ٹیڈ کازنسکی : انتہائی ذہین طالب علم ’یونابومبر‘ کیسے بن گیا؟ ہوشربا داستان
امریکا میں ’شارک‘ سڑکوں پر تیرنے لگیں
درخت کی ٹہنی گرنے سے زخمی شہری کو 8 کروڑ معاوضہ دینے کا حکم
بھارت میں کیا اب گدھے نرس کی ذمہ داریاں نبھائیں گے؟ نرسنگ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری
ٹینیسی (یکم اکتوبر 2026): امریکا میں دو صدیوں کے بعد کسی خاتون مجرمہ کو مہلک انجکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی پہلی کوشش ناکام ہو گئی۔
امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت کی منتظر خاتون قیدی کرسٹا پائیک کو معافی کی درخواست مسترد ہونے پر سزا پر عملدرآمد کے لیے جیل حکام نے مہلک انجکشن دیا، تاہم یہ زہریلا انجکشن بھی مجرمہ کو موت کی نیند نہ سلا سکا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکا کی جنوب مشرقی ریاست ٹینیسی میں 50 سالہ خاتون کرسٹا پائیک کو عدالت نے 18 سال کی عمر میں قتل کر مجرم قرار دیا تھا۔ تاہم مجرمہ کی جانب سے معافی کی درخواست کے باعث سزا پر عمل نہ ہوسکا۔
اب معافی کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد گزشتہ روز مجرمہ کی سزائے موت پر عمل کرنے کے لیے اس انتہائی مہلک انجکشن لگایا گیا، تاہم جیل حکام کے مطابق انہیں اس میں ناکامی ہوئی ہے۔
خاتون کی سزا پر عملدرآمد میں ناکامی کے بعد متاثرہ مجرمہ کو جیل سے باہر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جب کہ اس میں بائی پولر ڈس آرڈر اور پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) کی تشخیص ہوئی تھی۔
تاہم اس تکلیف دہ عمل کے بعد مجرم خاتون کی موجودہ حالت کے بارے میں فوری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا۔
جیل حکام نے اس حوالے سے جاری ایک بیان میں کہا، "ٹینیسی کے محکمہ اصلاحات (Department of Correction) نے اٹارنی جنرل کے دفتر سے منظور شدہ، ریاست کے قانونی اور طے شدہ پھانسی کے طریقہ کار (پروٹوکول) کے ہر مرحلے پر عمل کیا۔”
بیان میں مزید کہا گیا، "پروٹوکول میں شامل مہلک انجیکشن کا کیمیکل مسلسل مؤثر ثابت ہوا ہے، اور یہ طریقہ کار آج کیے گئے اقدامات کے علاوہ کسی اضافی کارروائی کی اجازت نہیں دیتا۔
