• اکتوبر 6, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 6, 2026 1:13 شام
  • پاکستان

پولیس کی گرفتار افراد کو ٹیلر سوئفٹ کے گانے بار بار سنانے کی دھمکی

دریشم 3 نے بیٹے کو قاتل بنا دیا، 2000 کلومیٹر سفر طے کر کے باپ کو کیسے قتل کیا؟

ویڈیو: نوجوان نے بلندی سے گرنے والے بچے کو عین وقت پر بچا لیا

سی این جی بھروانے کے دوران کار میں زوردار دھماکا، فوٹیج جاری

اسلام آباد (6 اکتوبر 2026): آئی پی پیز کو غیر استعمال شدہ بجلی کے نام پر کتنی ادائیگیاں کی جاتی ہیں اس حوالے سے اہم خبر سامنے آئی ہے۔

پاور ڈویژن نے بجلی کی پیداواری کمپنیوں کو کیپسٹی پیمنٹس سے متعلق بیانیہ مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ آئی پی پیز کو غیر استعمال شدہ بجلی کے نام پر ادائیگیاں نہیں کی جاتی ہیں۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ کیپسٹی پے منٹس پاور پلانٹس کو بجلی پیدا کرنے کے قابل رکھنے کے لیے کی جاتی ہیں۔ کیپسٹی پیمنٹس میں پلانٹس کی اصل لاگت، قرضوں کی ادائیگی، آپریشنل اخراجات اورکمپنیوں کا منافع شامل ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ کیپسٹی پیمنٹس کا صرف 20 فیصد کمپنیوں کو جاتا ہے۔ پیداوار پلانٹس 80 فیصد قرض اور 20 فیصد سرمائے کی بنیاد پر لگائے جاتے ہیں۔ اس ماڈل کا مقصد بجلی کی پیداوار بڑھانا اور سستی بجلی پیدا کرنا ہے۔

مہنگے پاور پلانٹس صرف ضرورت کے وقت بجلی پیدا کرنے کیلیے چلائے جاتے ہیں، ایسے پاور پلانٹس گرڈ استحکام کو یقینی بنانے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہیں۔

سرکاری دستاویز کے مطابق مالی سال 26-2025 میں کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں 1863 ارب روپے کی ادائیگیاں کی گئیں، جن میں 944 ارب قرضوں کی ادائیگی اور 471 ارب آپریشنل ادائیگیوں پر مشتمل ہیں۔

پاور ڈویژن کے مطابق قرضوں کی مرحلہ وار ادائیگی کے باعث وقت کے ساتھ کیپسٹی پیمنٹس میں کمی آتی جا رہی ہے۔

آئی پی پیز ہر سال اربوں ڈالر کا چونا حکومت کو لگا رہے ہیں، خواجہ آصف

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے