• ستمبر 30, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 30, 2026 6:48 شام
  • پاکستان

فاٹا، پاٹا اور ری رولز کو بھی کم ٹیکس شرح صرف مخصوص شرائط پر ملے گی

وفاقی حکومت نے اسٹیل سیکٹر میں بجلی پر سیلز ٹیکس کی پوری صلاحیت کے مطابق وصولی کو یقینی بنانے کے لیے ملک کی اسٹیل انڈسٹری کے لیے بجلی پر سیلز ٹیکس کی شرح مزید سخت کردی، فاٹا، پاٹا اور ری رولز کو کم ٹیکس شرح صرف مخصوص شرائط پر ملے گی۔

اس حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء کے تحت 31 جولائی 2026ء کے جاری کردہ نوٹی فکیشن میں مزید ترامیم کردی ہیں۔ نوٹی فکیشن کے مطابق ری رولرز بجلی کے ہر یونٹ پر 30 روپے سیلز ٹیکس ادا کریں گے، فاٹا و پاٹا کے اسٹیل میلٹرز، کمپوزٹ یونٹس کیلئے بھی شرائط مزید سخت کردی ہیں، اگر مقامی اسکریپ استعمال کریں گے تو ہریونٹ پر 20 روپے جی ایس ٹی لگے گا 70 فیصد سے زائددرآمدی خام مال یا اسکریپ کیاستعمال پر 5 روپے یونٹ ٹیکس لاگو ہوگا۔

اسی طرح پانچ روپے یونٹ کے رعایتی ریٹ کا اطلاق سہ ماہی خریداری یا درآمدات کی بنیاد پر ہوگا، بجلی پر وصول کیا گیا سیلز ٹیکس ایڈوانس سمجھا جائے گا، بعد میں آوٴٹ پٹ ٹیکس کے خلاف ایڈجسٹ کیا جاسکے گا، بجلی کنکشن کا مالک بدلنے یا لیز پر دینے کے باوجود برقرار رہے گا۔

نوٹی فکیشن کے مطابق اسٹیل ری رولرز، خواہ درآمدی یا مقامی خام مال سے اسٹیل بارز تیار کریں، بجلی کے فی یونٹ استعمال پر 30 روپے سیلز ٹیکس ادا کریں گے، سابق فاٹا اور پاٹا میں مقامی طور پر قابل میلٹ اسکریپ استعمال کرنے والے اسٹیل میلٹرز اور کمپوزٹ یونٹس بجلی کے فی یونٹ استعمال پر 20 روپے سیلز ٹیکس ادا کریں گے تاہم اگر گزشتہ 12 ماہ کے دوران درآمدی خام مال یا ای ایف ایس میں رجسٹرڈ افراد سے براہ راست خریدے گئے ری میلٹیبل اسٹیل اسکریپ کا مجموعی استعمال 70 فیصد سے زیادہ ہو تو ایسے یونٹس بجلی کے فی یونٹ 5 روپے سیلز ٹیکس ادا کریں گے۔

سابق فاٹا اور پاٹا میں اسٹیل بارز تیار کرنے والے اسٹیل ری رولرز، خواہ درآمدی یا مقامی خام مال استعمال کریں، بجلی کے فی یونٹ 20 روپے سیلز ٹیکس ادا کریں گے، نئے قائم ہونے والے یا دوبارہ کاروبار شروع کرنے والے بند کاروباری اداروں یا اسٹیل مینوفیکچرنگ سے وابستہ رجسٹرڈ افراد کے لیے بجلی کے فی یونٹ 5 روپے کی کم شرح سیلز ٹیکس کی اہلیت کا تعین سہ ماہی درآمدات یا خریداری کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

نوٹی فکیشن کے مطابق بجلی کے استعمال کی بنیاد پر وصول کیا جانے والا سیلز ٹیکس ایڈوانس نوعیت کا ہوگا اور اسٹیل میلٹرز، کمپوزٹ یونٹس اور ری رولرز اسے آوٴٹ پٹ سیلز ٹیکس کے خلاف ایڈجسٹ کرسکیں گے۔

نوٹی فکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کے پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے جب تک یہ ثابت نہ ہوجائے کہ متعلقہ مینوفیکچرر اسٹیل میلٹر یا کمپوزٹ یونٹ ہے تب تک اسے ری رولر تصور کیا جائے گا۔ نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کے اسٹیل کاروبار سے منسلک بجلی کا کنکشن لیز یا کسی اور انتظام کے باعث ملکیت یا کاروبار کی نوعیت تبدیل ہونے کے باوجود وہی برقرار رہے گا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے