کا ویران جزیرہ جہاں 34 سال بعد پہلے بچے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا
بھارتی وزیر نے سوالات کرنے پر نوجوان کو سرِ عام تھپڑ جڑ دیا، ویڈیو وائرل
اے آئی سے ایک ارب افراد کی اموات، بل گیٹس نے خبردار کردیا
دو شوہروں اور بیٹے کا پراسرار قتل : پھانسی پانے والی عورت کی لرزہ خیز کہانی
واشنگٹن: امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کو فون انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ رواں ہفتے ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کے لیے پر اُمید ہیں۔
ایران کی جنگ ختم کرنے کی تجویز مسترد کیے جانے کے ایک روز بعد صدر ٹرمپ نے اتوار کو فون انٹرویو میں کہا کہ انھیں توقع ہے کہ امریکی مذاکرات کار رواں ہفتے ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کریں گے۔
ٹرمپ نے کہا ’’وہ ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن یہ وہ معاہدہ نہیں جو میں کرنا چاہتا ہوں۔ یہ وہ معاہدہ ہے جس پر شاید ہم ایک سال پہلے رضامند ہو جاتے لیکن انھوں نے اپنی پوزیشن کا حد سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔‘‘
ایران کے خلاف دوبارہ حملے شروع کرنے سے متعلق سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا میں ہمیشہ اس بارے میں سوچتا رہتا ہوں۔ دریں اثنا، میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران سے جنگ جلد ختم ہونے کا امکان ہے، اور تیل کی قیمتیں بہت تیزی سے گرنے والی ہیں، تمام چیزوں کی قیمتیں نیچے آ رہی ہیں۔
امریکا کے ساتھ قیامت خیز جنگ کے لیے بھی تیار ہیں: عباس عراقچی کا امریکی ٹی وی کو انٹرویو
ایکسیوس کے مطابق قطر اور خطے کے دیگر ثالث امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم دونوں فریق اہم معاملات پر ایک دوسرے سے بہت دور ہیں۔ ایران کسی بھی مذاکرات میں آبنائے ہرمز اور امریکی بحری ناکہ بندی پر توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہے، جب کہ ٹرمپ انتظامیہ کا مطالبہ ہے کہ ایران جوہری معاملات پر رعایتیں دینے پر رضامند ہو۔
خطے کے دو ذرائع نے رواں ہفتے مزید مذاکرات سے متعلق ٹرمپ کے بیان کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں توقع ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا ایک اور دور آج پیر کے روز ہی شروع ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ دونوں فریقوں کے درمیان موجود اختلافات ختم ہو سکیں گے یا نہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ اس دوران امریکی فوج آبنائے ہرمز سے بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل میں سہولت فراہم کر رہی ہے، ہفتے کے اختتام پر جنگ شروع ہونے کے بعد سے سب سے زیادہ مقدار میں تیل آبنائے ہرمز سے گزرا۔ ٹرمپ نے کہا ’’20 ملین بیرل سے زیادہ۔‘‘ امریکی محکمہ دفاع کے ایک اہلکار نے بھی ٹرمپ کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جمعے کی رات 2 کروڑ 20 لاکھ بیرل تیل آبنائے ہرمز کے راستے برآمد کیا گیا۔
امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے گزشتہ منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کا نیا دور کیا تھا۔ قطری حکام نے بھی مذاکرات میں شرکت کی اور دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات پہنچائے۔ عراقچی نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور جوہری مذاکرات بحال کرنے کے لیے ایران کی شرائط وٹکوف اور کشنر کو پیش کیں۔
ایران نے تجویز دی کہ اگر امریکا اپنی بحری ناکہ بندی ختم کردے، تیل کی فروخت پر عائد پابندیاں ہٹا دے اور خطے میں جنگ بندی بحال کردے تو ایران ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور جوہری مذاکرات بحال کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم ٹرمپ نے ہفتے کو ایرانی تجویز مسترد کر دی۔
