• ستمبر 16, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 16, 2026 11:48 صبح
  • پاکستان

رپورٹس کے مطابق یہ 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بموں کی اسرائیل کو حالیہ برسوں میں سب سے بڑی مجوزہ فروخت ہوسکتی ہے

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اسرائیل کو تقریباً 2.8 ارب ڈالر مالیت کے نئے دفاعی پیکیج کے تحت 2 ہزار پاؤنڈ وزنی ہزاروں بم فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز اور واشنگٹن پوسٹ کے مطابق مجوزہ پیکیج میں 40 ہزار بم شامل ہیں، جن میں 20 ہزار MK-84 اور 20 ہزار BLU-117 بم شامل ہوں گے۔ پیکیج میں 20 ہزار I-2000 Penetrator warheads بھی شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بموں کی اسرائیل کو حالیہ برسوں میں سب سے بڑی مجوزہ فروخت ہوسکتی ہے۔ امریکی حکام نے بتایا ہے کہ اس سودے کے بارے میں کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کو غیر رسمی طور پر آگاہ کیا جاچکا ہے، تاہم پیکیج ابھی حتمی منظوری کے مراحل میں ہے۔

MK-84 ایک بھاری بم ہے جسے سخت اور زیرِ زمین اہداف کے خلاف بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، جبکہ اس کے وسیع دھماکہ خیز اثرات کے باعث گنجان آبادی والے علاقوں میں اس کے استعمال پر ماضی میں شہری ہلاکتوں کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے غزہ اور لبنان میں اس نوعیت کے امریکی ساختہ بم استعمال کیے ہیں، جبکہ 2024 میں بائیڈن انتظامیہ نے شہری ہلاکتوں کے خدشات کے باعث ایک شپمنٹ روک دی تھی۔ بعد میں ٹرمپ انتظامیہ نے اس پابندی کو ختم کردیا تھا۔

مجوزہ نئے پیکیج کی مالیت اور حجم گزشتہ انتظامیہ کے دور میں اسرائیل کو 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بموں کی سابقہ فروخت سے بھی زیادہ ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس معاملے پر حتمی فیصلہ اور منظوری کا عمل ابھی جاری ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے