کراچی میں لڑکیاں ای بائیکس بھی تیار کرنے لگیں
ایک رات میں 1500 افراد غائب : آسیب زدہ گاؤں کا 200 سال پرانا خوفناک راز آج بھی زندہ
ٹریفک پولیس اہلکاروں کے یونیفارم سفید ہی کیوں ہوتے ہیں؟
جوڑے کی جنگل میں انسٹاگرام لائیو کے دوران خودکشی، اہل خانہ بھی دیکھتے رہے
واشنگٹن(7 اکتوبر 2026): امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بحیرہ احمر میں امریکی بحریہ کے ہیلی کاپٹر کے گرنے سے متعلق ایرانی میڈیا کی خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔
سینٹ کام کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بحیرہ احمر میں امریکی بحریہ کا کوئی ہیلی کاپٹر نہیں گرا اور ایرانی میڈیا کی یہ اطلاعات سراسر جھوٹی ہیں۔
کمانڈ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں موجود تمام امریکی فوجی طیارے اور اہلکار مکمل طور پر محفوظ ہیں اور ان کا تمام تر ریکارڈ موجود ہے۔
ایرانی میڈیا کا دعویٰ اور ریڈار کا اسکرین شاٹ
اس سے قبل ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے اور نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نیوز نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی بحریہ کا ایم ایچ-60 آر ہیلی کاپٹر ایمرجنسی کوڈ جاری کرنے کے بعد سعودی عرب کے ساحلی شہر ینبع کے قریب بحیرہ احمر میں گر کر تباہ ہو گیا ہے۔
🚫 CLAIM: Iranian state media has been pushing false reports that a U.S. Navy MH-60R helicopter crashed in the Red Sea after declaring an emergency last night. ✅ FACT: Reports of a downed U.S. Navy helicopter in the Red Sea are not true. All U.S. military aircraft and personnel across the Middle East are safe and accounted for. — U.S. Central Command (@CENTCOM) October 6, 2026
🚫 CLAIM: Iranian state media has been pushing false reports that a U.S. Navy MH-60R helicopter crashed in the Red Sea after declaring an emergency last night.
✅ FACT: Reports of a downed U.S. Navy helicopter in the Red Sea are not true. All U.S. military aircraft and personnel across the Middle East are safe and accounted for.
— U.S. Central Command (@CENTCOM) October 6, 2026
ایرانی میڈیا کی جانب سے ایک ریڈار اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا گیا تھا جس میں بلندی صفر یا 175 فٹ دکھائی گئی تھی۔
یہ تردید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان سات ماہ سے جاری جنگ کو ختم کرنے کی کوششوں میں ڈیڈ لاک کا سامنا ہے۔
قطر کے ثالثی کردار کے حوالے سے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ مذاکرات اور پیغامات کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے تاکہ اس تنازع کا سفارتی حل نکالا جا سکے، تاہم ایرانی قیادت کی جانب سے تاحال سخت بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
